تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جتھوں کے ذریعے فیصلے منوانے کی روایت نے معاشروں کو بربادی، تقسیم اور عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں دیا ، کراچی میں الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے ، جس نے روشنیوں کے شہر کراچی کو بربادی کے گھاٹ اتارنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی ناک کے نیچے ، پولیس اور فورسز کی آنکھوں کے سامنے یہ عفریت پروان چڑھا جس نے ، ہنستے بستے شہر کو آسیب زدہ بناکر رکھ دیا ، ہزروں لوگ جان سے گئے ، معیشت تباہ ہوئی اور کراچی کی نفیس اور ذہین اردو بولنے والی کمیونٹی کا تعارف ہی نہیں نفسیات تک بدل ڈالی ، بالآخر ایک وسیع آپریشن سے معاملہ حل کرنا پڑ ا۔ یہ سب کیوں ہوا؟ کیسے ہوا ؟ صرف اس لئے کہ سیاسی مفادات کے تحت اس جتھے کو وقت پر روکا نہیں گیا ، نظر انداز کیا گیا ۔ اب یہی سب کچھ کشمیر میں دہرانے کی کوشش دکھائی دے رہی ہے ۔ہجوم ہنگامہ کر سکتا ہے، وقتی شور مچا سکتا ہے مگر دیرپا اصلاحات صرف دلیل، استقامت اور شفاف قیادت سے جنم لیتی ہیں۔افسوس کہ ہمارے ہاں ہر جماعت،تنظیم اورکمیٹی اپنے ایجنڈےکو قومی بیانیہ بنا کر پیش کرتی ہے،چاہے اس کے نتائج عوام کو مزید انتشار اور انارکی کی طرف ہی کیوں نہ دھکیل دیں۔کشمیر میں اٹھنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات،کانوں کو کتنے ہی بھلے کیو ں نہ لگتے ہوں ،سوال تو یہ ہے کوئی مطالبہ عوامی مفاد، بنیادی سہولتوں، معاشی انصاف اور سماجی حقوق سمیت کتنا ہی دلکش کیوں نہ ہو کیاہجوم کے دبائو پر مانا جانا چاہئے ؟ کسی قانون ضابطے اور آئینی طریقہ کار کی پرواہ کئے بغیر؟ اگر یہی پیمانہ بن گیا تو پھر ریاست کہاں گئی ؟ معاشرتی استحکام کا کیا بنے گا؟کیا ضمانت ہے کہ آج ایک جتھہ حکومتوں کو بلیک میل کر رہا ہے تو کل کوئی دوسرا نہیں اٹھے گا ؟، سڑکیں دفاتر بند کرواکے نئے مطالبات لے کر نہیں آئے گا ؟ یہ سلسلہ کہاں تک چلے گا اور کہاں تک برداشت کیا جا سکے گا ؟ دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک بھی مثال لا سکتا ہے کہ جب جتھوں کی بلیک میلنگ سے قانون سازی کی گئی ہو اور معاشرہ خوشحال یا کم ازکم پر امن ہی رہ پایا ہو؟حالیہ جتھے کی نیت پر شبہ نہ بھی کیا جائے ، انہیں سوفیصد مخلص اورمحب وطن مان بھی لیا جائے،حالانکہ جو لب ولہجہ اور زبان وہ استعمال کر رہے ہیں،اس سے ان کے عزائم اور مستقبل کو سمجھنا قطعی مشکل نہیں ، لیکن آج اگر ان کی بات صرف ا سلئے نام لی جائے کہ ایک مخصوص علاقے میں ہنگامہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بھی تو یہی کر رہی ہیں،کیا وہاں بھی سرنڈر کرلینا چاہئے؟ مان لیتے ہیں کہ یہ لوگ کسی کے ایجنٹ نہیں،کل اگر بھارت یا کوئی اور دشمن بڑی سرمایہ کاری سے کوئی نیا جتھہ لے آیا تو کیا؟ جب ایک بری مثال بن چکی ہوگی تو اسے روکنا کیسے ممکن ہو سکے گا ؟سوال یہ نہیں کہ مطالبات اچھے ہیں یابرے،سوال مطالبات کرنے والوں کی نیت کا بھی نہیں،یہ بھی نہیں کہ وہ خود اٹھے ہیں یا کسی کے اشارے پر متحرک ہیں،سوال یہ ہےکہ ریاست اور قانون کو یرغمال بنانے کی اجازت کسی کو،کیوں دی جائے؟جمہوریت مکالمے اور دلیل کی بنیاد پر چلتی ہے، نہ کہ ڈنڈے اور دباٗؤ پر۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ مطالبات مانے جائیں،اصل خطرہ یہ ہے کہ قانون سازی کو کسی جتھے کے ہاتھوں یرغمال کیوں بننےدیا جائے ۔ایکشن کمیٹی کے نام پر جو تماشہ برپا ہے، وہ دراصل مطالبات کی آڑ میں ریاست کے ستونوں پر کاری ضرب ہے۔ یہ لوگ کبھی عوام کے خیرخواہ بن کر سامنے آتے ہیں، کبھی حقوق کے علمبردار کہلاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا مقصد صرف فتنہ انگیزی اور اداروں کی جڑیں کمزور کرنا ہے۔یہ وہ مصلحین ہیں جو اصلاح کے بجائے فساد کے بیج بورہےہیں۔حقوق کے نام پرعوام کے ذہنوں میں زہر گھولنا، انہیں ریاست کے مقابل لا کھڑا کرنا،سیاسی جماعتوں کو بے وقعت کرنااور پارلیمان کو بے وقعت دکھانا اس سے بڑی ملک دشمنی کیا ہوگی؟ وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی کوشش اچھا اقدام ہے ، جمہوریت کا حسن ہے ، لیکن کیا سیاسی و پارلیمانی میراث کو چند شوریدہ سروں کے ہاتھوں یرغمال ہونے دیا جائے گا ،یا اس تماشے کے پس منظر میں جھانک کر سازش کو پہچاننے کی کوشش بھی کی جائے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی دراصل لمحہ امتحان ہے،آزاد کشمیر حکومت کے لئے بھی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی سیاسی ڈھانچے کے لئے بھی ، کہ وہ اپنی سیاسی قوت کو متحرک کرتے ہوئے کس طرح سے اس صورتحال سے نمٹتے ہیں ۔
یہ جو عوامی مسائل کے ترجمان ہیں، یہ ہیں کون؟ کیا ان کا ماضی ،ان کا حال کسی سے مخفی ہے؟ کیا یہ وہی بیوپاری نہیں جنہوں نے برسوں سے بازار کی روح کو نوچا ، ناجائز منافع خوری، دونمبر اشیاء کی فروخت سے عوام کی جیب کاٹی ، غریب کا خون چوسا، حیرت کی بات نہیں کہ اپناحساب دینے کوتیارنہیں مگرعوامی حقوق کے نام پردوسرے کےگریبان میں ہاٹھ ڈالنے کا لائسنس ان کو چاہئے ، کیوں ؟یہ کیسا تماشہ ہے کہ جو کل تک ترازو کے پلڑوں میں ملاوٹ تولتے رہے، آج حق و انصاف کے نام پر جھنڈے اٹھائے کھڑے ہیں، کیسے یقین کرلیں کہ یہ سب مصلح ہیں جبکہ ان کی کاروباری لوٹ مار اب بھی جاری ہے،منافع خوری اور سب کچھ سمیت ۔ انہیں عوام کی جگہ صرف اپنے کھاتوں اور تجوریوں کی فکر ہے۔ اگر واقعی غمخوار ہوتے تو اشیاء ارزاں کرنے میں پہل کرتے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو چھوڑ دیتے، اور اپنی لوٹ کھسوٹ کا حساب عوام کو پیش کرتے۔ لیکن مجال ہے جو کبھی ایسا ہوا ہویا ایسا ہونے کی کوئی توقع بھی ہو ۔المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاست اور سماج ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں دلیل کی جگہ دھونس اور مکالمے کی جگہ مجمع آرائی لے چکی ہے،حالیہ شور و غوغا بظاہر عوامی مسائل کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے مگر پس منظر میں ایک اور کہانی ابھرتی ہے، جس میں اصلاح کم اور انتشار زیادہ ہے۔اے اہل کشمیر اپنے اصل حق اور اصل دشمن دونوں کو پہچانیں، ورنہ یہ “حقوق کے ٹھیکیدار” ہمیشہ مجبوریوں کا سودا کرتے رہیں گے۔ اب فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم جتھوں کے شور میں کھو جائیں یا دلیل کی روشنی میں اپنی منزل تلاش کریں۔