Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاکستان‘ امید اور نظرئیے کا چراغ

تاریخ کادریاکبھی رکتانہیں،اس کابہائو صدیوں کی داستانوں اورقوموں کے عروج وزوال کو اپنےساتھ بہالےجاتاہے۔اس کے بہائو میں صدیوں کی کہانیاں اورقوموں کی تقدیریں ایک دوسرے کے ساتھ بہتی چلی آتی ہیں۔کبھی ایک قوم عروج کی منزل پرفائزدکھائی دیتی ہے توکبھی دوسری قوم زوال کی پاتال میں جاگرتی ہے۔ کبھی ایک قوم فلک بوس عمارتوں اورعلم وفن کی روشنی سے دنیاکومنور کرتی ہے اورکبھی وہی قوم اندھیروں کی قیدمیں جاگرتی ہے لیکن ایک حقیقت ہمیشہ اپنی جگہ برقراررہتی ہے کہ طاقتورہمیشہ اپنی طاقت کے نشے میں کمزور پرغالب آتاہےاوراپنےظلم کےجواز میں نت نئی تاویلات تراشتاہے۔کبھی تہذیب کی ترویج کے بہانے،کبھی جمہوریت کے پھیلائو کےنام پراورکبھی دہشتگردی کے خاتمے کی اوٹ میں۔
دنیاکی تاریخ ایک عظیم کتاب ہےجس کے اوراق خون اورآنسوئوں سےلکھےگئے ہیں۔ ہر صفحہ ہمیں یہی بتاتاہےکہ جب ظلم اپنی انتہا کوپہنچتاہے تومظلوم کے دل سے نکلی دعا کائنات کے توازن کو بدل دیتی ہے۔ ماضی کی تہذیبیں،سلطنتیں اورطاقتور حکمران آج مٹی کا رزق بن چکے ہیں،مگران کے مظالم کی داستانیں آج بھی اہلِ بصیرت کے لئے عبرت کاسامان ہیں ۔اس جہانِ رنگ وبومیں طاقتور ہمیشہ کمزورپرغالب آنے کی کوشش کرتارہاہے اور اپنی جارحیت کوکسی نہ کسی نام سےمزین کرتاآیا ہے۔کبھی تہذیب کاپرچم،کبھی جمہوریت کانعرہ اورکبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کابہانہ۔آج بھی وہی کھیل جاری ہے۔نیتن یاہو کاحالیہ بیان اسی پرانی داستان کانیا باب ہیایک ایساباب جوخون کی سیاہی سے لکھاگیاہے اورجس کے پس منظرمیں پوری مسلم دنیاکودھمکی کاپیغام دیاگیاہےمگرایک بات ہردور میں مسلم رہی ہےکہ طاقتور اپنی طاقت کے نشے میں کمزورکوروندتارہا ہے، اوراپنے ظلم کی تاویل میں نعرے تراشتارہاہے۔کبھی تہذیب کاعلم،کبھی جمہوریت کی مشعل،اورکبھی دہشتگردی کے خاتمے کابہانہ۔آج کے حالات بھی اس تاریخی تکرار سے الگ نہیں۔
گزشتہ چنددنوں سے نیتن یاہوکاایک ویڈیو پیغام دنیابھرمیں موضوعِ بحث ہے۔اس پیغام میں نائن الیون کےسانحے کاحوالہ دیکرقطرپر اسرائیلی حملے کاجوازپیش کرنے کی کوشش کی ۔یہ بیان محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کی نئی بساط پررکھے گئے مہرے کی جھلک ہے۔نیتن یاہونے اپنے دومنٹ کے بیان میں کہاکہ اسرائیل نے وہی کیاجوامریکا نے نائن الیون کےبعدکیا تھا۔امریکانے افغانستان پرحملہ کر کے القاعدہ کے مراکزتباہ کئے اورپھرپاکستان میں گھس کر اسامہ بن لادن کومارڈالا۔یہ الفاظ بظاہرایک موازنہ ہیں مگر دراصل آئندہ کے خطرات کی نشاندہی اورپیش گوئی ہیں۔قطرکونشانہ بناکرپاکستان کاحوالہ دیناگویاکل کی سازشوں کادروازہ کھول دیناہے۔گویاقطرآج کا ہدف ہے اورپاکستان کل کا۔
یہ کوئی نئی روش نہیں،یہی توطاقتورقوموں کی پرانی حکمتِ عملی ہے۔تاریخ کے آئینے میں دیکھیں توہرطاقتورنے ظلم کے لئے کسی نہ کسی بہانے کو ڈھال بنایا ہے۔وہ اپنے ظلم کے لئے کسی واقعے کوجوازبناتی ہیں،پھراس جوازکواتنادہراتی ہیں کہ کمزورقومیں خود کو مجرم سمجھنے لگتی ہیں۔صلیبی جنگوں میں مذہب کوبہانہ بنایاگیا، نوآبادیاتی دورمیں تہذیب کےفروغ کادعویٰ اورپرچارکیاگیا،اور اب دہشت گردی کےخلاف جنگ کےنام پرعالمِ اسلام کو نشانہ ہی نہیں بنایاجارہا بلکہ کچلا جارہاہے۔
قطرنےبروقت فوری ردعمل دیاکہ حماس کےدفترکی میزبانی اس کی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ امریکی واسرائیلی درخواست پر ثالثی کے تناظرمیں تھی۔گویاوہی طاقتیں جوکل قطرکےدروازے پرثالثی کی بھیک مانگ رہی تھیں،آج اسی کوغداری اوردہشتگردی کا مرکزکہہ رہی ہیں۔یہ وہی وعدہ شکنی اورسفارتی وعدہ شکنی ہے جوسفارتکاری کی بنیادوں کوکھوکھلااور تعلقات کی بنیادیں متزلزل کردیتی ہے ۔یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ جب قطر میں امریکاکاسب سے بڑا فضائی اڈہ’’العدید‘‘ موجود ہے،توکیایہ حملہ ٹرمپ یا امریکی انتظامیہ کی لاعلمی میں ہو سکتا تھا؟تاریخ گواہ ہےکہ بڑی طاقتوں کے اشارے کے بغیر چھوٹی طاقتوں کی جرات نہیں کہ وہ ایسا قدم اٹھاسکیں۔بڑی طاقتوں کی خاموشی اکثر ان کی رضامندی کا دوسرانام ہوتی ہے۔یہ خاموشی دراصل ایک پوشیدہ اقرارِجرم ہے۔
نیتن یاہوکاجملہ کہ دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کرویاہم کارروائی کریں گے محض قطرکے لئے نہیں بلکہ پورے خطے کےلئےایک دھمکی ہے۔کیایہ ممکن نہیں کہ کل یہی زبان پاکستان کے خلاف استعمال ہو؟کیایہ بعیدہےکہ امریکا، بھارت اوراسرائیل کااتحادپاکستان کواسی طرح نشانے پرلےجیسے عراق،شام اورلیبیا کو بنایا گیا ؟
یہاں ایک تاریخی حقیقت بھی ہےکہ پاکستان قطرنہیں اوراسرائیل امریکانہیں۔پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ایک نظریاتی ریاست ہے،اور ایک ایسی قوم ہے جواپنی جڑوں میں دینی حمیت اورتہذیبی غیرت رکھتی ہےاور ایک ایسی سرزمین ہےجواپنے وجودمیں ہی ایک انقلاب کی صدارکھتی ہے۔لیکن کیادشمن ان حقائق کو نظرانداز نہیں کرسکتا؟کیاوہ سازشوں کے جال میں پاکستان کوگھیرنے کی کوشش نہیں کرے گا؟یہ حقیقت اس بات کی ضامن نہیں کہ دشمن خاموش بیٹھےگا۔خاص طورپرایسے وقت میں جب مودی اپنی شکست کے بعد بدلے کی آگ میں جل رہا ہے ۔ مئی2025ء کی جنگ میں یہودوہنودکی ہزیمت گویاان کے دل پرداغ کی مانندثبت ہوگئی ہے۔ پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست نےبھارت کےغرورکوتوڑ ڈالا ہے۔ مودی بارباردھمکی دے رہاہےکہ وہ بدلہ ضرورلےگااب اگروہ اسرائیل اورامریکاکے کندھے استعمال کرے توکیایہ خطے کوایک نئی آگ میں جھونکنے کےمترادف نہ ہوگا؟
تاریخ صرف واقعات کی فہرست نہیں بلکہ ایک آئینہ ہےجس میں اقوام اپنی غلطیاں اورکامیابیاں دیکھ کراپنے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔امتِ مسلمہ کی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہےکہ جب ہم نےاتحاد اورایمان کواپنی بنیادبنایا،دنیاکی کوئی طاقت ہمارے سامنےکھڑی نہ ہوسکی لیکن جب ہم تفرقےمیں مبتلاہوئے،دشمن نےہمیں شکست دی اور غلامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔
خلافتِ عثمانیہ چھ صدیوں تک مسلمانوں کی عظمت اورطاقت کی علامت رہی۔تین براعظموں پر پھیلی اس خلافت نے نہ صرف مسلمانوں کوایک پرچم تلے جمع کیابلکہ یورپ کی طاقتوں کوبھی کئی صدیوں تک اپنی پالیسیوں پرنظرِثانی کرنے پرمجبورکیالیکن جب اندرونی اختلافات،مغربی سازشیں اورقوم پرستی کے فتنےسراٹھانےلگےتویہ خلافت کمزور ہوتی گئی۔بالآخرپہلی جنگِ عظیم کےبعدخلافت کازوال ہوااورمسلم دنیاٹکڑوں میں بٹ گئی۔ اس زوال نے مسلمانوں کویہ سبق دیا کہ اگرامت اپنی وحدت کھودے تواس کی عظمت بھی خاک میں مل جاتی ہے۔صلیبی جنگوں کازمانہ بھی تاریخ کاایک روشن باب ہے۔جب صلیبی طاقتیں بیت المقدس پرقابض ہوئیں توامت پراندھیراچھا گیا۔مگرصلاح الدین ایوبی نے اپنے ایمان،اخلاص اورعسکری حکمتِ عملی کے ذریعے وہ کارنامہ انجام دیاجسے دنیاآج بھی یاد کرتی ہے۔ اس نےصرف بیت المقدس کوآزادنہیں کرایابلکہ امت کویہ پیغام دیاکہ ایمان کی حرارت اورعزمِ صمیم سے ناممکن کو ممکن بنایاجاسکتاہے۔آج کے دورمیں امت کوپھراسی جذبے اوریکجہتی کی ضرورت ہے جوصلاح الدین کی قیادت میں ظاہرہوئی تھی۔
برصغیرکی تاریخ میں جنگِ آزادی1857ء ایک عظیم موڑتھا۔یہ وہ وقت تھاجب مسلمان اور ہندو دونوں نے مل کرانگریز سامراج کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔اگرچہ یہ جنگ کامیاب نہ ہوسکی اورلاکھوں لوگوں نےاپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا، مگراس نے آزادی کی بنیادرکھ دی۔یہ جنگ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قربانی اورعزم کےبغیرآزادی کی نعمت حاصل نہیں ہوتی۔پاکستان کاقیام اسی جنگِ آزادی کی ایک طویل جدوجہدکاثمرہے۔
1258ءمیں جب منگولوں نے بغدادپرحملہ کیاتوخلافتِ عباسیہ کاخاتمہ ہوگیا۔لاکھوں مسلمان شہیدہوئے اوراسلامی دنیاکا علمی وتہذیبی مرکز خاک میں مل گیا۔مگراسی بربادی کے بعد مسلمان دوبارہ اٹھے اورنئی سلطنتیں قائم کیں۔یہ واقعہ اس بات کاغمازہے کہ زوال کے بعدبھی اگرامت ایمان اورعلم کواپنا ہتھیار بنائے تودوبارہ عروج حاصل کرسکتی ہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں