(گزشتہ سے پیوستہ)
مختصریہ کہ چابہارسے متعلق امریکی اقدام نے ہندوستان کو مادی،اسٹریٹجک اورسفارتی طورپرنقصان پہنچانے کاامکان بڑھادیاہے اوریہی وہ مقام ہے جہاں دہلی کی منصوبہ بندی کودوبارہ ورق وار کرنالازمی ہو جاتاہے کہ مودی کے دہرے کردارپرکیسے پردہ ڈالا جائے۔
میڈیارپورٹس،جوحالیہ دنوں میں آئیں،اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شہبازشریف اور ٹرمپ کےدرمیان اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے دائرے میں ملاقات کے امکانات زیر ِغور ہیں رپورٹس یہ بھی کہتی ہیں کہ پاک فوج کے سربراہ یادیگردفاعی اعلیٰ حکام بھی ممکنہ گفت وشنید میں شریک ہوسکتے ہیں مگریہ ملاقات حتمی طورپرطے شدہ نہیں بلکہ ممکن کی صفت سے جڑی ہے؛اگریہ ملاقات ہوتی ہے توپاک سعودی دفاعی معاہدہ لازماً زیرِبحث آئے گا کیونکہ امریکااس معاہدے کے خطے پراثرات اورخاص طورپراس کے اسرائیل و ہندوستان پر اثرکوسمجھنے کاخواہاں ہوگا۔
لہٰذااس حوالے سے کہاجا سکتا ہے کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ بطورِ موضوع ممکنہ طورپرآئندہ بات چیت کاحصہ بن سکتاہے،خاص طورپراگرامریکی انتظامیہ خطے میں اس معاہدے کے جیوپولیٹیکل پرسوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔واشنگٹن کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ سعودی عرب صرف اس کی چھتری کے نیچے رہے،لیکن اب جبکہ پاکستان اس کادفاعی شریک بن رہاہے،توامریکاکویقیناخدشہ ہوگا۔اس ملاقات میں پاکستان کے جوہری پروگرام پربھی سوال اٹھ سکتاہے،اورواشنگٹن یہ سمجھنے کی کوشش کرے گاکہ کیااسلام آباداپنی ایٹمی صلاحیت کوعرب دنیاکی طرف جھکاسکتاہے یا نہیں۔ سیاسی حقیقت یہ ہے کہ ایسی ملاقاتیں فوری نتائج کی ضامن نہیں ہوتیں مگراگرملاقات ہوتی ہے تو امریکی مفادات، خلیجی رشتے اورجوہری سکیورٹی کے موضوعات لازمی زیرِبحث آئیں گے۔اس میں پاک سعودی معاہدے کے دفاعی وسیاسی مضمرات پر واشنگٹن کی فکری جانچ پڑتال متوقع ہے۔
حالیہ دورے کے دوران صدرٹرمپ نے برطانوی قیادت کی اس ممکنہ مرضی کہ وہ فلسطینی ریاست کوتسلیم کرے پرکھلے لفظوں میں اختلاف ظاہرکیاکہ یہ ایک متنازع اقدام ہے اوروہ اس سے اتفاق نہیں کرتے؛یہ اعتراض دراصل امریکاکی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس میں وہ اسرائیل کے ہراقدام کی پشت پناہی کرتاہے اورفلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنتاہے۔برطانیہ میں داخلی سیاست کادبائو ہے کہ وہ فلسطین کے ساتھ انصاف کرے اوراسے ریاست تسلیم کرے لیکن امریکااس کوامن کے خلاف اقدام قرار دے رہاہے۔
برطانوی وزیراعظم کی طرف سے خلافِ توقع فلسطینی ریاست کی تائیدپرغورنے عالمی طبقے میں بحث چھیڑدی ہے۔اس بیان پر عالمی وعلاقائی ردِ عمل متعددرنگوں میں آیا،ایک طرف برطانیہ کے داخلی سیاسی حلقے نے اپنے فیصلے کی حمایت کی،تودوسری جانب اسرائیلی اورکچھ امریکی حلقوں نےتحفظات کااظہارکیا؛عرب دنیااورفلسطینی قیادت نے عمومی طورپراس رجحان کوخوش آئند سمجھا۔
اس اختلافِ رائے نےعالمی سطح پریہ واضح کردیاہے کہ فلسطینی مسئلے پریورپ اور امریکا ایک صفحے پرنہیں ہیں۔عرب دنیا کے لئے یہ امیدکی کرن ہےکہ شاید یورپ میں کچھ ممالک فلسطینی عوام کی آوازسنیں گے،لیکن امریکاکااعتراض اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل کے معاملے پرواشنگٹن کسی نرمی کاقائل نہیں۔ سیاسی معنویت یہ ہے کہ برطانیہ جیسابڑا یورپی ملک اگرفلسطینی ریاست کوتسلیم کرےتوعالمی سفارتکاری ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے اورامریکی صدرکی مخالفت اس بات کی علامت ہےکہ اس معاملے میں عالمی دائرہ کارمیں اختلافات عیاں ہیں۔