نظریاتی طور پر مردہ دانش فروش وجاہت مسعود کا کالم (پاک سعودی معاہدہ اور نظریاتی مردہ خانہ) دراصل معاہدے کو سیکولر اور غیر نظریاتی عینک سے دیکھنے کی ایک کوشش ہے، مگرحقیقت یہ ہے کہ پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ خالصتا حرمین شریفین کے تحفظ اور امت مسلمہ کی سلامتی کے تناظر میں ہوا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد مذہب کو سیاست میں استعمال کرنا نہیں بلکہ ان مقدس مقامات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہےجو پوری امت کےعقیدےکامرکزہیں۔ موصوف ’’دانش فروش‘‘ اسے محض ’’مذہبی بیانیہ‘‘ قرار دے کر نظر انداز کر رہے ہیں حالانکہ سعودی عرب اور پاکستان کا یہ تعاون خطے کے امن اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔مختصر یہ کہ یہ معاہدہ مذہبی انتہا پسندی نہیں بلکہ حرمین شریفین کے تحفظ اور مسلم امہ کے دفاع کے لئے ہے۔ موصوف کا موقف زمینی حقائق اور امت کے اجتماعی عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان اور سعودی عرب دو ایسے برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے تعلقات کی بنیاد صرف سفارت کاری یا تجارت پر نہیں بلکہ عقیدہ، مذہب اور مشترکہ ورثے پر قائم ہے۔
17ستمبر 2025ء کو دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ نہ صرف ایک تاریخی قدم ہےبلکہ یہ امت مسلمہ کے لیے اتحاد، ترقی اور سلامتی کی نوید بھی ہے۔ یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور مسلمان ممالک کو اپنے تحفظ اور مستقبل کی تعمیر کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔اس معاہدے میں چند اہم نکات شامل کئے گئے ہیں جن کی بدولت اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
ایک ملک پرحملہ دوسرےملک پرحملہ تصور کیا جائے گا۔فلسطین، کشمیر اور اسلاموفوبیا جیسے مسائل پر مشترکہ موقف اپنایا جائے گا۔فوجی تربیت، اسلحہ سازی اور انسداد دہشت گردی میں باہمی تعاون کو فروغ دیاجائے گا۔ سعودی عرب پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔تیل و گیس کے شعبے میں طویل المدتی معاہدے کیے جائیں گے۔سب سے اہم شق یہ ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری پاک فوج کے جوانوں کو سونپی گئی ہے یہ تمام نکات اس معاہدے کو محض ایک رسمی دستاویز کے بجائے عملی اور ٹھوس بنیاد فراہم کرتے ہیں۔یہ معاہدہ امت مسلمہ کے لیے کئی حوالوں سے غیر معمولی فوائد کا حامل ہے:
فرقہ واریت کا خاتمہ:آج عالم اسلام فرقوں اور گروہوں میں بٹ کر اپنی قوت کھو رہا ہے۔ یہ معاہدہ مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دے کر اس تقسیم کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔اسلام کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا:عالمی سطح پر اسلام کو دہشت گردی اور شدت پسندی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ اتحاد دنیا کو یہ باور کرائے گا کہ اسلام امن، بھائی چارے اور ترقی کا دین ہے۔مسلم مسائل پر مشترکہ موقف‘فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ مسائل پر ایک آواز بن کر دنیا کے سامنے آنا امت مسلمہ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس سے عالمی اداروں میں مسلمانوں کے موقف کو تقویت ملے گی۔عالمی فورمز پر ایک آواز‘پاکستان اور سعودی عرب کا اتحاد دوسرے اسلامی ممالک کو بھی قریب لاسکتا ہےجس سے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں امت مسلمہ کی ایک مضبوط اجتماعی حیثیت سامنے آئے گی۔تاریخ گواہ ہے کہ معاہدے اکثر سیاسی دبائو اور وقتی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں لیکن یہ معاہدہ اس قدر حساس ہے کہ اس کی خلاف ورزی امت مسلمہ کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ دشمن طاقتیں پہلے ہی اس اتحاد سے خوفزدہ ہیں اور وہ اسے ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گی۔ لہٰذا پاکستان اور سعودی عرب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاہدے کو ہر قسم کے دبائو سے بالاتر ہو کر نافذ کریں۔ مستقل رابطہ، اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی ہی اس معاہدے کو کامیاب بنانے کی ضمانت ہے۔اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ معاشی اعتبار سے بھی سامنے آئے گا۔
سعودی عرب اگر پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتا ہے تو نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ توانائی کے بحران پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔ تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی اور خطے میں ایک معاشی انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے میں ترقی اورجدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوگی۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔ سعودی عرب کے پاس جدید اسلحہ اور مالی وسائل ہیں۔ اگر یہ دونوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو یکجاکرتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں طاقت کے توازن کو مسلمانوں کے حق میں بہتر بنا سکتا ہے۔ حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری پاک فوج کودینا اس اعتماد کا ثبوت ہےجو سعودی قیادت پاکستان پر کرتی ہے۔یہ معاہدہ محض پاکستان اور سعودی عرب تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری مسلم دنیا پر مرتب ہوں گے۔فرقہ واریت اور خانہ جنگی میں کمی آئے گی۔نوجوانوں کو ایک نئی امید اور راستہ ملے گا۔اسلامی دنیا ایک سیاسی و دفاعی بلاک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
عالمی میڈیا پر اسلام کا مثبت اور امن پسند چہرہ اجاگر ہوگا۔اگر اس معاہدے پر پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ عمل درآمد کیا گیا تو مستقبل میں یہ عالم اسلام کو ایک مضبوط سیاسی، معاشی اور عسکری قوت بناسکتا ہے۔ توانائی اور سرمایہ کاری کے منصوبے خطے میں خوشحالی لائیں گے، جبکہ مشترکہ حکمت عملی مسلم مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد دے گی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمان نوجوانوں کے دلوں میں اتحاد، ترقی اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوگا۔آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ 17ستمبر 2025 ء کا پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ یہ معاہدہ اسلام کے اس پیغام کو دنیا کے سامنے لاتا ہے کہ اسلام امن، ترقی اور اتحاد کا ضامن ہے۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب اس معاہدے کو اخلاص، اعتماد اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں تو یہ اتحاد صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان آپس کے اختلافات بھلا کر ایک پرچم تلے جمع ہوں تاکہ دنیا کو دکھایا جاسکے کہ امت مسلمہ آج بھی زندہ اور متحد ہے۔