Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مفادکے سو داگراوراقتدارکے مسافر

(گزشتہ سے پیوستہ)
جب ٹیرف کی تیزدھاران برآمدات پرگری توکارخانوں کے پہیے سست پڑگئے۔نئے آرڈرمنسوخ ہوگئے،اورلاکھوں مزدوروں کے سروں پربیروزگاری کی تلوارلٹکنے لگی۔ایک وقت تھاجب دہلی اپنے معاشی معجزے پرفخرکرتاتھا،آج وہ معجزہ واشنگٹن کے ایک حکم سے بکھرتادکھائی دے رہاہے بلکہ منہ کے بل آن گراہے۔ نئے آرڈرز منسوخ،برآمدات معطل اور کارخانوں میں بے یقینی،یہ وہ کیفیت ہے جوانڈیاکے لئے معاشی زوال کی دستک دے رہی ہے۔
گلوان کی وادی میں بہنے والاخون آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات کوزہرآلودکیے ہوئے ہے اورگلوان وادی کے برفیلے پتھروں پربہنے والاخون دونوں قوموں کے تعلقات میں جم گیاہے۔وہ جھڑپ محض ایک واقعہ نہ تھی بلکہ ایک زخم تھاجواعتمادکی رگ پر لگالیکن سیاست کی منطق کچھ اورہے؛دہلی اب انہی ہاتھوں کوتھامنے اورانہی کے پاؤں چومنے پرآمادہ ہے جنہوں نے اس کے جوانوں کومٹی میں سلادیاتھامگرعالمی سیاست کے بدلتے تیوردہلی کومجبورکررہے ہیں کہ وہ اسی چین کے دروازے پردستک دے جسے کل تک اپنی سلامتی کے لئے سب سے بڑاخطرہ قراردیتاتھا۔یہی وہ مکافات عمل کے لمحات ہیں جب دہلی نے اپنی آنکھیں بیجنگ کی سمت دوڑائیں ہیںاسی چین کی طرف جوکل تک سرحدپرخون بہارہاتھااور آج مفاہمت کے گیت گارہاہے۔
مودی حکومت نے ایک وقت ایسابھی دیکھا جب روس جیسا پرانا حلیف نظراندازہوااوراس سے آنکھیں پھیرلیں لیکن آج دہلی کو یہ احساس ہورہاہے کہ ماسکوکے بغیراس کاسفارتی کمرہ ادھوراہے۔اجیت ڈوول اورپھر وزیر خارجہ ایس جے شنکرکادورہ ماسکو اسی پشیمانی کی علامت ہیں۔اب دہلی چاہتاہے کہ روسی دروازہ دوبارہ کھٹکھٹایاجائے،چاہے دیرہی کیوں نہ ہوگئی ہو۔
چینی وزیرخارجہ وانگ یی کادہلی آنااوراعلیٰ سطحی مذاکرات اس امرکی علامت ہیں کہ انڈیانئی راہیں تلاش کررہاہے۔وانگ یی کا دہلی آنا محض ایک رسمی ملاقات نہ تھی،یہ ایک پیغام تھا کہ ’’ہم دشمن رہ کربھی ہمسائے ہیں اورہمیں ساتھ رہنے کی راہیں نکالنی ہوں گی‘‘۔دونوں ملکوں نے تجارتی تعلقات کی بحالی، معدنیات کی فراہمی، کھاد،براہ راست پروازوں اور ویزوں کے اجرء اپراتفاق کر کے ماضی کے زخموں پرمرہم رکھنے اورتعلقات کونرم کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ گویاسردجنگ کے برفیلے پانی پرپہلی نرم لہر تھی۔
چین اورانڈیاکی سرحددنیاکی سب سے پیچیدہ سرحدوں میں شمارہوتی ہے۔انڈیااورچین کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ اب بھی سرحدی تنازعات ہیں۔ جب تک یہ عقدہ حل نہ ہو،اعتمادکادریانہیں بہہ سکتا۔ دونوں ممالک ایک جنگ لڑچکے ہیں اورعدم اعتمادکی دیواراب بھی کھڑی ہے۔مذاکرات کی میزپربارہابیٹھنے کے باوجودکوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہوئی اوراعتماد کادرخت جڑنہیں پکڑسکااورعدم اعتماد کایہ سایہ اب بھی ان کے تعلقات پرچھایاہواہے۔یادرہے،یہ وہی تنازعہ ہے جس نے دونوں کوایک جنگ تک پہنچایا۔
ایک اورپہلویہ ہے کہ امریکامیں آرایس ایس کے پیروکاربڑی تعدادمیں موجودہیں۔یہ لوگ دہلی اورواشنگٹن کے تعلقات کوکسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھنے کے لئے دبائوڈالتے رہیں گے مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ دبائو ان تعلقات کووہی استحکام دے سکے گاجوکل کبھی ہوا کرتاتھا؟سیاسی حقیقت یہی ہے کہ ماضی جیسی ہم آہنگی شائداب برسوں تک واپس نہ آسکے۔
امریکادنیاکی سب سے بڑی طاقت اورسب سے بڑی معیشت ہے۔انڈیااسے چھوڑنہیں سکتالیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہلی جتنی سرمایہ کاری امریکی نظام میں کرچکاہے،اتنی اس نے کہیں اورنہیں کی۔یہ سرمایہ کاری اب بوجھ میں بدل چکی ہے۔دہلی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں؛وہ واشنگٹن کی بے رخی کوسہنے پر مجبور ہے۔ مگرساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ استحکام اور اعتماد جو کبھی تھا،اب تحلیل ہوچکاہے۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ خطے میں ہونے والی اس ساری سفارتی ہلچل کے مقابلے میں پاکستان کہاں کھڑاہے؟دہلی اگرچین اور روس کی طرف جھک رہاہے توکیااسلام آباداس موقع کوسفارتی سرمائے میں بدل رہاہے؟اب یہ معاملہ مقتدرقوتوں کے لئے ایک چیلنج ہوگاکہ اسلام آبادکواپنے پتے کیسے کھیلنے ہوں گے؟سوال یہ ہے کہ اس پورے کھیل میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ قرآن ہمیں متنبہ کرتاہے :یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔(العمران:140)
یہی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے ایام کبھی ایک کے پاس اورکبھی دوسرے کے پاس ہوتے ہیں۔پاکستان کوچاہیے کہ آنے والے دنوں کی تیاری کرے تاکہ یہ تغیراس کے حق میں ثابت ہو۔قرآن حکیم ہمیں یہ بھی یاددلاتاہے کہ:اوران کے مقابلے کے لئے جوکچھ قوت تم جمع کر سکتے ہواورباندھے ہوئے گھوڑے (تیاررکھو)تاکہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں پررعب ڈال سکو۔(الانفال:60)یہ سب سوالات صرف انڈیاکے لئے نہیں بلکہ پورے برصغیرکے لئے اہم ہیں کیونکہ دہلی کی ایک حرکت اسلام آبادکے لئے نئے مواقع بھی پیداکرسکتی ہے اور خطرات بھی۔پاکستان کے لئے یہ وہ لمحہ ہے جب اسے اپنی خارجہ پالیسی کے پتے درست ترتیب دینے ہیں۔اگر دہلی چین کے قریب جاتاہے تواسلام آبادکویہ دیکھناہوگاکہ بیجنگ کاتوازن کس کے حق میں جھکتاہے ۔اگر دہلی ماسکو کا در کھٹکھٹاتا ہے توپاکستان کویہ سوچناہوگاکہ روسی تعلقات میں اپنی جگہ کیسے بنائی جائے۔اوراگردہلی واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ گرمجوشی کی کوشش کرتاہے تواسلام آبادکواپنی حکمتِ عملی نئے سرے سے ترتیب دیناہوگی۔ یہ وہ وقت ہے جب امتِ مسلمہ کے لئے بھی ایک بڑاسبق ہے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کی سیاست محض الفاظ کاکھیل نہیں،طاقت اورتیاری کاامتحان ہے‘ جو قوم اپنی قوت تیاررکھتی ہے وہی بساطِ سیاست پرعزت سے کھیلتی ہے،ورنہ دوسروں کے فیصلوں کی دستاویزمیں صرف تماشائی رہ جاتی ہے۔
انڈیا آج جس دوراہے پرکھڑاہے،وہاں ایک طرف امریکاکاحالیہ کرداراوردوسری جانب چین اور روس کی پیشکش ہے۔مگریہ فیصلہ دہلی کوکرناہوگاکہ وہ کس سمت رخ کرے۔اور خطے کے دیگر ممالک، بالخصوص پاکستان،کویہ موقع غنیمت سمجھ کراپنی خارجہ پالیسی میں وسعت اورگہرائی پیداکرنی ہوگی کیونکہ تاریخ کاسبق یہی ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو وقت کی کروٹ کے ساتھ اپنے قدموں کی سمت بدلنے کی حکمت رکھتی ہیں۔
انڈیاکی خارجہ پالیسی آج ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہرراستہ کسی نہ کسی خطرے کی طرف جاتاہے۔امریکاکی بے رخی، چین کی مشروط دوستی اور روس کی دوبارہ دستک یہ سب دہلی کے لئے ایک امتحان ہیں اورتاریخ کافیصلہ ہمیشہ ان کے حق میں ہواہے جو بدلتے وقت کے ساتھ اپنی بساط دوبارہ بچھانے کا ہنر رکھتے ہیں۔انڈیا کی موجودہ سفارتی پالیسی ایک ایسے مسافرکی مانند ہے جوبیابانِ سیاست میں بھٹک رہا ہے۔ اس کے سامنے تین راستے ہیں‘امریکا،چین اورروس لیکن ہرراستے میں کانٹے بھی ہیں اور سراب بھی۔ امریکا کا راستہ بظاہردولت مندہے مگربے اعتباری کے ریگزارسےبھراہواہے۔چینکاراستہ امیددلاتاہے مگراس کے ساتھ خون کے دھبے بھی چپکے ہوئے ہیں۔ روس کاراستہ پراناہے مگراس پر دھول جمی ہے اورنئے سرے سے اس کی صفائی درکارہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب دہلی کویہ سمجھنا ہو گا کہ ’’طاقت کے کھیل میں مستقل دوست نہیں ہوتے،صرف مستقل مفادہوتے ہیں‘‘۔پاکستان کے لئے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سفارت کاری کومحض ردِعمل کی سیاست تک محدودنہ رکھے بلکہ ایک فعال اورحکمت آمیزکردار اداکرے۔ اسلام آبادکویہ سوچناہوگاکہ بدلتے عالمی توازن میں وہ کہاں کھڑاہے۔اگردہلی ماسکواوربیجنگ کی طرف بڑھتاہے تو پاکستان کواپنی جگہ مضبوط کرناہوگی تاکہ وہ کسی حاشیے پرنہ ڈالاجائے۔اگرواشنگٹن دہلی کے ساتھ دوبارہ قریب آتاہے تو پاکستان کواپنی خارجہ پالیسی میں توازن قائم رکھنا ہوگا۔یادرکھیے!وہی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں جواپنے وقت کے امتحانوں میں کامیاب ہوتی ہیں۔ انڈیاآج اس امتحان میں گرفتارہے۔ پاکستان کے لئے سوال یہ ہے کہ کیاوہ اس امتحان کوایک موقع میں بدل سکتاہے؟اگرپاکستان نے اپنی حکمتِ عملی کوبروقت اور مؤثر طورپرترتیب دیاتویہ وقت ہمارے لئے ایک نئی تاریخ کاآغازہوسکتاہے۔قوموں کی نجات صرف حکمتِ عملی سے نہیں بلکہ ایمان، اتحاداورعزم سے ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کواختیارکرناہوگا۔ یہی اصل سبق ہے۔قوموں کوبچانے والی چیزمحض سفارت کاری نہیں،بلکہ ایمان، عزم اورتیاری ہے۔انڈیاکے لئے یہ بحران ہے۔ پاکستان کے لئے یہ موقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں