Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے

تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توکچھ صفحے ایسے نکلتے ہیں جن پرخون کے دھبے اورآنسوؤں کے داغ ثبت ہوتے ہیں۔ فلسطین کی داستان بھی انہی میں سے ایک ہے ۔ایک ایساباب جس میں ظلمتوں کی سیاہی بھی ہے اورقربانیوں کانوربھی۔70برس سے زیادہ عرصہ بیت گیا،مگر اس قوم کے خواب اب تک ادھورے تھے۔ طاقتور ایوانوں نے اسے نظر انداز کیا،بڑے بڑے علمبرداروں نے اس کی آواز دبائی، لیکن صداؤں کی گونج کودبانے والاکب کامیاب ہواہے؟
تازہ بین الاقوامی رپورٹس(ستمبر2025) کے مطابق تقریبا157ممالک باقاعدہ طورپر ریاستِ فلسطین کی خودمختاری‘سٹیٹ ہڈ کوتسلیم کرچکے ہیں۔ کینیڈا،آسٹریلیا،برطانیہ ،فرانس اورپرتگال کے بعد فرانس، بیلجیم،لِکسمبرگ،مالٹا، اندورااور موناوسمیت حالیہ یورپی اعلانات نے تسلیم کرنے والوں میں بڑی تبدیلی پیداکی،اوراسی لہرنے مجموعی عددکو 157 تک پہنچادیا۔یورپی یونین کے27 میں سے16 ارکان تسلیم کرچکے ہیں جبکہ چندمزید ممالک نے اس کوتسلیم کرنے کاعندیہ دے دیاہے۔اورآج،وقت کے صحیفے پرایک نئی سطرلکھی گئی ہے۔ان ممالک نے اس مظلوم قوم کوتسلیم کرکے گویایہ مان لیا ہے کہ تاریخ کاقرض اداکرنا لازم ہے،اور انصاف کی شمع بجھائی نہیں جاسکتی۔ یہ لمحہ صرف فلسطین کالمحہ نہیں،بلکہ پوری انسانیت کے جاگ اٹھنے کالمحہ ہے۔گویاان ممالک نے اس مظلوم قوم کوتسلیم کرکے گویایہ مان لیا ہے کہ تاریخ کاقرض اداکرنالازم ہے،اورعدل کی شمع بجھائی نہیں جاسکتی۔یہ لمحہ صرف فلسطین کالمحہ نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے جاگ اٹھنے کالمحہ ہے۔
یہ صدیوں کی بے قراری اورعشروں کی خونچکاں جدوجہدکے بعدتاریخ کاوہ موڑہے جب ان ممالک نے بالآخرفلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے کااعلان کیا ۔ یوں لگتاہے کہ ظلمت کی رات میں افق پرامیدکاایک چراغ روشن ہوگیاہے۔ان چاراہم ممالک کایہ فیصلہ محض سفارتی کاغذپرثبت الفاظ نہیں بلکہ عالمی سیاست کی بساط پرایک نئے خانے کی جنبش ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ طاقتور اقوام بھی اب فلسطین کے مسئلے کونظراندازنہیں کرسکتیں۔یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ دنیاکے سیاسی افق پر ’’طاقت کا بیانیہ‘‘کمزورپڑ رہا ہے اور’’انصاف کا بیانیہ‘‘ اپنی جگہ بنارہاہے۔
یہ فیصلہ عالمی سیاست کے طویل اورپرپیچ سفرمیں ایک نئی کروٹ کی حیثیت رکھتاہے۔برسوں تک طاقت کے ایوانوں میں صرف ایک آوازگونجتی رہی‘ طاقت ہی حق ہے مگرآج پہلی باروہی طاقتور اقوام انصاف کی دہلیزپرسجدہ ریزنظرآتی ہیں۔یہ تبدیلی اس حقیقت کااعلان ہے کہ اب وقت آگیا ہے جب عالمی ضمیرظلم کے بوجھ تلے مزیددبنے سے انکارکررہا ہے ۔یورپی یونین کے سولہ ممالک کے بعدبرطانیہ کی فضامیں بھی ایک نیااعلان گونجا۔ وزیراعظم سرکیئرسٹارمرنے اپنے ویڈیوخطاب میں کہا کہ آج امن اوردوریاستی حل کی امیدکوزندہ کرنے کیلئے،میں واضح طورپراعلان کرتاہوں کہ برطانیہ فلسطینی ریاست کوباضابطہ طورپرتسلیم کرتا ہے۔ یہ اعلان محض الفاظ نہیں، صدیوں کے بوجھ تلے دبی ایک قوم کے لئے نئی زندگی کی نویدہے۔
یہ اعلان صرف سفارتی میزوں پرنہیں ہوا،بلکہ مغربی شہروں کی گلیوں اورسڑکوں پراٹھنے والی صداؤں نے اس کاسنگ بنیادرکھا۔ مظاہرے، جلوس، یونیورسٹیوں میں طلبہ کے پرجوش عزم، اورانسانی حقوق کے کارکنوں کی جدوجہدنے حکمرانوں کومجبورکردیاکہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرِثانی کریں۔ان ممالک میں فلسطین کوتسلیم کرنے کافیصلہ صرف عالمی دباؤکانتیجہ نہیں،بلکہ مقامی عوامی رائے،احتجاج اورانسانی حقوق کی تحریکوں کی کامیابی بھی ہے۔مغربی معاشروں میں فلسطینی عوام کے لئے ہمدردی اب سیاسی طاقت میں ڈھل رہی ہے۔یہ بات اس امرکی دلیل ہے کہ رائے عامہ کادباؤاگرمسلسل اورمنظم ہوتوایوانِ اقتدارکے دروازے کھول سکتاہے۔یہ لمحہ یاد دلاتا ہے کہ عوامی رائے اگرمسلسل اورپرجوش ہوتوطاقت کے ایوانوں کوبھی جھکناپڑتاہے۔
