Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

شطرنجِ سیاست اور تقدیر کا فیصلہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
پانی کے مسائل،دلائی لاما،اوردریائوں پر منصوبے یہ وہ فالٹ لائنزہیں جن پراعتمادکی عمارت قائم کرنا آسان نہیں۔دلائی لاماکا مسئلہ دہلی اوربیجنگ میں ہمیشہ سے کانٹے کی مانندہے۔ اسی طرح دریاؤں پربڑے منصوبے مستقبل کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کرسکتے ہیں۔ پانی کی سیاست آئندہ صدی کی سب سے بڑی جنگ کاسبب بن سکتی ہے۔دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم کی تقریر ایک اعلانِ وفاتھی۔انہوں نے کہا ’’ہماری دوستی ہر امتحان میں کھرے سونے کی طرح ثابت ہوئی ہے۔‘‘یہ الفاظ سفارت کے تھے،مگراس کے پیچھے تاریخ کی گواہی ہے؛جب چین تنہاتھاتوپاکستان اس کے ساتھ کھڑا تھا اورجب پاکستان پردباؤآیاتوبیجنگ نے دوستی نبھائی۔
مبصرین کہتے ہیں کہ دہلی اوربیجنگ کے تعلقات وقتی ہیں۔ان میں وہ گہرائی نہیں جوپاک چین رشتے میں ہے۔پاکستان اورچین کی دوستی کسی تجارتی معاہدے کا نتیجہ نہیں،یہ دلوں کی ہم آہنگی اورضرورتوں کی یکسانیت کانچوڑہے۔اسی طرح پلوامہ کے بعدکی تلخی اب بھی دہلی اوراسلام آبادکے بیچ دیوارکی مانندکھڑی ہے۔پلوامہ حملے اوربعدکی صورتحال نے دہلی اسلام آبادتعلقات کو مزیدمشکل بنادیا۔یہ کشیدگی دہلی بیجنگ تعلقات پربھی اثر انداز ہوتی ہے،کیونکہ چین پاکستان کوایک اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔
خطے کاالمیہ یہ ہے کہ بھارت کے بیشترہمسایوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں جبکہ چین کی دوستی پاکستان، بنگلہ دیش،سری لنکا اورافغانستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے برعکس چین نے پورے خطے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے رشتے مضبوط کئے ہیں۔ دوسری طرف بھارت کبھی واشنگٹن کے درپردستک دیتاہے،کبھی ماسکو کا دامن تھام لیتاہے ،اور کبھی بیجنگ کے دربارمیں جا بیٹھتا ہے۔لیکن قرآن کا قانون یہ ہے‘یعنی جنہوں نے اللہ کے سواسہارالیا،ان کاسہارامکڑی کاجالاہے، جو ذرا سی ہواسے بکھرجاتاہے۔
سوشل میڈیاپرتوسوال یہ ہے کہ تیانجن میں کس سربراہ کااستقبال زیادہ شایانِ شان ہوامودی یاشہباز شریف ؟ تیانجن میں کس سربراہ کوزیادہ عزت دی گئی؟ مگراصل امتحان استقبال کے نعروں کانہیں، پالیسیوں کے فیصلوں کا ہے۔ یہ بحث عوامی سطح پرنمایاں رہی۔ مگراصل حقیقت یہ ہے کہ عزت پروٹوکول سے نہیں،تعلقات کی گہرائی سے ماپی جاتی ہے۔آخرکار اصل حقیقت یہی ہے کہ قوموں کی تقدیر نہ بیجنگ کے دربارمیں لکھی جاتی ہے،نہ واشنگٹن کے ایوان میں۔قرآن نے فیصلہ کن اصول دے دیا ہے ‘ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتاجو خودکوبدلنے کی خواہش نہیں رکھتے۔یعنی تقدیروہی بدلتی ہے جواپنے عزم،اپنی غیرت اوراپنے ایمان سے اپنی حالت بدلنے کاحوصلہ رکھیں۔
پاکستان کے وزیراعظم نے اپنی تقریرمیں ایک بارپھریہ ثابت کردیاکہ پاک چین دوستی الفاظ کاہیرپھیر نہیں بلکہ اعتماد،محبت اور قربانی کی ایک زندہ داستان ہے، جوہرآزمائش میں کامیاب اتری ہے۔شہباز شریف نے اپنی تقریرمیں پاک چین دوستی کو’’ہرآزمائش میں کامیاب‘‘ قراردیا۔یہ محض سفارتی جملہ نہیں بلکہ پچھلے کئی عشروں کی تاریخ کانچوڑہے۔ ماہرین متفق ہیں کہ انڈیا کے چین کے قریب آنے سے پاکستان کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے،کیونکہ چین پاکستان کارشتہ محض ’’تجارتی‘‘ نہیں بلکہ ’’تقدیری‘‘ہے۔زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ دہلی بیجنگ قربت اسلام آبادبیجنگ تعلقات پراثر اندازنہیں ہوگی۔یہ رشتہ ’’اسٹریٹجک اور گہرا‘‘ہے،کسی وقتی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوتا۔ مبصرین کاکہناہے کہ انڈیا اورچین اسٹریٹجک شراکت دارنہیں بن سکیں گے۔ ان کا ساتھ زیادہ دیرپانہیں،ماضی کے تنازعات ،سرحدی مسائل، اوربنیادی مسابقت اس تعلق کوہمیشہ ناپائیدار رکھے گی کیونکہ گہرے زخم صرف مہندی کے رنگ سے نہیں چھپتے۔
مودی نے کئی برس ایس سی اواجلاسوں میں خودشرکت سے گریزکیا،مگراب جب واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی بڑھی ہے تودہلی کو بیجنگ کاراستہ یادآیااورچین کے ساتھ ماسکوکی دہلیزپر سجدہ ریزہوگئے ہیں۔یہ دہلی کی’’متبادل تلاش‘‘کی حکمت نہیں مکاری کا عمل ہے۔ مودی واشنگٹن کوپیغام دیناچاہتاہے کہ یہ دہلی کے پاس متبادل آپشنزبھی ہیں لیکن ٹرمپ نے اس کابروقت جواب دے کر اقوام عالم کی سیاست میں مودی کابھیانک چہرہ دکھانے میں لمحہ بھرتاخیرنہیں کی۔مگریہ بھی حقیقت ہے کہ امریکاکے ساتھ تعلقات میں تناؤکی بنیادمعاشی ہے ۔ امریکی ملازمتوں کی منتقلی،روسی تیل،اورپاک بھارت جنگ بندی میں واشنگٹن کونظراندازکرنا،یہ سب عوامل ٹرمپ حکومت کوناراض کرگئے۔یوں یہ سب زیادہ تردکھائوے کے اقدامات ہیں؛دہلی اوربیجنگ کے تعلقات کی جڑیں گہری نہیں۔اب بھی اصل تجارتی تعلقات دہلی اورواشنگٹن کے بیچ زیادہ مضبوط ہیں۔
چین اوربھارت میں اسٹریٹجک نوعیت کے جو بنیادی اختلافات ہیں وہ’’دیرپا‘‘ہیں۔یہ تعلق کبھی مکمل اعتمادپرمبنی نہیں ہوسکتااوریہ تعلقات ہروقت بارودکے ڈھیرپرکھڑے ہیں۔
بھارت خودکوعالمی طاقت دیکھناچاہتاہے۔ لیکن اس خواب کی سب سے بڑی رکاوٹ وہ چین ہی کو سمجھتاہے۔اس لیے وہ کبھی مغرب کی گودمیں جا بیٹھتا ہے اورکبھی مشرق کی دہلیزپر دستک دیتاہے۔اس لئے دہلی کبھی بھی مکمل طورپرماسکواوربیجنگ کے ساتھ صف آراء نہیں ہوگا۔
بھارت نے اپنے بیشترپڑوسیوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات قائم رکھے ہیں اوریہی کشیدہ تعلقات دہلی کی اس حکمت عملی کومزیدکمزور کرتے ہیں۔اس کے برعکس چین نے پورے خطے کواپنی تجارتی زنجیرمیں باندھ دیاہے اوربالخصوص پاکستان کے سی پیک نے دنیاکی تجارتی منڈیوں کوایک لائن میں کھڑاکردیاہے اورچین کا مستقبل کی معاشی قوت کاخواب بھی سی پیک سے جڑا ہوا ہے اس لئے خطے میں جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کانعم البدل ممکن نہیں اوریہ اللہ کی طرف سے عطاکردہ وہ نعمت ہے جس پرپاکستانی مقتدرہ طاقتوں کوسوچ سمجھ کراپنی پالیسیوں کومرتب کرناہوگااورہرقدم پھونک پھونک کر رکھناہوگا۔
سات برس بعدمودی کاچین کادورہ زیادہ تر ’’سیاسی مجبوری‘‘کے تحت ہے۔اس سے پہلے مودی صرف امریکی خوف سے چین جانے سے گریزکرتے رہے اورکواڈکاممبربن کرچین کوبھی آنکھیں دکھاکرخودکو چین سے کہیں برترعالمی قوت بننے کی خوش فہمی مبتلارہے لیکن اب جب ٹرمپ نے بیچ چوراہے میں لٹیاڈبودی توماسکواوربیجنگ کاطواف خودپرلازم کرکے معافی کے خواستگاربن کرنئی چالوں سے محبت کے گیت ترنم سے گانے شروع کردیئے لیکن ماسکواوربیجنگ کے تمام سیاسی اوردفاعی تجزیہ نگاروں کاکہناہے کہ حالیہ ملاقات کے اثرات محض وقتی ہیں،اس کے گہرے اثرات کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔
یوں کہیے کہ عالمی سیاست کی یہ بساط ایک پیچیدہ کھیل ہے جس میں ہرکھلاڑی اپنی چال بدلتا رہتا ہے۔ بھارت کبھی واشنگٹن کا سنگی بنتاہے اورکبھی بیجنگ کی چوکھٹ پرسلامی دیتاہے مگرپاکستان کے لئے اصل سبق یہ ہے کہ اپنی شطرنج اپنی قوت سے کھیلی جائے۔یعنی تقدیرکے صفحے پروہی لکھاجاتاہے جسے قوم اپنے عمل اور عزم سے لکھواناچاہے۔یوں کہیے کہ سیاست کی یہ شطرنج ہرروزنئی چالیں چلتی ہے،لیکن آخری چال ہمیشہ تاریخ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اورتاریخ کاقانون یہی ہے کہ وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جواپنی بقاکا سامان اپنے اندر سے پیداکرتی ہیں،نہ کہ دوسروں کے سائے میں۔ پاکستان کے لئے اصل پیغام یہی ہے: اندیشوں کی زنجیرتوڑو،امکانات کے چراغ جلاؤ،اوراپنی تقدیرکاصفحہ خودلکھو۔
یہ تمام تفصیلات بتاتی ہیں کہ دہلی بیجنگ قربت وقتی اورمجبوری کے تحت ہے۔پاکستان کواندیشہ کے بجائے امکانات پرنظر رکھنی چاہیے کیونکہ اسلام آباد اور بیجنگ کارشتہ محض سفارت کانہیں بلکہ تقدیرکاہے،جسے کوئی وقتی چال بدل نہیں سکتی۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ طاقت کا اصل سرچشمہ نہ واشنگٹن کی گلیوں میں ہے،نہ بیجنگ کے محلات میں۔اصل قوت اس قوم میں ہے جواپنی صفوں میں اتحادپیداکرے،اپنے وسائل پربھروسہ کرے اور اپنے رب کے وعدوں پریقین رکھے۔چین اوربھارت کایہ قریب آناایک تماشہ بھی ہوسکتاہے اورایک امتحان بھی لیکن پاکستان کے لئے اصل راستہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کے فیصلوں کا تماشائی نہ بنے بلکہ اپنی تقدیرکا معمار خود ہو۔ قرآن کافیصلہ ہے: اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔ (العمران:160)
لہٰذاہمیں اندیشوں سے زیادہ امکانات پرنظررکھنی چاہیے۔دہلی اوربیجنگ کی قربت وقتی ہے، مگر پاکستان اورچین کی دوستی ایک عہدِوفا ہے۔سیاست کے اس بدلتے منظر نامے میں یہی دوستی ہماری ڈھال بھی ہے اورہماری قوت بھی۔ یوں سیاست کی یہ شطرنج آخرکار پاکستان کے لئے ایک پیغام چھوڑتی ہے۔اندیشے زنجیرہیں،امکانات چراغ ہیں؛جوقوم چراغ جلائے گی وہی اندھیروں سے نکل کرروشنی کی منزل پائے گی۔

یہ بھی پڑھیں