Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

شطرنجِ سیاست اور تقدیر کا فیصلہ

دنیاکی سیاست محض معاہدوں اوراجلاسوں کانام نہیں‘یہ تقدیرکے کاغذپرلکھی جانے والی وہ تحریرہے جسے وقت کی انگلیاں اور قوموں کے فیصلے مل کررقم کرتے ہیں۔کبھی تخت اورتاج دوست بن جاتے ہیں اورکبھی برادرانِ ملت بھی ایک دوسرے کے حریف ہوجاتے ہیں۔ یہی سیاست کاالمیہ اورمکافاتِ عمل بھی ہے اوریہی تاریخ کاحسن۔آج ایشیاکی فضاؤں میں بھی ایک نیاباب کھل رہاہے۔تیانجن کی زمین پرجب دنیاکی دوقدیم تہذیبوں کے نمائندے،مودی اورشی جن پنگ، آمنے سامنے بیٹھے توسفارت کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ۔کچھ نے کہایہ نئی شروعات ہے،کچھ نے کہایہ وقتی ضرورت کا دھوکاہے مگرحقیقت یہ ہے کہ ہرملاقات تاریخ کی ندی میں ایک پتھرپھینکتی ہے،جس کی لہریں دورتک جاتی ہیں۔ پاکستان کے لئے سوال یہی ہے:کیادہلی اوربیجنگ کایہ قرب ہمیں اندیشوں میں ڈالنے کے لئے ہے یاامکانات کے نئے درواکرنے کیلئے؟ کیایہ سیاست کی وہی شطرنج ہے جہاں دوستی اور دشمنی بس ایک چال کانام ہے؟
دنیاکی سیاست کبھی سیدھی راہوں پرنہیں چلتی‘ یہ بازی گاہِ ہستی ہے،جہاں ہرکھلاڑی کبھی بادشاہ بنتا ہے،کبھی محض پیادہ رہ جاتا ہے۔آج کامنظرنامہ بھی کچھ ایساہی ہے؛دہلی اور بیجنگ کی ملاقات نے خطے کی فضائوں میں ایک نئی ہلچل ڈال دی ہے۔مودی اورشی جن پنگ کی ملاقات ایک ایساواقعہ ہے جس نے پورے خطے کی فضاؤں میں سوالیہ نشان ثبت کردیا ہے۔مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات کوبعض لوگ نئی شروعات کانام دیتے ہیں،مگرتاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بڑے زخم محض ایک مصافحے سے مندمل نہیں ہوتے۔یہ ملاقات سفارتی نوعیت کی تھی،لیکن خطے کے توازن کے اعتبارسے اس کے اثرات کونظراندازنہیں کیا جاسکتا۔کیادہلی کی بیجنگ سے بڑھتی قربت اسلام آباد کیلئے کسی اندیشے کی خبرلاتی ہے؟یا یہ صرف سفارتی بساط پروقتی چال ہے،جسے تاریخ کی ہوائیں بہالے جائیں گی؟سوال یہ ہے کیایہ قربت پاکستان کے لئے کسی اندیشے کی گھنٹی ہے یاایک نئے موقع کی نوید؟پاکستان کے لئے اصل سوال یہ ہے کہ کیایہ قربت بیجنگ اسلام آبادتعلقات پرمنفی اثرڈالے گی؟یایہ دہلی کاوقتی سفارتی حربہ ہے جوامریکی دباؤکے جواب میں اختیارکیاگیاہے؟
تیانجن کی فضائیں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے گونج اٹھیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس، جس میں برصغیرکے دونوں ہمسایہ ممالک شریک ہوئے، تیانجن کی فضاؤں کو سیاست کے شورسے بھردیاگیا۔ایک طرف مودی چینی صدرسے ملاقات کے لئے جب ہال میں پہنچتے ، جونہی مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایالیکن چینی صدراس ہاتھ کوتھام نہ سکے اورآگے بڑھ گئے،دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم نے اسی شہرکی جامعہ میں دوستی اوراخلاص کی ایک لازوال داستان دہرائی،پاکستان کے وزیراعظم نے اسی شہرکی جامعہ میں پاک چین دوستی کے چرچے کونئی تازگی عطاکی۔
ایس سی او،خطے کی بڑی طاقتوں کاایک پلیٹ فارم ہے۔اس میں دہلی اوراسلام آباد دونوں کی موجودگی بذاتِ خودایک علامت ہے کہ علاقائی سیاست کا مرکز ایشیاء کی سرزمین ہے، نہ کہ مغرب کے ایوان۔پاکستان کے وزیراعظم نے جہاں پا ک چین دوستی کواجاگر کیا، وہیں دہلی نے بیجنگ کے ساتھ براہِ راست رابطے کی راہ نکالنے کی کوشش کی،یوں یہ اجلاس محض رسمی نہیں رہا،بلکہ خطے کے بدلتے توازن کاایک آئینہ بن گیا۔یہ منظرگویادو متوازی خطوط تھے،جوتاریخ کے کاغذپرایک ساتھ کھنچ گئے۔
چینی صدرشی کاابتدائی جملہ ہی عالمی منظرنامے کی لرزتی بنیادوں کاعکاس تھا۔ان کے لبوں سے نکلاہوا جملہ ’’دنیاافراتفری کا شکارہے‘‘کسی خطیب کاوعظ نہیں، وقت کے آئینے میں جھلکتی ہوئی حقیقت تھی۔یہ جملہ بین الاقوامی سیاست کے موجودہ بحرانوں کاعکاس ہے۔یہ الفاظ محض ایک سفارتی بیان نہ تھے،بلکہ آنے والے دورکے ہنگاموں کی خبربھی تھے۔ گویاقرونِ وسطی کاوہ دور یادآگیاجب سلطنتیں زوال پذیرتھیں اورنئی سپرپاورزجنم لی رہی تھیں۔ یوکرین کی جنگ،مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی،اورمعاشی عدم استحکام‘ سب اس بیان میں جھلکتے ہیں۔
شی نے یاددلایاکہ چین اورانڈیادوقدیم تہذیبوں کے وارث ہیں؛ڈریگن اورہاتھی کو دشمنی نہیں بلکہ رقص میں شراکت داربنناچاہیے۔ یہ جملہ کسی شاعرکی استعاراتی پرواز معلوم ہوتا ہے۔چین اوربھارت دونوں قدیم تہذیبوں کے امین ہیں۔شی نے’’ڈریگن اورہاتھی‘‘کی رقص کی مثال دیکرتعلقات کومثبت رنگ میں پیش کیامگریہ استعارہ دراصل ایک سوال بھی ہے:کیایہ رقص ہم آہنگی کا ہوگا یارقابت کا؟یاپھرزمین لرزانے والازلزلہ؟
مودی نے بھی جواباً 2.8 ً ارب نفوس کی تقدیر کو اس تعاون کے ساتھ وابستہ بتایا، اربوں عوام کے مفادات کی بات تو کی،لیکن تاریخ کاسبق یہ ہے کہ محض آبادی طاقت کی ضامن نہیں ہوتی۔تاریخ کاسبق یہ ہے کہ محض تعدادسے قومیں نہیں بنتیں‘ ایمان،استقلال اورقربانی سے قوموں کی بنیادقائم ہوتی ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ یہ رقص دوستی کاہوگایاطاقت کے توازن کی تلواروں پرایک نازک کرتب؟
ملاقات کے ایجنڈے میں سب سے نمایاں امریکاکاٹیرف تھااصل پس منظرتویہ ہے کہ روسی تیل کی خریداری پرامریکانے انڈیا کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف لگاکربھارت پر معاشی شکنجہ کساہے۔یہ صرف ایک تجارتی قضیہ نہیں بلکہ استعمارکی وہ پرانی چال ہے جوکبھی کپاس کے دھاگے سے لگی تھی اورآج توانائی کے چشموں پرآ کررکی ہے۔یہ اس نے دہلی کونئے دوست ڈھونڈنے پرمجبورکیا۔یوں مودی کابیجنگ کارخ کرنا، واشنگٹن سے کشیدگی کاسیدھانتیجہ ہے۔
ماہرین کی رائے ہے کہ یہ ٹیرف دہلی کی برآمدات اورصنعتوں کے لئے کسی آسیب سے کم نہیں اورامریکی ٹیرف دہلی کی برآمدات اورمینوفیکچرنگ سیکٹر پر کاری ضرب ہے۔یہ بھارت کی اندرونی سیاست اور عوامی روزگارپربراہِ راست دباؤڈال سکتاہے۔یہ ٹیرف دہلی کی صنعتوں کوگھن کی طرح چاٹ جائے گااوریہی مسئلہ بیجنگ کے خوابوں کوبھی گدلارہاہے۔
یہی ٹیرف چین کے عالمی منصوبوں کے لئے بھی رکاوٹ بن رہاہے۔یوں یہ قضیہ صرف دہلی تک محدود نہیں بلکہ بیجنگ کوبھی متاثر کرتاہے۔خاص طورپروہ منصوبے جوعالمی سطح پرتجارت اورتوانائی کے بہا کو بہتر بنانے کے لئے ہیں۔اس لیے چین بھی بھارت کو اپنے قریب لانے میں دلچسپی رکھتاہے لیکن وہ بھارت کے اس مکافاتِ عمل سے بھی باخبرہے اوروہ اس بات سے بھی واقف ہے کہ مودی اس وقت روس اورچین کے کندھے پربیٹھ کرامریکاکی دوبارہ قربتوں کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیایہ دونوں قدیم تہذیبیں محض ضرورت کے تحت اکٹھی ہورہی ہیں یاواقعی دلوں کوقریب لاناچاہتی ہیں؟
1962ء کی جنگ اورگلوان وادی جیسے سانحات آج بھی تعلقات پرسایہ ڈالے ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیاماضی کے خونریز تنازعات اورسرحدی جھگڑوں کے بعداب بیجنگ اور دہلی واقعی نئے سرے سے تعلقات قائم کرنے میں سنجیدہ ہیں؟یایہ محض وقتی ضرورت کی ڈورہے جوکسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے؟بعض تجزیہ نگار اسے’’ٹرننگ پوائنٹ‘‘کہتے ہیں مگر ٹرننگ پوائنٹ اور دھوکہ دہی کی یوٹرن میں صرف ایک لمحے کافاصلہ ہے۔ سوال یہ ہے کیادونوں ممالک اب حقیقتاً تعلقات کونئی بنیادوں پراستوار کرناچاہتے ہیں یایہ محض وقتی ضرورت ہے؟
بعض حلقے مودی کے اس دورہ چین کو ’’ایک ممکنہ ٹرننگ پوائنٹ‘‘قراردیتے ہیں،مگرتاریخ کے صفحات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ٹرننگ پوائنٹ اوریوٹرن میں صرف ایک لکیرکافاصلہ ہوتاہے۔کچھ مبصرین اسے’’اہم موڑ‘‘ کہتے ہیں،مگراس میں خطرہ یہ بھی ہے کہ یہ محض یوٹرن ثابت ہوکیونکہ دہلی کی پالیسی ہمیشہ ’’موقع پرستی‘‘سے عبارت رہی ہے۔پانی کے ذخائر پر تنازع، دلائی لاماکا قضیہ،اورسرحدی جھگڑے ،یہ سب اس تعلق کے چہرے پرچھپے ہوئے زخم ہیں۔کوئی بھی زخم بناعلاج کے نہیں بھرتا۔
دنیاکی نظریں ہمیشہ چین امریکاتعلقات پررہتی ہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ اگربیجنگ اوردہلی ہاتھ ملابھی لیں توکیاان کے زخم مندمل ہوجائیں گے؟یادشمنی کی چنگاری خاکسترمیں چھپی رہے گی؟پاکستان کی فضامیں سوال یہ ہے:کیادہلی اوربیجنگ کایہ میل اسلام آبادکے لئے خطرے کاپیغام ہے؟یایہ موقع ہے کہ بیجنگ دہلی کو قریب لاکراسلام آباداورنئی دہلی کے بیچ برف پگھلانے کی کوشش کرے؟دنیاکی سیاست زیادہ تر واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات کے گردگھومتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس دائرے میں ماسکواوربیجنگ دہلی کو کتناقریب آنے دیں گے کیونکہ وہ مودی کے مکارانہ کردارسے بخوبی واقف ہوچکے ہیں بالخصوص روس جواس کاکئی دہائیوں سے ساتھ دے رہاتھا،اس کا ساتھ چھوڑکرجس طرح مودی امریکاکے تلوے چاٹنا شروع ہوگیاتھا،اس کے بعدروس کے لئے بھی مودی پریقین کرنابڑاکٹھن ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں