جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان بالآخر معاہدہ طے پا گیا، یہ حکومت پاکستان کا تدبر تھا، جس نے تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود صبر اور حکمت کا مظاہرہ کیا اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا ، لیکن سوال البتہ یہ ہے جس پر کشمیر اور پاکستان کے ارباب حل وعقد کو غور کرنا چاہئے اور جواب تلاش کرنا چاہئے کہ اس تمام شور و غوغا،نعرہ بازی، ہنگامہ آرائی اور خون خرابے کا مقصد کیا تھا ؟ یہ سب صرف وقتی ابال تھا؟ یا کسی اور کے منصوبے کی تکمیل کا وسیلہ؟بلا شبہ وزیراعظم پاکستان نے بڑی معاملہ فہمی دکھائی، گفت و شنید کے دروازے بند نہیں کیے اور حالات کو مزید بگڑنے سے بچا لیا، مگر سوال تو مظاہرین سےہے، جن مطالبات کے لئے انہیں گولیوں کی باڑ پر رکھا گیا ،انہیں تشدد اور ہنگامے پر اکسایا گیا ، ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالا گیا ، وہ تو حکومت پہلے ہی مان چکی تھی، احتجاج سے پہلے، پھر یہ سارا ہنگامہ کیوں برپا ہوا؟یہ ماننا مشکل ہے کہ جو ہوا وہ سب کسی وقتی جذبات یا خانہ ساز احتجاج تھا۔ ہم مقبوضہ وادی میں بھارتی سازشوں کے روز نئے چہرے دیکھتے ہیں، یہ ماننے پر آمادہ نہیں ہو سکتے کہ یہ سب کچھ یوں ہی ہو گیا، راج ناتھ اور بھارتی آرمی چیف کی گیڈر بھبکیوں کے بعد تو بالکل بھی نہیں، لیکن اطمینان اس بات کا ضرور ہے کہ پاکستان نے بروقت بات چیت شروع کر کےاس سازش کو ناکام بنا دیا، ورنہ شاید حالات کسی اور رخ پر جا نکلتے۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ عین اسی وقت جب مذاکرات کی کامیابی کی خبریں آرہی تھیں، بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے خلاف زہر افشانی شروع ہو گئی، بظاہر یہ بلا سبب معلوم ہوئی، مگر دراصل یہ اُن کا کشمیر میں اپنے منصوبے کی ناکامی پر غصے کا اظہار تھا۔
سوال یہ بھی ہے کہ ہم کشمیری کہاں جا کھڑے ہوئے ہیں؟ یہ زوال بھی کیسا عجیب المیہ ہے! وہی کشمیری جو کبھی برف پوش پہاڑوں سے دشمن کے خلاف آتش فشاں بن کر اترتے تھے، جن کے سینوں میں دشمن کی گولیاں ان کے حوصلے کو اور بلند کر دیتی تھیں، آج وہی کشمیری سڑک، پل اور کھمبے کے لیے جانیں دائو پر لگائیں گے ،جو قوم کبھی ہندوستان کے غرور کو روندتی تھی، جس کی بہادری پر تاریخ رشک کرتی تھی، آج اپنے ہی صحن میں چھوٹے چھوٹے مطالبات کے لیے لہو بہا رہی ہے۔یہ سوال دل کو چیرنے لگتا ہے کہ یہ زوال آیا کہاں سے؟ کیا ہمارے جذبے مرجھا گئے؟ کیا خون کا رنگ پھیکا پڑ گیا؟ یا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی تقدیر بہادروں کے بجائے سوداگروں کے سپردکر دی؟ وہ جنہیں شہادت کا رتبہ نہیں، مفادات کا نشہ عزیز ہے۔ جن کی آنکھوں میں حریت کے خواب نہیں ، کرسی کی چمک جھلملاتی ہے۔ جب قیادت رہنمائی کے بجائے تجارت بن جائے، جب قربانی کے چراغ بجھ کر خود غرضی کی لالٹین بن جائیں، تو پھر قومیں یوں ہی زوال کا شکار ہوتی ہیں۔آج کشمیر کے لہو سے شہادت کی داستانیں نہیں لکھی جا رہیں، بلکہ بے مقصد قربانیوں کا حساب کھولا جا رہا ہے۔ تاریخ کےا وراق پر یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا ہماری تاریخ نے ہمیں آئینہ دکھانا شروع کر دیا ہے؟ وہ آئینہ جس میں اب شجاعت نہیں، بے سمتی کی تصویر جھلکتی ہے۔ جب قوم اپنی قیادت کو بیوپاریوں کے سپرد کر دے، تو قربانیاں منزل کی طرف نہیں بلکہ اندھیروں میں گم ہو جاتی ہیں۔ حیرت یہ کہ زیادہ تر نکات وہی ہیں جو پہلے سے طے پا چکے تھے۔ کمیٹیاں، اصلاحات، بجٹ کے وعدے—یہ سب وہ الفاظ ہیں جو ہر حکومت دہراتی رہی ہے۔ اگر یہی سب پہلے سے طے تھا تو پھر یہ لاشیں کیوں گریں؟ آخر یہ تحریک عوامی حقوق کی جنگ تھی یا سیاسی سوداگری کا ایک اور باب؟بجٹ اور گرانٹس کا ذکر بھی نیا نہیں، وفاق سے پیسہ تو ہمیشہ آتا رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ وہ کہاں جاتا ہے؟ سڑکیں، پل، پانی کے منصوبے—یہ سب پہلے بھی حکومتوں کی روایت رہے ہیں۔ مہاجرین نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی ایک خام خیالی تھی۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ ان نشستوں میں موجود خرابیوں کے سدباب کی بات ہوتی، نہ کہ انہیں ختم کرنے کی۔ اس مطالبے نے مہاجرین اور اہل کشمیر کے درمیان ایک نئی خلیج پیدا کر دی، جس کا فائدہ صرف دشمن کو پہنچا۔ مہاجرین دل شکستہ ہیں اور اہل کشمیر سے بدگمان۔افسوس یہ کہ یہ احتجاج کشمیریوں کو متحد کرنے کے بجائے مزید تقسیم کر گیا، ایک طرف مہاجرین کے خلاف نفرت کی فصل بوئی گئی، دوسری طرف پاکستان اور اہلِ کشمیر کے درمیان تعلق میں بھی دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی ۔ سوشل میڈیا پر تحریک کے بعض عناصر نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈ ے نے پاکستانیوںکو مایوس کیا۔ وہ قوم جو ہمیشہ کشمیریوں کے لیے کھڑی رہی، بچے قربان کئے، دکھ سہے، اور سہہ رہے ہیں، وہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا یہ محبتوں کا صلہ تھا؟ کیا ہمارے جذبات کی قدر یہی ہے کہ ہم پر الزام تراشی کی جائے؟ گالی دی جائے ؟ بعض بیرون ملک کشمیریوں کا کردار بھی کوئی شاندار نہیں رہا ، انہوں نے پاکستان مخالف مظاہرے کیے، دشمن کو خوش کرنے والے نعرے لگائے، یہ سب سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف زہر بن کر پھیلا۔اس سب کا ریکارڈ موجود ہے، اور وقت آنے پر یہ حساب کھولا بھی جا سکتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ دشمن کی سہولت کاری میں شریک ہوئے، کیا وہ واقعی کشمیریوں کے خیرخواہ ہیں؟یوں لگتا ہے کہ کشمیریوں نے ایک بار پھر دھوکا کھایا اور دشمن کو خوش کرنے کے سوا کچھ حاصل نہ کیا۔آخر میں وہی سوال گونجتا ہے کہ کشمیریوں کو آخر ملا کیا؟ اہلِ پاکستان کے لیے ایک پیغام کہ جو لوگ پاکستان کے پرچم کی توہین کرتے ہیں، گالی دیتے ہیں، وہ کشمیری نہیں۔ کبھی نہیں۔ سبز ہلالی پرچم ہمارا ایمان ہے، ہماری قبروں کی زینت ہے، اور اس کی بے حرمتی ناقابلِ برداشت۔کشمیر کی مٹی اب بھی وفادار ہے ۔ سید علی گیلانیؒ کا نعرہ ہی ہر کشمیری کا نعرہ ہے کہ ’’ہم پاکستانی ہیں ،پاکستان ہمارا ہے۔