یہ جھگڑافلسطینی مسئلے کے حل کی راہ میں نئی سیاسی محاذآرائیاں کھڑا کر دے گااورخطے کی سفارتی حکمتِ عملیوں پرنمایاں اثرڈال سکتاہے۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض دوحکومتوں کے درمیان کاغذی دستخط نہیں بلکہ تاریخ کےصفحات پر لکھاگیاا یک نیاباب ہے۔اس میں خطے کی سیاست کارخ بدلنے کی صلاحیت ہے۔ اگر ہم تاریخ کے آئینے میں دیکھیں توایسے معاہدے کبھی بھی وقتی نہیں رہے ،یہ آنے والے زمانوں کی سیاست کے خدوخال تراشتے ہیں۔
تاریخ وہ آئینہ ہےجوآنے والےکل کےنقش پڑھاتی ہے،اسی طرح دیکھاجاسکتاہے کہ چینی اقتصادی وسفارتی توسیعات،پاک سعودی دفاعی بندھن اور امریکی پالیسیوں کی تبدیل شدہ بیانئے کاایک نیاجغرافیائی وسیاسی نقشہ تیارکررہی ہیں۔ہرنکتہ آزادنثرکاایک شفافہ ہے چین کا بڑھتاہواقِبِلہ،پاک سعودی معاہدے کاہندوستان پراثر، امریکاکی غیر یقینی پالیسیاں اوربرطانیہ کی ممکنہ سفارتی پیش رفت جیسے فیصلوں کے ذریعے ایسامنظربناتے ہیں جو جنوبی اورمغربی ایشیا کی سیاست کودشواریان یارخ دے سکتے ہیں۔
یہ معاہدہ محض الفاظ کامجموعہ نہیں بلکہ تاریخ کانیاموڑہے۔یہ وہ لمحہ ہے جوآنے والے زمانے کی سیاست کونئی راہیں دکھائے گا۔ اگرآج دہلی کویہ معاہدہ دھچکالگ رہاہے توآنے والے کل میں یہ اس کے لئےکمرتوڑبوجھ ثابت ہوسکتاہے۔پاکستان نے یہ پیغام دے دیاہے کہ وہ محض ایک ریاست نہیں،بلکہ امتِ مسلمہ کی ڈھال ہے۔ہردورکی سیاست اپنے پیچھے نشان چھوڑتی ہے،اورقوموں کے فیصلے یاتوانہیں عظمت کی شاہراہ پرگامزن کرتے ہیں یازوال کی کھائی میں دھکیل دیتے ہیں۔سعودی پاکستان معاہدہ دراصل اس تاریخی سوال کاجواب ہےکہ امتِ مسلمہ اپنی اجتماعی سلامتی کےباب میں کس سمت بڑھ رہی ہے۔اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کے لئے یہ ایک بڑادھچکاہے،مگراصل اہمیت اس حقیقت کی ہے کہ مسلمان ممالک اب اپنی تقدیرکے فیصلے خودکرنے لگے ہیں۔چین کی ثالثی،سعودی عرب کی تعمیرنو ،اور پاکستان کی دفاعی قوت یہ بات یاددلاتے ہیں کہ اگردلوں میں اتحاداور قدموں میں عزم ہوتودنیاکی کوئی طاقت راہوں کی دیوارنہیں بن سکتی۔
اقوامِ متحدہ کی مجالس ہوں یاعالمی ایوانوں کی سیاست، فلسطین کاسوال ہویاایران کابحران سب اسی اٹل سچائی کی گواہی دیتے ہیں کہ طاقت اب یک رخی نہیں رہی۔یہ وقت ہے کہ مسلم دنیااپنی تاریخ کے سبق دہراتے ہوئے وحدت کی لڑی میں نظرآئے جیساکہ اقبال ؒنے کہاتھا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
ان نکات سے واضح ہوتاہے کہ چین خطے میں نئی طاقت کے طورپرابھررہاہے،جوصرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ سفارتی ثالثی بھی فراہم کررہاہے۔سعودی عرب کی ترقی اور سلامتی کے منصوبوں میں چین کی گہری شمولیت ہندوستان کومزیدپیچھے دھکیل رہی ہے۔ امریکا کی پالیسیوں کابدلائو دہلی کے لئے مسائل پیدا کر رہا ہے، خصوصاً چابہار جیسے منصوبے میں۔اقوامِ متحدہ جیسے عالمی فورمزپرپاکستان کے پاس اپنی پوزیشن مزیدمضبوط کرنے کا موقع ہے۔
فلسطین کامسئلہ ایک بارپھرعالمی سفارتکاری میں مرکزیت اختیارکررہاہے،اوریورپ وامریکاکے درمیان اس پراختلاف کھل کرسامنے آرہاہے۔یہ معاہدہ محض آج کا واقعہ نہیں بلکہ آنےوالےکل کااشارہ ہے۔تاریخ کے پنوں پریہ باب اسی صورت میں سنہری ہوگاجب امت اس سے بیداری،اتحاداورخوداعتمادی کا سبق لے کرآگے بڑھے۔یہی وہ پیغام ہے جواس مقالے کے ہرنکتے سے دینامقصودہے،اوریہی وہ چراغ ہے جس سے قاری کے دل میں روشنی کی لوپیدا کرنے کی ایک ادنیٰ کوشش کی ہے۔
رہے نام میرے رب کا،جودلوں کے حال سب سے بہترجانتاہے!