Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاکستان‘ امید اور نظرئیے کا چراغ

(گزشتہ سےپیوستہ)
1919ء میں جب خلافتِ عثمانیہ کے زوال کاخطرہ پیداہواتوبرصغیرکے مسلمانوں نے تحریکِ خلافت کے ذریعے اپنی وابستگی اورغیرت کااظہار کیا ۔ اگرچہ یہ تحریک سیاسی طورپر کامیاب نہ ہوسکی مگراس نے مسلمانوں کوبیدارکیااوربالآخر تحریکِ پاکستان کی راہ ہموارکی۔یہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ امت کادرداورمشترکہ مقصدافراد کو نئی جدوجہدپرآمادہ کردیتاہے۔
یہ تمام مثالیں ہمیں ایک ہی نکتہ سمجھاتی ہیں‘ اتحاد،قیادت اورقربانی کے بغیرامت کی بقاممکن نہیں۔ چاہے وہ خلافتِ عثمانیہ کازوال ہو،صلاح الدین کی فتوحات ہوں،یاجنگِ آزادی1857 ء ‘ہرواقعہ ہمیں یہی بتاتاہے کہ جب مسلمان اپنے ایمان اور نظریے پرقائم رہتے ہیں تودنیاان کے قدموں میں ہوتی ہے۔ مگرجب وہ تفرقے اورخودغرضی کاشکار ہو جاتے ہیں توذلت ان کامقدربن جاتی ہے۔آج پاکستان اورمسلم دنیاکوانہی مثالوں سے سبق لیناہوگا۔اگرہم نے ماضی سے کچھ نہ سیکھاتومستقبل کی تاریخ بھی ہمیں محض عبرت کے طورپریادکرے گی۔
یادرہے کہ امریکا-بھارت-اسرائیل یہ سہ فریقی اتحاداورگٹھ جوڑمحض وقتی نہیں بلکہ ایک دیرینہ منصوبہ ہے۔امریکاکے نزدیک چین کابڑھتاہوا اثرسب سے بڑاخطرہ ہے۔بھارت اپنی شکست کے داغ کودھونا چاہتاہے اوراسرائیل اپنی جارحانہ پالیسی کوپورے مشرقِ وسطیٰ میں نافذ کرناچاہتاہے۔یہ سہ فریقی اتحادمحض وقتی نہیں بلکہ ایک گہری حکمتِ عملی کاحصہ ہے۔امریکاکی آنکھوں میں چین کابڑھتاہوااثر، بھارت کی شکست اوراسرائیل کی علاقائی عزائم،یہ سب ایک ہی نقطے پر ملتے ہیں،پاکستان اورچین کی دوستی کوتوڑنااورمسلم دنیاکو تقسیم درتقسیم کرتے رہنا۔۔
یہی وہ پرانی تکنیک ہے جسے ٹرمپ اوراس جیسے رہنمااستعمال کرتے ہیں۔یہ اتحادایک ایساجال ہے جودہشت گردی کے نام پرپھیلادیا گیاہے لیکن اس کا مقصدمسلم دنیاکومنتشرکرنا اور ہرابھرتی ہوئی قوت کو دبانا ہے۔ٹرمپ کی پرانی تکنیک بھی یہی ہے،پہلے کسی ملک کومذاکرات کی میزپربٹھا،پھرتوجہ ہٹا،اورآخرکارکسی اتحادی کے ذریعے اس پروارکرو۔افغانستان ، عراق، شام اورلیبیااس کے زندہ نمونے ہیں۔آج قطرکونشانہ بنایاجارہاہے،کل پاکستان یاکوئی اورملک بھی اس فریب کاشکارہوسکتاہے۔
پاکستان کے سامنے آج دوراستے ہیں،یاتووہ مصلحتوں کے پردے میں چھپ کروقت گزارے، یا اپنے دوستوں کے ساتھ مل کرایک فعال حکمتِ عملی اپنائے۔تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ قومیں خواب دیکھنے سے نہیں بلکہ حقیقت پرعمل کرنے سے زندہ رہتی ہیں۔یہاں سوال یہ ہے کہ پاکستان کیاکرے؟کیاوہ محض بیانات پراکتفاکرے یاعملی اقدامات اٹھائے؟ تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ کمزوروہی قومیں ہوتی ہیں جوخوابوں میں مگن رہتی ہیں اورحقیقت کی زمین پرقدم نہیں رکھتیں۔
پاکستان کے لئے سب سے پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی اندرونی صفوں کودرست کرے۔
دوسرااہم کام چین کے ساتھ سیاسی،اقتصادی اورعسکری تعلقات کونئی جہت دیناوقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔سی پیک کو دوبارہ فعال کرنا،اس میں نئی سرمایہ کاری لانا وقت کی اہم ترین ضرورت اوراسے وسعت دیناناگزیرہے۔سی پیک کودوبارہ فعال بنانا اوراس میں نئی سرمایہ کاری لاناوقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ خطے میں نئے اتحادبنانے ہوں گے۔اس کے ساتھ ساتھ ایسے نئے اتحادتشکیل دینے ہوں گے جن میں برادراسلامی ممالک اورابھرتی ہوئی عالمی طاقتیں شامل ہوں۔
سارک کودوبارہ زندہ کیاجاسکتاہے،چاہے بھارت شریک ہویانہ ہو۔اگرچین کوبھی اس میں شامل کرلیاجائے تویہ اتحادمزیدمضبوط ہو سکتاہے۔اسی طرح پاکستان کوبرکس میں شمولیت کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ عالمی معیشت اورعالمی سیاست میں ایک نئی جگہ بناسکے۔
اگرہم اپنی تاریخ پرنظرڈالیں توہمیں ہرجگہ یہی سبق ملتاہے کہ جب مسلمان ایک تھے تودنیاپران کاسکہ چلتاتھا۔اندلس میں علم وتہذیب کی روشنی پھیلتی تھی، بغداد علم وفن کامرکزتھا، قسطنطنیہ سیاست کامحورتھالیکن جب مسلمان ٹکڑوں میں بٹ گئے توہرطاغوت ان پر غالب آگیا۔آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں کودرست کریں۔اگرہم نے یہ موقع کھودیاتو ہماری داستان بھی محض کتابوں میں باقی رہ جائے گی لیکن اگرہم نے اپنے ماضی کی عظمت سے سبق سیکھا،توپاکستان اس امت کے لئے امیدکی کرن اورحوصلہ کاچراغ بن سکتا ہے۔اقبالؒ نے اسی حقیقت کوان الفاظ میں ڈھالاہے:
افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یہ بھی حقیقت ہے کہ امتِ مسلمہ کے مسائل کا حل محض احتجاج اورقراردادوں میں نہیں۔اگرہمیں امریکا-بھارت-اسرائیل کے جال سے بچناہے توہمیں اپنے اختلافات ختم کرکے ایک مضبوط بلاک بناناہوگا۔ اسلامی تعلیمات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ امت کا اتحاد ہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔قرآن کہتاہے:
یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لواورتفرقے میں نہ پڑو۔اگرہم نے اس حکم کواپنی سیاست اورمعیشت میں لاگوکیاتودنیاکی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔
آج ہمیں ان کے الفاظ کویادرکھناہوگاکہ قومیں اپنے ماضی کے تجربات کوبھول جائیں توحال بھی ان کا بے وقعت ہوجاتاہے اورمستقبل بھی بے نور۔ پاکستان محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے،اوریہ نظریہ ہمیں متحد کرنے کی سب سے بڑی بنیادبن سکتاہے۔
نیتن یاہوکابیان محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ خطے کے لئے ایک نئے خطرناک طوفان اورشدیدخطرہ کاعندیہ ہے۔قطرپرحملہ دراصل ایک پیغام ہے کہ کل کسی اورکوبھی اسی طرح نشانہ بنایا جاسکتاہے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس خطرے کومحض قطرتک محدودنہ سمجھے بلکہ اپنی حکمتِ عملی اسی نظرسے مرتب کرے۔یہ وقت ہے کہ ہم محض ردعمل نہ دکھائیں بلکہ ایک فعال اور مثبت حکمتِ عملی اپنائیں۔ہمیں یادرکھناچاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے،ایک نظریاتی ریاست ہے،اورایک ایسی امیدہے جومسلم دنیاکے لئے روشنی کاچراغ بن سکتی ہے۔ اگرہم نے اپنی صفوں کودرست کیا، ااوراپنے دوستوں کے ساتھ تعلقات کومضبوط کیا،اپنی معیشت کومستحکم کیااوراپنی سیاست کوبصیرت بخشی،توکوئی طاغوتی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکے گی۔
پاکستان کویہ ثابت کرناہوگاکہ وہ صرف اپنی سرزمین کامحافظ نہیں بلکہ اپنے نظریے اوراپنی تہذیب کابھی پاسبان ہے۔یہی وقت ہے کہ ہم دنیاکودکھادیں کہ پاکستان قطرنہیں اور اسرائیل امریکانہیں بلکہ پاکستان وہ چراغ ہے جواندھیروں میں بھی روشنی بانٹ سکتاہے،اور وہ قلعہ ہے جوامت کی امیدوں کامحافظ ہے۔
آج کاوقت ہمیں ایک فیصلے کے دہانے پر لاکھڑا کرتاہے۔یاتوہم خاموشی کی چادراوڑھ کرتاریخ کے اندھیروں میں کھوجائیں،یااپنے ماضی کی روشنی کواپنے حال پرڈھال کرمستقبل کوروشن کریں۔نیتن یاہوکابیان قطرپرحملے کاجوازنہیں بلکہ پورے خطے کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے۔پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ محض تماشائی نہ بنے بلکہ تاریخ کے دھارے کوموڑنے والاکرداراداکرے۔یہ لمحہ پاکستان کے لئے امتحان ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم دنیاکودکھادیں کہ پاکستان صرف ایک خطہ زمین نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے،ایک امید ہے اورایک چراغ ہے جوامتِ مسلمہ کے لئے روشنی کاپیغام لاتاہے۔ ہمیں دنیاکویہ بتاناہوگاکہ پاکستان قطرنہیں اوراسرائیل امریکانہیں۔بلکہ پاکستان وہ قلعہ ہے جوامت کی امیدوں کا محافظ ہے اوروہ شمع ہے جوظلمت کے سمندرمیں بھی روشنی بانٹتی ہے۔
پاکستان کاوجودمحض ایک ریاست نہیں،بلکہ ایک خواب کی تعبیرہے۔یہ خواب وہی ہے جواقبالؒ نے دیکھاتھااورجسے قائداعظم ؒنے حقیقت کاروپ دیا۔اب یہ ذمہ داری ہماری ہے کہ ہم اس خواب کی حفاظت کریں اوراسے امت کی امیدوں کامرکزبنائیں۔آج کاوقت ہمیں ایک فیصلے کے دہانے پرلاکھڑاکرتاہے۔یاتوہم خاموشی کی چادراوڑھ کرتاریخ کے اندھیروں میں کھو جائیں، یااپنے ماضی کی روشنی کواپنے حال پرڈھال کرمستقبل کوروشن کریں۔نیتن یاہوکابیان قطرپرحملے کا جوازنہیں بلکہ پورے خطے کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے۔ پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ محض تماشائی نہ بنے بلکہ تاریخ کے دھارے کوموڑنے والا کردار اداکرے۔
جیسا کہ اقبالؒ نے کہا:
جو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میں
غلامی ہے اسیرِ امتیازِ ماو تو رہنا

یہ بھی پڑھیں