Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

آزاد کشمیر پہیہ جام پاکستان مخالف بیانیہ ناقابل قبول

عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر جنت نظیر آزاد کشمیر پیر کے دن سے ریاست گیر پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کی زد میں ہے‘ مظفرآباد، میرپور اور پونچھ کے تینوں ڈویژنز میں کاروبار زندگی معطل ہے جبکہ سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ریاست بھر میں اہم سرکاری عمارتوں پر رینجرز، ایف سی اور آزاد کشمیر پولیس کے دستے تعینات ہیں۔ حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آزاد کشمیر کے اضلاع میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل کر دی ہے، جبکہ بعض مقامات پر ایس کام سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا، اور ڈیڈلاک برقرار ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 38 نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا تھا، جن میں سے وفاقی وزرا ء نے 36 نکات پر اتفاق کر لیاتھا تاہم دو نکات! مہاجرین کی بارہ نشستوں سے متعلقہ امور وغیرہ پر حکومت نے مزید وقت مانگا اور چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی، مگر افسوس کہ ان نکات پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔ہم جیسے کشمیر کے عشاق کودوسرے رائونڈ کے مذاکرات کی توقع تھی، لیکن افسوس کہ وہ بھی ممکن نہ ہو سکے۔
مظفرآباد، میرپور اور راولا کوٹ سمیت مختلف شہروں میں حکومت کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے بھی لاک ڈائون کو بھرپور طریقے سے یقینی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔جس آزاد کشمیر کو ہم جانتے ہیں اسے جہاد کشمیر کا بیس کیمپ بھی کہا جاتا ہے، اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو گا کہ جہاد کشمیر کے بیس کیمپ میں نفرتوں کی آگ بھڑک رہی ہے،بعض ناعاقبت اندیش اپنے تھوڑے سے ذاتی مفادات کے لئے پاکستان اور پاک فوج کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکا رہے ہیں ،یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں لکھ رہا بلکہ آزاد کشمیر کے رہائشی سینئر صحافی راجہ بشیر عثمانی کی لکھی ہوئی بات دوہرا رہا ہوں، جو لکھتے ہیں کہ۔
’’پاکستان ہمارا ایمان، ہماری پہچان اور ہماری بقاء ہے۔ اس وطن کی سرحدوں کے محافظ پاک فوج کے جوان ہیں، جو ہر حال میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کھڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور پاک فوج ہماری ریڈ لائن ہیں جو کوئی اس لائن کو عبور کرنے کی جسارت کرتا ہے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ کشمیری عوام کے جذبات کو للکارتا ہے۔
ہم کشمیری شہدا کے وارث ہیں۔ وہ شہدا جنہوں نے اسلام اور تکمیل پاکستان کے لیے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کیا اور سبز ہلالی پرچم میں دفن ہوئے۔ ان کی قربانیوں کی توہین ہم کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ جو زبان پاکستان کے خلاف کھلتی ہے وہ دراصل انہی قربانیوں کا مذاق اڑاتی ہے۔افسوس کہ آج چند گمراہ اور موقع پرست عناصر عوامی مسائل کی آڑ میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ بھاڑ میں جائے پاکستان کا نعرہ کوئی عام بات نہیں، بلکہ کھلی پاکستان دشمنی اور بھارت نوازی ہے۔ ایسے نعرے لگانے والے یاد رکھیں:یہ وہی زبان ہے جو دہلی اور سرینگر میں پاکستان کے دشمن بولتے ہیں ، یہ وہی بیانیہ ہے جو بھارت اور را کا ایجنڈا ہے۔ جو اس ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے، وہ کشمیری عوام کا نہیں بلکہ دشمن کا سہولت کار ہے۔کشمیری عوام جانتے ہیں کہ ان کی بقاء اور آزادی پاکستان کے ساتھ جڑی ہے۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کو پہچانیں اور ان کے دھوکے میں نہ آئیں۔ پاکستان اور پاک فوج کے خلاف زہر اگلنے والوں کو سختی سے مسترد کریں۔ دشمن کی منفی مہم کو اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ناکام بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
یاد رکھیں! پاکستان اور پاک فوج ہماری ریڈ لائن ہیں۔ جو اس لائن کو کراس کرے گا، وہ سیدھا دشمن کی صف میں کھڑا ہوگا۔ کشمیری عوام کا فیصلہ دوٹوک ہے:ہم پاکستان اور پاک فوج کے سہولت کار ہیں، ہمیں اس پر فخر ہے۔ جو پاکستان کے خلاف بولے گا وہ بھارت کا سہولت کار ہے، اور کشمیری عوام اسے کبھی معاف نہیں کریں گے‘‘۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آزاد کشمیر سے ہی تعلق رکھنے والے کشمیر کے دبنگ صحافی مفتی عمر فاروق بھی اپنی شائع ہونے والی تحریروں میں عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے کچھ اسی قسم بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے جذبات کا اظہار کر چکے ہیں،اس خاکسار نے اتوار کے دن کئی گھنٹے صرف اپنے کشمیری صحافی دوستوں ہی نہیں بلکہ کشمیر کے رہائشی کئی عام ساتھیوں سے بھی رابطے کر کے ان سے 29 ستمبر کی پہیہ جام ہڑتال کے حوالے سے سوالات کئے ،میرے لئے یہ بات باعث اطمینان تھی کہ کسی بھی کشمیری دوست نے عوامی ایکشن کمیٹی کے پاکستان اور فوج مخالف بیانیہ کی حمایت نہیں کی ،بلکہ اکرام کشمیری نام کے ایک کاروباری دوست نے تو یہاں تک کہا کہ آزاد کشمیر کی سرزمین پر پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نعرے لگانے والوں کے لئے ہم کشمیری کافی ہیں،عوامی مفاد میں مطالبات منوانے کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ ہم اپنے وطن عزیز اور اس کی محافظ فوج کے خلاف دشمنوں کے آلہ کار بن جائیں؟ اکرام کشمیری اور کشمیر کے دیگر دوستوں کے جذبات سن کر دل میں یہ خیال پختہ ہوا کہ اس تحریک میں خدا نخواستہ اگر کہیں’’موذی مودی‘‘ کی سپورٹ ہے بھی تو ان شاء اللہ ناکامی اس کا مقدر بنے گی۔

یہ بھی پڑھیں