Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

طلوعِ مشرق‘عالمی طاقت کانیامحور

(گزشتہ سے پیوستہ)
نئی عالمی ترتیب میں طاقت کامرکزاب گلوبل ساتھ کی طرف منتقل ہوچکاہے۔اس منظرنامے میں بھارت کے لئے ضروری ہے کہ وہ پاکستان،چین، روس، ایران اوردیگرممالک کے ساتھ تعاون کرے تاکہ خطے کی اجتماعی ترقی ممکن ہو۔مئی2025ء کی حالیہ پاک بھارت جنگ سے مودی ابھی تک سبق حاصل کرنے کی بجائے اپنی ہزیمت کاادھارچکانے کے لئے بے تاب نظرآتاہے کیونکہ پاکستان نے چنددنوں میں اس کے دماغ سے عالمی طاقت بننے کاخناس خاک میں ملادیاہے۔
ادھردوسری طرف پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے یہ سمجھ لیاہے اورعالمی تعلقات میں نئے کردارکے لئے تیارہے۔اسی لئے روس کے صدرنے پاکستان میں حالیہ سیلاب اوردیگرقدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات پردکھ کااظہارکیا اور وزیرِاعظم شہبازشریف کی قیادت میں پاکستان کی بحالی کے عزم کی تعریف کی۔یہ عالمی تعلقات میں انسانی ہمدردی اورسیاسی شعورکی ایک جھلک تھی،جودکھ اورالم کے درمیان بھی حکمت عملی کی ضرورت کواجاگرکرتی ہے۔
جوبھی مصیبت تم پرآئے،وہ تمہارے اپنے اعمال کے سبب ہے،اوراللہ بہت کچھ معاف کرتاہے۔ (الشوری:30)
پوتن نے شہبازشریف کونومبر میں روس میں ہونے والے ایس سی اواجلاس میں شرکت کی دعوت دی،جس سے تعلقات کومضبوط بنانے کی نئی راہیں مزیدکھل گئیں ہیں۔یہ دعوت محض رسمی تعارف نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے نئے توازن اورعالمی تعلقات کیلئیایک اہم پیغام تھی۔روس کی اس دعوت سے واضح ہوتاہے کہ پاکستان اب عالمی منطقے میں اپنی اہمیت کے ساتھ کھڑاہے اور خطے میں مستحکم تعاون کے لئے ایک فعال کرداراداکرسکتاہے۔یہ ملاقات اس بات کی بھی غمازی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں صرف عسکری یااقتصادی نہیں بلکہ سیاست،اتحاداورباہمی اعتمادکی بنیادپراپنی پوزیشن مستحکم کرتی ہیں۔’’دعوت ایک چراغ ہے،جو اندھیروں میں بھی رہنمائی کرتاہے‘‘۔
پاکستان اورروس مشترکہ طورپرتعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں تاکہ ہمارے عوام کے مفادکے ساتھ ساتھ خطے میں امن اورخوشحالی کوبھی فروغ دیاجاسکے۔سوشل میڈیاپروڈیومیں دکھایاگیاکہ شہباز شریف،صدرشی،پوتن اورکم جونگ ان سابق چینی فوجیوں سے ملاقات کررہے ہیں۔یہ علامت ہے کہ پاکستان اب عالمی منظرنامے پر فرنٹ سٹیج پرکھڑاہے۔ اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ پاکستان اب فرنٹ سٹیج پرکھڑاہے،اوریہ عالمی منظرنامے میں اس کی موجودگی کی علامت ہے۔ ’’تاریخ کے اس محاذپر پاکستان وہ کشتی ہے جو طوفان میں بھی اپنی راہ بدلتی نہیں‘‘۔
تجزیہ کاروں اوردفاعی ماہرین کایہ بھی کہناہے کہ اب طاقت کامرکزگلوبل ساتھ کی طرف منتقل ہوچکاہے،اور تجزیہ کاروں کااس بات پرمکمل اتفاق ہے کہ بھارت کوفوری طورپرایک تعلیم یافتہ اورعالمی حالات سے باخبروزیراعظم کی ضرورت ہے تاکہ صحیح قیادت کے ذریعے نہ صرف داخلی مسائل حل کیے جائیں بلکہ خطے میں مؤثرکرداراداکیاجا سکے۔ موجودہ خارجہ پالیسی نے بھارت کوغیرمستحکم اور محدودکردیاہے۔بھارت کے لئے ضروری ہے کہ وہ چین، پاکستان،روس اوردیگرممالک کے ساتھ تعاون کرے تاکہ خطے کی اجتماعی ترقی ممکن ہو۔
وزیرِ اعظم نے ملاقات کے بعد کہا کہ پاکستان اور روس مشترکہ طور پر تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں تاکہ عوام کے مفاد کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ بیان عالمی سیاست میں نئے توازن کی ضرورت اور پرامن تعاون کے اصول کی نشاندہی کرتا ہے۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ عسکری قوت یا دھونس کے ذریعے نہیں ہوتا، بلکہ مشترکہ مفادات، تعلقات کی مضبوطی اور اعتماد کی فضا قائم کرنے سے بھی ممکن ہے۔سب مل کراللہ کی رسی کومضبوطی سے تھامواورفرقہ بندی نہ کرو۔(آل عمران:103)
یہ آیت اس بات کی یاددہانی ہے کہ عالمی تعلقات میں اتحاداوراشتراک سے ہی استحکام ممکن ہے ۔
دفاعی ماہرین اورتجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی طاقت کانیامحورگلوبل ساتھ کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ یہ تبدیلی بھارت سمیت دیگرممالک کے لئے چیلنج اورموقع دونوں ہے۔نئی عالمی معیشت اورسیاسی توازن میں طاقت کی مرکزیت کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔ ملاقات میں شہبازشریف نے پوتن کوبتایاکہ گزشتہ سال دوطرفہ تجارت میں اضافہ روس سے تیل کی درآمدکی وجہ سے ہوا۔ زراعت،اسٹیل،ٹرانسپورٹ اوربیلاروس‘پاکستان کوریڈور میں نئے معاہدے بھی طے پائے۔یادرہے کہ تجارت کے پل ہمیشہ دوستی کے پل کے ساتھ جڑتے ہیں اورسورج ہمیشہ اپنی جگہ پرنہیں رہتا،کبھی مغرب توکبھی مشرق میں طلوع ہوتاہے۔یہ استعارہ اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ طاقت کے دورانئے مستقل نہیں،بلکہ وقت کے ساتھ محاذبدلتے اوراتحاد قائم ہوتے ہیں۔
پاکستان اورروس کے تعلقات کی مضبوطی خطے میں توازن اورامن کے لئے ایک نئی روشنی ہیں۔یہ ملاقات صرف دورہنمائوں کا اجلاس نہیں بلکہ عالمی سیاست کے نئے باب کااعلان ہے۔ تاریخ کے آئینے میں یہ منظرنامہ اس بات کی گواہی دیتاہے کہ طاقت کے توازن اورعالمی قیادت کی سمت اب مشرق کی جانب جھک رہی ہے۔اس نئے منظرنامے میں بھارت کو سمجھنا ہوگاکہ گلوبل ساتھ کے ترقیاتی راستے میں پاکستان،چین، روس، ایران اوردیگرممالک کے ساتھ تعاون لازمی ہے۔عالمی سیاست میں یک طرفہ حکمرانی ممکن نہیں رہی،اور تعاون کی فضاقائم کرناہی خطے کے امن اور خوشحالی کاضامن ہے۔یہاں یہ بات بھی بھارت کے لئے اہم ہے کہ غزہ اور اسرائیل کے خونی معرکے میں مودی کااسرائیل میں ایک ملین کے قریب ہندوؤں کاغزہ کے بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنا ایران اور مشرقِ وسطی کے تمام ممالک کے لئے ایک ایسا سانحہ ہے جس پروہ بھارت کے اس عظیم گناہ کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے۔’’جہاں ہاتھ ملیں،وہاں دریاکی روانی بھی بدل جاتی ہے‘‘ اورتاریخ میں یہودوہنودکایہ اتحاد ان کی آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ شرمندگی کاباعث بنے گا۔‘‘
تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ پاکستان نے اپنے رویہ سے ثابت بھی کردیاہے کہ وہ اب بھی خطے میں غربت کے خاتمے کے لئے بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کے لئے تیارہے لیکن بھارتی چانکیہ سیاست میں مکاری سے متحارب فریق کودھوکہ دیناعین جائزسمجھاجاتا ہے جس کی وجہ سے مودی اب بری طرح اقوام عالم میں ننگاہوچکاہے جبکہ’’ایکس‘‘ پرشہبازشریف کی وہ ویڈیوپوسٹ،جس میں وہ صدرشی،پوتن،کم جونگ ان اورسابق چینی فوجیوں سے ہاتھ ملارہے ہیں،اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔یہ منظرعالمی سیاست میں پاکستان کی فعال شمولیت اورخطے میں اعتمادسازی کامظہرہے۔
شہباز شریف فرنٹ سٹیج پران اہم رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہیں،جس سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان عالمی سیاست میں اپنی اہمیت کو بڑھارہاہے اوربھارت کے مقابلے میں اپنا مؤقف مضبوط کررہاہے۔شہبازشریف نے وڈیوپوسٹ میں لکھاکہ پاکستان پوتن،شی اورکم کے ساتھ فرنٹ سٹیج پرکھڑے ہوکردنیاکودکھایاکہ پاکستان خطے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ برابرکاکھلاڑی ہے۔یہ منظرمودی کی تباہ کن خارجہ پالیسی کے اثرات اورخطے میں نئے توازن کی عکاسی کرتاہے۔یادرہے کہ فرنٹ سٹیج پرکھڑے ہونا،کسی کھیل میں مرکزی کھلاڑی بننے کے مترادف ہے۔’’قیادت کاچراغ بغیرعلم کے اندھیروں میں محوہوجاتاہے‘‘۔
وزیراعظم شہبازشریف ان خصوصی مہمانوں میں شامل تھے جنہیں وکٹری ڈے کی تقریب میں مدعو کیا گیا،جبکہ مودی کواس تقریب میں مدعونہیں کیاگیا جبکہ شہبازشریف،پوتن اورکم جیسے رہنمائوں کے ساتھ شریک ہوئے۔یہ منظرعالمی سیاست میں بھارت کے محدودکردارکی عکاسی کرتاہے۔یہ واضح پیغام تھاکہ پاکستان عالمی تعلقات میں مؤثر شراکت دارکے طور پر کھڑا ہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں