پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک ہم نے اپنے قومی معاملات کو وہ سنجیدگی اور مضبوطی نہیں دی جو ایک خودمختار اور ترقی یافتہ ملک کی پہچان ہوا کرتی ہے۔پاکستان کی معیشت کئی دہائیوں سے ایسے مسائل میں الجھی ہوئی ہے جو محض وقتی یا سطحی نوعیت کے نہیں بلکہ ڈھانچے کی سطح پر جمی ہوئی پیچیدگیوں اور کمزوریوں سے جنم لیتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ بنیادی اور دیرپا مسئلہ ٹیکس نظام کا ہے۔ ریاست اپنی بقا، ترقی، فلاحی منصوبوں اور عوامی سہولتوں کے لیے جو وسائل اکٹھے کرتی ہے وہ بنیادی طور پر ٹیکس کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان کا ٹیکس نظام شروع دن سے ہی کمزور بنیادوں پر قائم رہا ہے۔ اس نظام میں نہ صرف پیچیدگیاں ہیں بلکہ اس میں عدم شفافیت، کرپشن، سیاسی دباؤ، طاقتور طبقوں کے لیے رعایتیں اور عام شہری پر بوجھ جیسی خرابیاںشامل ہیں۔ آج جب حکومت نے ٹیکس نظام میں اصلاحات کا بیڑا اٹھایا ہے تو یہ سوال سب کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ آیا یہ اصلاحات محض ایک اور اعلان ہیں یا یہ واقعی وہ سنگِ میل ثابت ہوں گی جن پر کھڑے ہو کر پاکستان اپنی معیشت کو پائیدار اور عوام دوست سمت میں موڑ سکے گا۔ حکومت نے اپنے بیانات میں یہ واضح کیا ہے کہ اس بار اصلاحات کا مقصد صرف ریونیو بڑھانا نہیں بلکہ ایک ایسا منصفانہ اور شفاف نظام قائم کرنا ہے جس میں طاقتور اور کمزور سب کے لیے قانون یکساں ہو، ٹیکس نیٹ وسیع ہو، دستاویزی معیشت کو فروغ ملے اور عوام کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ ان کے دیے ہوئے ٹیکس دراصل ملک اور عوام کی فلاح پر خرچ ہو رہے ہیں نہ کہ اشرافیہ کے عیش و عشرت یا کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں ٹیکس دینے والے شہریوں کی تعداد دنیا کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ بقول ماہرینِ معیشت، دو کروڑ سے زائد فعال ٹیکس دہندگان کی گنجائش رکھنے والے ملک میں بمشکل تیس سے چالیس لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ باقی معیشت ایسی نقد لین دین پر مبنی ہے جو کبھی بھی حکومتی ریکارڈ تک نہیں پہنچتی۔ اس صورتحال نے نہ صرف قومی خزانے کو کھوکھلا کیا ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی مجروح کیا ہے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ وہ ٹیکس دیتے بھی ہیں تو اس کے بدلے انہیں صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسی بنیادی سہولتیں کیوں نہیں ملتیں۔ دوسری طرف وہ طبقے جو ٹیکس دینے کی استطاعت رکھتے ہیں، اپنے اثرورسوخ کے ذریعے قانون سے بچ نکلتے ہیں اور یوں ایک ناانصافی کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔حکومت کی حالیہ اصلاحات میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور ایسے شعبوں کو بھی اس دائرے میں لایا جائے جو برسوں سے مافیائی قوتوں کی پشت پناہی کے تحت بچ نکلتے ہیں۔ زرعی آمدنی، بڑے پراپرٹی ڈیلرز، ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹیں اور نقدی پر چلنے والے کاروبار وہ شعبے ہیں جنہیں ہمیشہ ٹیکس سے استثناء حاصل رہا ہے۔ ان اصلاحات کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ہر شہری کا مالی لین دین آہستہ آہستہ ڈیجیٹل ذرائع سے جڑا ہو گاتاکہ آمدنی اور اخراجات کا ریکارڈ شفاف طریقے سے سامنے آئے۔ اس مقصد کے لئے جدید ٹیکنالوجی، نادرا کے ڈیٹا بیس اور بینکنگ چینلز کو آپس میں مربوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ نظام کامیابی سے نافذ ہو گیا تو ٹیکس چوری میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ٹیکس اصلاحات کا دوسرا پہلو عوامی شعور اور اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کے عام شہری کو قائل کرنا ہوگا کہ اگر وہ ٹیکس ادا کرے گا تو اس کے بدلے میں اسے سہولتیں ملیں گی۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس کا نظام ہی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ وہاں پر متوسط طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے لیکن بدلے میں ریاست انہیں صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد قائم ہے۔ پاکستان کو بھی اسی ماڈل کی طرف جانا ہوگا۔ حکومت کی جانب سے یہ عندیہ بھی دیا گیا ہے کہ ٹیکس اصلاحات کے ساتھ ساتھ معیشت کے غیر رسمی شعبے کو دستاویزی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ کیش ٹرانزیکشن پر پابندیاں، بڑے لین دین کے لیے بینکنگ چینلز لازمی قرار دینا اور پراپرٹی سیکٹر میں مارکیٹ ویلیو کے مطابق رجسٹریشن جیسے اقدامات شامل ہیں۔ یہ سب اقدامات اگرچہ وقتی طور پر کچھ طبقوں میں بے چینی پیدا کریں گے لیکن طویل مدت میں یہی اقدامات پاکستان کی معیشت کو شفاف بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹیکس اصلاحات کے بوجھ کا رخ کمزور طبقے کی طرف نہ مڑ جائے۔ پہلے ہی پاکستان کا عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور افراطِ زر کی چکی میں پس رہا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیکس اصلاحات صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ جب تک عوام میں یہ احساس پیدا نہیں ہوگا کہ ٹیکس دینا دراصل ان کی قومی ذمہ داری ہے، تب تک کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہ کام محض قانون سازی سے نہیں ہوگا بلکہ تعلیم، میڈیا اور قومی بیانیے کے ذریعے عوام میں اعتماد اور حب الوطنی کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو یہ بتایا جائے کہ ٹیکس دینا صرف ریاست کی ضرورت نہیں بلکہ ایک شہری کے طور پر ان کا اخلاقی فریضہ بھی ہے۔حکومت کی حالیہ کاوشیں ایک امید کی کرن ضرور ہیں لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ماضی میں بھی ایسے کئی دعوے اور اصلاحات سامنے آئیں مگر چند ماہ بعد ہی مصلحتوں اور دباؤ کے باعث سب کچھ ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس بار اگر حکومت واقعی تاریخ بدلنا چاہتی ہے تو اسے سخت فیصلے کرنے ہوں گے، طاقتور طبقات کو بھی قانون کے تابع لانا ہوگا اور سب سے بڑھ کر اپنے عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ پاکستان کے مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا ہم ایک منصفانہ اور پائیدار ٹیکس نظام قائم کر پاتے ہیں یا نہیں۔ یہ صرف معیشت کا مسئلہ نہیں بلکہ بقا ء کا سوال ہے۔ اگر ریاست اپنے وسائل کو درست طریقے سے منظم کرنے میں ناکام رہی تو بیرونی قرضوں اور امداد کے سہارے کب تک ملک چل سکتا ہے؟ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ٹیکس اصلاحات صرف کاغذوں پر نہیں بلکہ عملی طور پر نافذ ہوں۔جب آخری شخص بھی ایمانداری سے ٹیکس دے گا تو پاکستان ایک ایسی طاقت بن جائے گا جسے کوئی دنیا کی طاقت جھکا نہیں سکے گی۔یہ ہے خودداری کی جنگ، یہ ہے بقاء کی جنگ، یہ ہے انصاف کی جنگ اور ہم سب کو اس میں شامل ہونا ہوگا۔