Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

راجاپرویزاشرف،ہمہ جہت شخصیت

راجا پرویز اشرف پاکستانی سیاست کاوہ درخشندہ ستارہ ہیں۔جن کاشمار پاکستان پیپلز پارٹی کےسینئر ترین رہنمائوں میں ہوتاہے۔ سابق وزیراعظم اور سابق اسپیکر نیشنل اسمبلی رہ چکے ہیں۔انتہائی دھیمے لہجے کے سیاست دان ہیں۔کبھی غصے میں نہیں آتےجو بات بھی کرنی ہو دلیل اور وضاحت سے کرتے ہیں ناصرف اپنی جماعت بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کےبھی پسندیدہ شخصیت جانےاور مانےجاتےہیں۔ان کی گفتگو اوراندازمیں سلیقہ اورطریقہ ہے۔بہت خوبصورت دل رکھتے ہیں۔ سیاست میں بہت سےلوگ اپنا منفرد مقام اور شناخت رکھتے ہیں لیکن راجہ پرویز اشرف کی شناخت اورمقام سب سےالگ اور منفرد ہے۔میرا راجہ پرویزاشرف سے کئی برسوں سے تعلق ہے اور میرے ان سے فیملی مراسم بھی ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی بننے سے پہلے میراان سےتعلق مزید مضبوط ہوااورہم قربت کےنہ ٹوٹنےوالےرشتے میں بندھ گئے۔راجہ صاحب کا میرے گھر آناجانا ہے اور ہر خوشی غمی میں بھی شریک ہوتے ہیں۔مجھے بھی جب موقع ملتا ہےاسلام آباد فیملی کےساتھ چلاجاتاہوں تو راجہ صاحب سے اور سابق خاتون اول باجی نصرت پرویز سےضرورشرفِ ملاقات حاصل ہوتی ہے۔جب بھی ملےمحبتیں نچھاور کیں۔راجہ صاحب نے 22 جون 2012ء سے 24 مارچ 2013ء تک پاکستان کے 19ویں وزیراعظم کے طور پربھی خدمات سرانجام دی ہیں۔ وہ سیاسی جماعتوں کے اسٹیبلشمنٹ مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کےسینئر نائب صدربھی رہے۔ 2008ء میں پانی و بجلی کے وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔جون 2012ء کو یوسف رضاگیلانی کوتوہین عدالت کےالزام میں نااہل قراردئے جانے پر انہیں وزیر اعظم بنایا گیا ۔راجہ پرویز اشرف این اے 58 سے ہربارکامیاب ہو کر قومی اسمبلی پہنچے ہیں۔ اب این اے 52 سے 2024 ء میں بھاری اکثریت سے ایم این اے منتخب ہوئے ہیں۔علاقے کے لوگ ان پر بےحد اعتماد کرتے ہیں۔انہیں بھروسہ ہوتا ہےکہ راجہ صاحب انہیں کسی حوالے سےکبھی مایوس نہیں کریں گے۔یہ حلقے کے لوگوں کا ان پر بےپناہ اعتماد ہے کہ ہر باراپنے حلقے سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔کامیاب ہو کرکبھی لوگوں کےبھروسےکونہیں توڑتے۔یہی ان کی کامیابی ہے کہ انہوں نے اپنے اخلاق سے اپنے حلقے کے عوام کوجیتا ہوا ہے۔انہوں نے اپنے علاقے میں ریکارڈ ترقیاتی اورفلاحی کام کروائے ہیں۔گھرگھر سوئی گیس،بجلی،پختہ سڑکیں،فلائی اوور انڈرپاس،نادراآفس،پاسپورٹ آفس،ریسکیو آفس باررومز کےعلاوہ سب سےبڑاکارنامہ پنجاب یونیورسٹی گوجرخان میں کیمپس قائم کروانا ہے۔وہ جب اپنےحلقے گوجرخان سانگھڑ ہائوس میں آتے ہیں تو اس کےدروازے ہرخاص و عام کےلیےکھول دیئےجاتےہیں۔لوگ اپنے مسائل اور دیگر معاملات کے لئے انہیں ہر وقت بلاجھجک مل سکتے ہیں۔یہی وہ امتیاز ہےجو راجہ صاحب کو دوسروں سے منفرد بنا دیتا ہے۔اس کے علاوہ ان کے بھائی راجہ جاوید اشرف بیٹے خرم پرویز راجہ اور شاہ رخ پرویز راجہ بھی اپنے حلقے میں دن رات عوامی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ہر خوشی غمی میں تو وہ بالکل بھی پیچھے نہیں رہتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت راجہ پرویزاشرف کو بہت قدرکی نگاہ سےدیکھتی ہے۔آصف علی زرداری ہوں یابلاول بھٹو زرداری،راجہ صاحب ان کی آنکھوں کا تارا ہیں کیونکہ وہ 40 سال سے زائد عرصے سے پارٹی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ایک بار راجہ پرویز اشرف کو بتائے بغیر گوجر خان کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں پر ہر فرد ان کے نام کی مالا جپتا ہے۔ہر گھر میں ان کا ذکر ہوتا ہے،اچھے الفاظ اور عمدہ پیرائے میں۔ایسی قدرومنزلت کسی سیاستدان کو مل جائے تو اسے اور کیا چاہیے سیاستدان کا اصل اثاثہ عوام کی محبت ہوتی ہے اور یہ بےشمار محبت،حلقے کے عوام سے راجہ پرویز اشرف کو مل رہی ہے۔ راجہ پرویزاشرف کےخاندان کا پس منظرجاننے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہو گا کہ راجہ صاحب کا خاندان نہری نظام متعارف ہونے پر سندھ منتقل ہو گیا تھا راجہ صاحب نے سندھ میں قیام کے دوران سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔بعدازاں اپنے آبائی علاقے گوجر خان منتقل ہو گئے۔یہیں سے انہوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز کیا راجہ صاحب دھیمے انداز سے بولنے والےسیاستدان ہیں۔ اسی لئے لوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔کبھی اشتعال میں نہیں آتے۔ سیاسی مخالفین سےبھی ادب کے دائرے میں رہ کر بات کرتے ہیں۔انہیں کسی پہ کیچڑ اچھالنا یا کسی کی برائی کرنا بالکل بھی پسند نہیں۔جب اسپیکرنیشنل اسمبلی تھے تو بڑے اچھے طریقے سے اسمبلی کو چلایا۔ حزب اختلاف والےبھی انکی تعریف کرتے نظر آئے۔یہ چھوٹی بات نہیں ہوتی کہ آپ کا کٹر سیاسی مخالف بھی آپ کے رویے کی تعریف کرے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کو اگر کسی سیاسی جماعت سے گفتگو یا مذاکرات کرنے ہوں تو تشکیل دیئےجانے والے وفد میں راجہ پرویز اشرف کو بھی لازمی شامل کیا جاتا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہےکہ راجہ صاحب ٹو دی پوائنٹ گفتگو کرتےہیں۔گفتگو میں اختصار اور وزن ہوتا ہے۔ اب تک پیپلزپارٹی کی قیادت نے کسی دوسرے سے بات چیت یا گفتگو کے لئےجو بھی وفود ترتیب دیئے ہیں ان میں راجہ پرویز اشرف کا نام سرفہرست اور نمایاں رہا۔راجہ صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ مذاکرات کر کے جب ٹیبل سے اٹھتے ہیں تو مقابل فریق نہ صرف ان کی بات سے مکمل اتفاق کرچکا ہوتا ہے بلکہ دل سے تسلیم بھی کرتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ راجہ صاحب کتنی پراثر شخصیت ہیں- پچھلے دنوں پاکستان کے مختلف علاقے شدید سیلاب کی زد میں رہے- اس دوران بھی راجہ پرویز اشرف کو چیئرمین بلاول بھٹو کے ہمراہ قصور کا دورہ کرتے دیکھا،وہ کسی سے پیچھے نظر نہیں آئے۔ چنیوٹ اورلاہور میں بھی راجہ صاحب نے سیلاب متاثرین کے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔میں سمجھتا ہوں کہ سارے سیاستدان راجہ پرویز اشرف جیسے ہو جائیں تو ملک کی تقدیر ہی بدل جائے۔راجہ پرویز اشرف واقعی ایک گریٹ پرسنیلٹی کے مالک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں