حضرت اقدس پیرو مرشد حفظہ اللہ رقمطراز ہیں کہ اللہ تعالیٰ‘اہل غزہ اور ان کے تمام معاونین کی خصوصی نصرت فرمائیں‘رات جو مناظر اور خبریں سامنے آتی رہیں وہ بڑی دردناک، عبرتناک اور قابل نفرت تھیں گلوبل صمود فلوٹیلا پر صہیونی طاعونی چوہے حملہ آور ہو گئے۔اللہ تعالیٰ اس قافلے کے ہر ہر فرد کی حفاظت فرمائیں‘رات ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ صہیونی پوری انسانیت کے دشمن ہیں‘دودھ کے ڈبے ہاتھ میں اٹھا کر خوفناک سمندری سفر طے کرنے والوں کے ساتھ کیا کوئی انسان ایسا سلوک کر سکتا ہے؟ نیتن یاہو اور اس کی فوج انسان نہیں ایک سرطان ہیں‘ناسور ہیں۔ساری دنیا کو غزہ کے مجاہدین اور شہدا کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے اس ناسور کی حقیقت دنیا پر کھول دی ہے اور کروڑوں، اربوں انسانوں کے دلوں میںصہیونیوں کے لئے وہ نفرت بھر دی ہے جس کے وہ حقدار تھے۔ اللہ تعالیٰ مشتاق احمد(سابق سینیٹر)کو عظیم جزائے خیر عطا فرمائے انہوں نے حقیقی مسلمان ہونے کا ثبوت دیا۔ جہاد فی سبیل اللہ سے وابستہ افراد کو تو نہ ویزے ملتے ہیں اور نہ انہیں کوئی سفر کرنے دیتا ہے انہیں یہ سہولت حاصل ہوتی تو پھر فلوٹیلا کی شکل ہی کچھ اور ہوتی۔
بہرحال جو لوگ نکل سکے انہوں نے واقعی بڑا اور قابل تحسین کام کیا ہے۔اس قافلے کو روکنا خود اسرائیل کی شکست ہے وہ اب سائے سے بھی ڈرتا ہے‘ یہ قافلہ رک گیا تو کیا ہوا؟ابھی اور قافلے نکلیں گے ان شااللہ‘بہت بڑے بڑے قافلے اور سارے قافلے ہمیشہ غیر مسلح نہیں ہوں گے کہ کوئی گن دکھا کر ان کے ہاتھ اونچے کرا سکے۔مسلم حکمران‘قرآن مجید میں یہودیوں کو پڑھ لیں‘ان کی عہد شکنی کی داستانیں دیکھ لیں..انبیا علیہم الصلو والسلام کے یہ قاتل‘اس قابل نہیں کہ انہیں اپنے ملکوں میں گھسنے دیا جائے یا ان کے وجود کو تسلیم کیا جائے‘صمود فلوٹیلا والوں کا شکریہ!انہوں نے اپنی قربانی سے یہودیوں کے لئے زمین مزید تنگ کر دی ہے۔ ’’ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ جانے والے امدادی قافلے پر صیہونی فورسز کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ظلم، جبر اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ امدادی مشن پر جانے والے نہتے افراد کو گرفتار کرنا، ان کی کشتیوں پر حملہ کرنا اور انہیں طاقت کے زور پر روکنا بین الاقوامی انسانی اقدار، قانون اور انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘ یہ واقعہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ صیہونی قوت کسی ضابطے کی پابند نہیں اور انسانی ہمدردی کی کوششوں کو بھی برداشت کرنے پر آمادہ نہیں۔مولانا جالندھری نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحیت پر فوری اور واضح موقف اختیار کرے اور گرفتار افراد کی رہائی کی کوشش کرے‘انہوں نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ ان گرفتار افراد کی فوری رہائی اور مکمل تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، جمتہ المبارک کے دن ملک بھر میں امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا جس کی اپیل جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کی تھی، مولانا فضل الرحمن نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو خراج تحسین بھی پیش کیا، پی ٹی ائی کے ایم این اے اسد قیصر ، جمعیت علماء اسلام کے سینٹر مرتضی ایڈوکیٹ، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے علاوہ بھی متعدد مذہبی شخصیات اور علماء نے غزہ جانے والے امدادی قافلے میں گرفتار مشتاق احمد خان کی رہائی کے لئے حکومت سے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کی لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر بعض بدبخت فتنہ گر، اس معاملے کو بنیاد بنا کر علماء کرام اور مذہبی شخصیات کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ،مولانا مفتی منیب الرحمان جیسے جید علماء کرام کے کارٹون بنا کر انہیں گالیاں بکی جارہی ہیں ,ان کم ظرف شتونگڑوں سے کوئی پوچھے کہ غزہ کی فتح میں رکاوٹ مفتی تقی عثمانی یا مفتی منیب الرحمن ہیں ؟ یا فلسطین میں جا کر عملی طور پر جہاد کرنے کی ذمہ داری مفتی تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمن یا مولانا فضل الرحمن کی ہے،حقیقت میں یہ کم ظرف شتونگڑے نہ فلسطین کے ساتھ ہیں نہ افغانستان کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور نہ ہی ان کو کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے کوئی ہمدردی ہے،سوشل میڈیا پر جیئد علما ء کو گالیاں بکنے والے ان کم ظرف شتونگڑوں کا تعلق اسی ’’برگیڈ‘‘ سے ہے کہ جو افغانستان پر امریکی حملے کے موقع پر امریکہ کی غلامی اختیار کیے ہوئے تھا، اور بھیک میں ملنے والی امریکی امداد کو حاصل کر کے ایسے خوشیاں منایا کرتے تھے کہ جیسے ’’ہفت اقلیم‘‘کی دولت ان کے ہتھے چڑھ گئی ہو؟ ’’بے غیرت برگیڈ‘‘ کے یہ خرکار جب روس افغانستان پر حملہ اور ہوا تو روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر پشاور اور کراچی کو فتح کرنے کے خواب دیکھا کرتے تھے، لیکن پھر مجاہدین افغانستان کے ہاتھوں سوویت یونین کا وجود دنیا کے نقشے سے ہی مٹ گیا، افغانستان پر جارج ڈبلیو بش نے حملہ کیا تو اس برگیڈ کے انہی خرکاروں نے اپنی زبانیں دل اور قلم امریکہ کے لئے وقف کر دئیے لیکن پھر مجاہدین طالبان نے امریکہ کو افغانستان سے دم دبا کے بھاگنے پر مجبور کر دیا، اب اس مخصوص برگیڈ کے یہ سارے خرکار پاکستان کے جید علماء کے خلاف گزگز بھر لمبی زبانیں نکال کر اپنے جس خبث باطن کا اظہار کر رہے ہیں وہ قابل فہم ہے،لیکن اس موضوع پر تفصیلی کالم پھر کبھی ،ان شااللہ۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق گرفتار شدگان کے خلاف اسرائیلی حکام نے زبردستی انخلاء اور قانونی کارروائی کا عمل شروع کر دیا ہے، مگر اس دوران انہیں وکیلوں تک رسائی اور قانونی مشاورت کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ تنظیم نے اس اقدام کو اسرائیلی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسطول کے منتظمین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جہازوں پر حملے کے دوران پانی کی توپیں اور گندا پانی استعمال کیا، جبکہ رضاکاروں کے مواصلاتی نظام کو مکمل طور پر جام کر دیا گیا۔ ان کے مطابق قافلہ ایک پرامن شہری اور انسانی مشن تھا جس کا مقصد غزہ کے محاصرے کو توڑنا اور امداد پہنچانا تھا۔منتظمین نے اسرائیلی اقدام کو جنگی جرم اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور عالمی برادری سے فوری مداخلت اور گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق گرفتار کارکنان کے ساتھ یہ کارروائی ہوگی:
اسرائیلی حکام ان کی شناخت کریں گے اور امیگریشن اتھارٹی کے سامنے پیش کریں گے۔زیادہ تر کو ملک بدر کیا جائے گا یا تو رضاکارانہ طور پر یا عدالتی فیصلے کے بعد جبرا،انہیں 72 تا 96 گھنٹے کے اندر عدالت یا ڈیپورٹیشن کا سامنا کرنا ہوگا۔بعض کو عارضی طور پر جیل میں رکھا جا سکتا ہے، جہاں سخت حالات ہوں گے۔ آخرکار انہیں اپنے ممالک واپس بھیج دیا جائے گا۔