حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ صرف ملتِ اسلامیہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان سے ہر دور میں امتِ مسلمہ اور انسانی سوسائٹی نے استفادہ کیا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔
حضرت فاروق اعظمؓ کے بیسیوں فضائل و مناقب میں سے ایک یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر نبوت کا سلسلہ منقطع نہ ہو جاتا اور میرے بعد کسی کے نبی کے منصب پر فائز ہونے کی گنجائش ہوتی تو عمرؓ نبی ہوتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں نبی بننے کی صلاحیت موجود تھی مگر نبوت کا سلسلہ منقطع اور دروازہ بند ہو جانے کی وجہ سے وہ نبی نہیں بن سکے۔ چنانچہ اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات حضرت عمرؓ کی رائے کی تائید میں نازل ہوئیں، جنہیں مفسرین کرامؒ کی اصطلاح میں ’’موافقاتِ عمر‘‘ کہا جاتا ہے اور ان کی تعداد دو درجن کے لگ بھگ بیان کی گئی ہے۔ بعض مواقع پر پیش آمدہ مسائل حضرت عمرؓ نے رائے کا اظہار کیا جس کی تائید میں وحی نازل ہوئی اور قرآن کریم نے ان کی رائے کو صائب قرار دیا۔ مثلاً غزوۂ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمرؓ کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کر دینا چاہیے، یہ رائے قبول نہیں کی گئی اور ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا، جس پر اللہ تعالٰی نے قرآن کریم کی آیات کے ذریعے حضرت عمرؓ کی رائے کی تائید فرما دی، اسی طرح اور بھی بہت سے واقعات احادیث میں موجود و مذکور ہیں۔
سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عمرؓ کے ذوق کے حوالہ سے ایک واقعہ کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ نبی کریمؐ کے بعض احکام وقتی ضرورت کے لیے ہوتے تھے جو ضرورت مکمل ہو جانے کے بعد باقی نہیں رہتے تھے۔ جیسا کہ ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار میں مواخاۃ کرائی گئی اور انہیں ایک دوسرے کا وارث قرار دیا گیا، جو مدینہ منورہ میں مہاجرین کو آباد کرنے کی وقتی ضرورت کے تحت تھا، بعد میں ضرورت مکمل ہونے پر وراثت کے باقاعدہ احکام نافذ ہوئے اور مواخات کا یہ سلسلہ موقوف ہو گیا۔ اسی طرح ایک موقع پر عید الاضحی کے خطبہ میں جناب نبی اکرمؐ نے اعلان فرمایا کہ قربانی کا گوشت گھر میں تین دن سے زیادہ رکھنا منع ہے، جبکہ اگلے سال عید الاضحی کے موقع پر اعلان کیا کہ گزشتہ سال یہ پابندی وقتی ضرورت کے تحت لگائی گئی تھی کہ کچھ ضرورت مند قبائل مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آئے تھے، پابندی کا مقصد یہ تھا کہ گوشت ذخیرہ کرنے کی بجائے ان کو دے دیا جائے، اب وہ صورتحال نہیں ہے اس لیے پابندی ختم ہو گئی ہے۔
اس پس منظر میں ایک اور حکم پر غور کر لیا جائے کہ عمرۃ القضاء کے موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کافی عرصہ کے بعد حاضری کا موقع ملنے کی وجہ سے انتہائی عاجزی کے ساتھ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے، جسے اردگرد دیکھنے والے دشمنوں نے کمزوری پر محمول کیا اور کہا کہ ’’وھنتھم حُمّٰی یثرب‘‘ حضورؐ کے ساتھیوں کو یثرب کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور وہ کمزور پڑ گئے ہیں۔ آنحضرتؐ کو یہ بات پسند نہیں آئی، چنانچہ انہوں نے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکر رمل کے ساتھ لگائے جائیں، یعنی عاجزی کی بجائے اکڑ کر چلا جائے تاکہ دشمن اسے کمزوری نہ سمجھے۔ یہ رمل اب تک چلا آرہا ہے اور طواف کے پہلے تین چکر آج بھی رمل کے ساتھ لگائے جاتے ہیں، حالانکہ یہ ایک وقتی ضرورت تھی جو اس کے بعد نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں بھی باقی نہیں رہی تھی، بالخصوص فتح مکہ کے بعد تو ماحول بالکل بدل گیا تھا اور اردگرد کوئی طعنہ دینے والا موجود نہیں تھا، مگر رمل بدستور چلتا رہا اور اب بھی چل رہا ہے۔
حضرت عمرؓ کے بارے میں ایک روایت میں مذکور ہے کہ انہوں نے اپنی خلافت کے دور میں اس بات پر غور کیا کہ اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی، اسے ختم کر دینا چاہیے، مگر یہ سوچ کر ارادہ ترک کر دیا کہ جب حضورؐ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں بظاہر ضرورت ختم ہو جانے کے باوجود اسے ختم نہیں کیا تو اس میں یقینًا اور بھی کوئی مصلحت ہو گی، اس لیے اسے جاری رہنا چاہیے۔
یہ میں نے اس لیے عرض کیا کہ آج کل یہ سوچ عام ہوتی جا رہی ہے کہ نبی کریمؐ کی جس سنتِ مبارکہ کے بارے میں بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ یہ شاید وقتی ضرورت کے تحت تھی اور آج اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اس لیے اس سنت کو جاری رکھنے پر نظرثانی کرنی چاہیے، یہ درست طرز فکر نہیں ہے اور حضرت عمرؓ کے اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو کام آنحضرتؐ نے شروع کیا اور ان کی حیاتِ طیبہ میں جاری رہا، آج اگر اب کوئی ضرورت دکھائی نہ دیتی ہو تو بھی اس پر نظرثانی کی بات نہیں کرنی چاہیے اور اسے بدستور جاری رہنا چاہیے۔
(جاری ہے)