کینیڈااورآسٹریلیادونوں نے اس ہفتے نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اتوارکے روزبرطانیہ،کینیڈا،آسٹریلیااور پرتگال نے فلسطینی ریاست کے وجودکوتسلیم کرنے کااعلان کیاجبکہ مزید ممالک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے80ویں اجلاس کے دوران ایساکرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔توقع ہے کہ آنے والے چند گھنٹوں میں بیلجیئم ، فرانس،سان مارینو، لکزمبرگ ،مالٹااوراندورابھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں گے۔یوں عالمی ادارہ ایک بارپھرمظلوموں کی آہ و زاری کاگواہ بنااوربڑی طاقتیں اپنے دیرینہ تعصب کے پردے چاک کرنے پرمجبورہوئیں۔
یہ فیصلہ اور اعلان مسلم دنیاکیلئے ایک کسوٹی اور آئینے کا درجہ رکھتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگرکینیڈا، آسٹریلیا،برطانیہ اورپرتگال انصاف کیلئےکھڑے ہو سکتے ہیں تومسلم حکمرانوں کے لب کیوں سل گئے ہیں؟ کیامسلمان حکمران اس موقع پرمحض تماشائی بنے رہیں گے یا امت کے اجتماعی شعورکوبیدارکرکے فلسطین کی عملی پشت پناہی کریں گے؟کیاامتِ مسلمہ کا فریضہ صرف دعاؤں اور قراردادوں تک محدود ہے؟ یہ لمحہ مسلم ممالک سے تقاضاکرتاہے کہ وہ محض بیان بازی اورمذمتی قراردادوں پراکتفانہ کریں بلکہ اپنے وسائل، سیاسی اثرورسوخ اورسفارتی صلاحیت کو بروئے کارلائیں۔ اگر غیرمسلم ممالک فلسطین کے حق میں کھڑے ہوسکتے ہیں تومسلم دنیا کی خاموشی تاریخ کے کٹہرے میں اورزیادہ مجرم ٹھہرے گی۔یہ وقت ہے کہ مسلم دنیااپنے وسائل اورسفارتی قوت کوفلسطین کی عملی مددمیں صرف کرے،ورنہ تاریخ ہمیں مزید شرمندہ کرے گی۔
کینیڈااس سفرکاپہلامسافرثابت ہوااورفلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے والاپہلاجی سیون ملک بن گیا۔یہ اقدام گویاشمالی نصف کرہ ارض میں انصاف کے نئے دریچے کھولنے کاپیغام ہے۔ برطانیہ کایہ اعلان محض حالیہ پالیسی نہیں بلکہ ایک تاریخی بوجھ،تاریخی بارِ گراں اوراحساسِ ندامت کااعتراف بھی ہے۔بالفوراعلامیہ اور فلسطین کی تقسیم وہ زخم ہیں جن میں برطانیہ کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔بالفوراعلامیہ سے لیکر فلسطین کی تقسیم تک برطانیہ اس قضیے کے جنم میں شریک رہا۔آج کااعتراف گویااس پرانے زخم پر مرہم رکھنے کی ایک کوشش ہے۔اگرچہ زخم ابھی بھی گہراہے،مگریہ قدم کم ازکم یہ بتاتاہے کہ تاریخ کے بوجھ سے آنکھیں ہمیشہ کے لئے نہیں چرائی جاسکتیں۔
آج کایہ قدم گویاصدیوں بعداس بات کا اقرار ہے کہ ظلم کی بنیادپرتعمیرکی جانے والی عمارتیں زیادہ دیرقائم نہیں رہ سکتیں۔یہ اعلان دراصل ماضی کے جرم پرتاخیرسے اداکیاگیا اعتراف ہے،اگرچہ ابھی بھی اس جرم کاکفارہ باقی ہے۔
کینیڈاکے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے آسٹریلیا نے بھی اعلان کیاکہ وہ فلسطین کوایک آزاداورخودمختار ریاست کے طورپرتسلیم کرتاہے۔ یوں جنوبی دنیاکی فضاؤں میں بھی امیدکی ایک لہردوڑگئی۔یہ تسلیم دراصل فلسطینی عوام کی صدیوں پرمحیط قربانیوں کااعتراف ہے۔یہ لمحہ فلسطینی عوام کے لئے خون میں نہائی ہوئی ایک امیدہے۔وہ بچے جوملبے تلے دب گئے،ان معصوم بچوں کاخون جوغزہ کی مٹی پربہایاگیا،وہ عورتیں جولاشوں کے پاس نوحہ کرتی رہیں،ان عورتوں کی آہیں جوکھنڈرات کے بیچ اپنے شہیدوں کودفناتی رہیں،اوروہ بزرگ جومسجداقصیٰ کے دروازے پراللہ سے انصاف مانگتے رہے اوران بزرگوں کی دعائیں جومسجداقصی کی دہلیز پرسجدہ ریزہیں،یہ اعلان ان سب کی قربانیوں کاایک اعتراف ہے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں