Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے

(گزشتہ سے پیوستہ)
برطانوی وزیراعظم کے یہ الفاظ صرف ایک سیاستدان کی تقریرنہیں بلکہ انسانیت کے لہومیں ڈوبی ہوئی صداہیں۔انہوں نے اعدادو شمارپیش کرتے ہوئے کہاکہ دسیوں ہزارافراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں،حتی کہ وہ بھی جومحض روٹی اورپانی کے حصول میں نکلے تھے۔یہ موت اورتباہی کے مناظرہم سب کوخوفزدہ کررہے ہیں،اگرچہ انسانی امدادمیں اضافہ کیاگیاہے لیکن صورتحال اب بھی ناگفتہ بہ ہے،اورکوئی فرد خاطر خواہ امدادنہیں پارہا۔برطانوی وزیراعظم نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرحدی پابندیاں ختم کرے، ظالمانہ ہتھکنڈے بندکرے اورانسانی امدادکے دروازے کھول دے۔اس اعلان کے جواب میں کس ڈھٹائی سے نیتن یاہونے کہاکہ اس طرح کے اقدامات دہشت گردی کو نوازنے کے مترادف ہیں۔تاہم برطانیہ نے واضح کر دیا کہ فلسطین کوتسلیم کرنے کامقصدکسی گروہ کونوازنا نہیں بلکہ ایک قوم کے دیرینہ حق کوتسلیم کرناہے۔
ادھر دنیاکی نئی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت چین بھی کھل کرمیدان میں آگیاہے۔چین نے عالمی برادری سے پرزوراپیل کی ہے کہ وہ فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کے حق میں آوازبلند کرے۔یہ اقدام نہ صرف عالمی انصاف کی جانب ایک نشانِ راہ ہے بلکہ مظلوم فلسطینی قوم کے حق خودارادیت کیلئے ایک سنجیدہ واصولی مؤقف کی عکاسی بھی کرتاہے۔
جیسے تاریخ کے صفحات پر کمزور قومیں اکیلی ٹھہرتی آئیں،آج فلسطین بھی عالمی ضمیرسے اپنے حق کامطالبہ کررہاہے،اورچین اس مظلوم قوم کے ساتھ انصاف کی صدابلندکررہاہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے مطابق چین غزہ میں جنگ بندی اورجنگ کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔یہ الفاظ کسی محض سفارتی اعلان کاحصہ نہیں ،بلکہ انسانی ہمدردی،عالمی استحکام، اوربین الاقوامی قانون کی پاسداری کاعملی عزم ہیں۔گویا چین نے عالمی سیاست کے سحروجادومیں پھنس کر نہیں بلکہ انصاف کے اصولوں کیلئے اپنی راہ ہموارکی ہے۔
وانگ یی نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ’’دوبرس سے جاری غزہ جنگ نے بے مثال انسانی المیے کوجنم دیااوراسرائیلی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہوئی مشرق وسطی کے استحکام کونقصان پہنچارہی ہیں‘‘۔جیسے دریااپنی رفتار سے پتھروں کو تراشتا ہے،ویسے ہی طاقتورممالک کے اقدامات انسانی تقدیرکے رخ کوبدلنے کی کوشش کرتے ہیں، مگرتاریخ کاانصاف بعدمیں ان کے ظلم وستم سے ٹکرا کر ان کوپاش پاش کردیتاہے اور ندامت کے پہاڑ کا بوجھ ان کوکچل کررکھ دیتاہے۔
چینی وزیرخارجہ نے زوردیاکہ’’غزہ میں فوری جامع جنگ بندی،فلسطینی حکمرانی،اوردوریاستی حل کی مضبوطی، عالمی برادری کیلئے تین ناگزیر اقدامات ہیں‘‘۔یہ تین ستون ایسے ہیں جوانصاف اورامن کے محل کواستوارکرتے ہیں،اوراگریہ مضبوط نہ ہوں تو محض ظاہری جنگ بندی کسی حقیقی امن کاضامن نہیں بن سکتی۔وانگ یی نے مزیدکہا ’’کہ عالمی برادری دو ریاستی حل کے تحت فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کی حمایت کرے‘‘۔یہ مطالبہ نہ صرف دائمی انصاف کے اصولوں کاتقاضاہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی روح کاآئینہ بھی ہے،کہ مظلوم قوموں کی حمایت اورظالم طاقتوں کے مقابل انصاف کی راہ پرچلناہرمومن کی ذمہ داری ہے۔
امریکانے دیگرمغربی ممالک کے فلسطینی ریاست کے تسلیم کے اعلانات کونمائشی اقدام قرار دیا۔ گویاطاقتوروں کے بیانات صرف کاغذ پرنقش ہیں،عمل کی حقیقت کچھ اورہے۔ بہت بڑے داناوبیناکی اصطلاح میں،یہ عالمی سیاست کی شطرنج کی وہ گھڑی ہے جس میں نقاب پوش طاقتیں اپنی منطق کیلئے دنیاکودھوکہ دیتی ہیں،مگرتاریخ کا حساب ہرزوال وعروج کو محفوظ رکھتا ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف سیاسی فیصلے کی رودادہے بلکہ تاریخ کے صفحات میں ایک نئے ورق کے کھلنے کا استعارہ بھی ہے۔فلسطین کااعتراف دراصل انسانیت کے اعتراف کادوسرانام ہے ،اورظلمت کی اس صدی میں یہ روشنی کاایک چراغ ہے جس کے گرد اندھیروں کے بادل بھی ہمیشہ کیلئے چھٹنے لگے ہیں۔
اے اہلِ ایمان!!ے صاحبانِ ضمیر!یہ اعلان تمہارے سامنے ایک سوالیہ نشان ہے۔غیرمسلم اقوام انصاف کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں،توتم کس انتظارمیں ہو؟کیاتم اپنی تلواریں نیام میں ڈال کرخوابِ غفلت میں پڑے رہوگے،یااس چراغ کوبھڑکاکرروشنی کاقافلہ آگے بڑھا گے؟یادرکھو!فلسطین کااعتراف صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں،یہ انسانیت کی فتح ہے۔یہ ان ماؤں کے آنسوؤں کا اعتراف ہے جوبیٹوں کی لاشوں پرنوحہ کرتی رہیں۔یہ ان معصوم بچوں کے خون کاصدقہ ہے جوملبے کے نیچے مسکراکرشہیدہوگئے۔یہ ان بزرگوں کی دعاؤں کی قبولیت ہے جومسجد اقصی کے دروازے پراس وقت تک سجدہ ریزرہے جب تک یہودیوں کی بمباری نے ان کے چیتھڑے تک نہیں اڑا دیئے لیکن یہ ابھی آغاز ہے۔ ابھی منزل باقی ہے،ابھی القدس آزادہونا ہے، ابھی ظلم کی دیواریں گرنی ہیں۔یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ اپنے ضمیرکوجگاؤ،اپنی صفوں کوسیدھاکرواوراپنی زبان وقلم سے لیکراپنے وسائل وطاقت تک سب کچھ فلسطین کے حق میں لگادو۔
اٹھو!کہ وقت تمہیں پکاررہاہے۔تاریخ تمہاری طرف دیکھ رہی ہے۔اوراگرآج بھی تم نے غفلت کی چادراوڑھے رکھی توکل تمہاراذکر ان قوموں میں ہوگاجنہیں تاریخ نے معاف نہیں کیا۔فلسطین کااعتراف دراصل تمہاری غیرت کاامتحان ہے۔اے مسلمانو!اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے کیایہ چراغ بجھ جائے گایاایک دن سورج بن کرپوری انسانیت کو روشنی عطاکرے گا؟نجانے کیوں اس شدت سے مرشدعلامہ اقبال ؒیادآگئے ہیں:
ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے

یہ بھی پڑھیں