Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

حضرت عمرؓ اور انسانی سوسائٹی کو درپیش چیلنجز

(گزشتہ سے پیوستہ)
سیدنا حضرت عمرؓ کے بارے میں اس پہلو پر بھی کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ جہاں تک ان کے فضائل و مناقب اور عظمت و بزرگی کی بات ہے اس کا تذکرہ کرتے رہنا ہمارے ایمان کا حصہ اور تقاضہ ہے اور برکت و رحمت کا باعث ہے مگر آج کی دنیا کو بھی حضرت عمرؓ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انسانی سوسائٹی کے مشکل ترین مسائل کے حل کے لیے حضرت عمرؓ کا اسوہ اور نظام راہنمائی کا کام دیتا ہے اور ہمیں اس طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ بالخصوص گڈگورننس اور ویلفیئر اسٹیٹ کے حوالہ سے تو حضرت عمرؓ کی شخصیت آج بھی حوالہ اور آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے، جس کا اپنے اور پرائے سب تذکرہ کرتے ہیں۔ ابھی مجھ سے پہلے مقرر نے گاندھی جی کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے نظامِ حکومت کے حوالہ سے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دورِ حکومت کو مثالی قرار دیا تھا۔
جبکہ ہمارے ہاں تو اس کا مسلسل تذکرہ ہوتا رہتا ہے، آج ہی اخبارات میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلٰی کا بیان شائع ہوا ہے کہ گڈگورننس کے حصول اور کرپشن کے خاتمہ کے لیے حضرت عمرؓ ہمارے بہترین راہنما ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری نے اپنے دور میں ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے تھے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور سب سے بڑی ضرورت گڈگورننس ہے جس کے لیے ہمیں حضرت عمرؓ سے راہنمائی حاصل کرنا ہو گی۔ میں نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ چوہدری صاحب محترم کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے مگر میرا سوال ہے کہ حضرت عمرؓ کی گڈگورننس ملک کے کون سے ریاستی تعلیمی ادارے میں پڑھائی جاتی ہے؟
حضرت عمرؓ کی گڈگورننس کے حوالہ سے ایک تاریخی واقعہ ذکر کرنا چاہوں گا جو امام ابوعبیدؒ نے اسلامی معاشیات کی کلاسیکل کتاب ’’کتاب الاموال‘‘ میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں یمن کے گورنر حضرت معاذ بن جبلؓ نے ایک سال صوبے سے وصول ہونے والی آمدنی کا تیسرا حصہ کسی مطالبہ کے بغیر مرکز کو بھجوا دیا، جس پر حضرت عمرؓ نے انہیں باقاعدہ خط کے ذریعے تنبیہ فرمائی کہ یمن سے وصول ہونے والی زکوٰۃ و صدقات پر یمن کے لوگوں کا حق زیادہ ہے، آپ نے مرکز کو کیوں بھجوا دیا ہے؟ انہوں نے جواب میں لکھا کہ یمن کی سرکاری اور عوامی ضروریات پورے ہونے کے بعد اس سال یہ رقم بچ گئی ہے، اس لیے آپ کو بھیج دی ہے۔ اگلے سال انہوں نے نصف، تیسرے سال دو تہائی، اور چوتھے سال پوری رقم مرکز کو بھیج دی اور خط لکھا کہ اللہ تعالٰی کے قانون اور حضرت عمرؓ جیسے عادل حکمران کی برکت سے آج ہمارے صوبے میں کوئی شخص بھی بیت المال سے مدد حاصل کرنے کا مستحق نہیں رہا، اس لیے ساری رقم مرکز کو بھیج رہا ہوں۔
گویا اللہ تعالی کے قانون و احکام کی برکات تو ہوتی ہی ہیں، عادل حکمرانوں کی برکت بھی ہوتی ہے، اس لیے آج حضرت عمرؓ کی حیاتِ مبارکہ کے اس پہلو کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی زیادہ ضرورت ہے کہ انہوں نے کس سادگی، قناعت، جفاکشی، بے تکلفی اور صبر و حوصلہ کے ساتھ حکومت کی، لوگوں کو انصاف فراہم کیا، اللہ تعالٰی اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و قوانین کو انسانی معاشرے میں عملی طور پر نافذ کر کے سوسائٹی کو اس کی برکات سے فیضیاب کیا۔ اس لیے عرض کیا کرتا ہوں کہ فضائل و مناقب کا ذکر بھی ضروری ہے اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس سے ثواب و اجر ملتا ہے، برکات حاصل ہوتی ہیں، اور اپنے بزرگوں کے ساتھ نسبت بھی تازہ اور پختہ ہوتی ہے، مگر اس کے ساتھ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آج کی دنیا کے مسائل کیا ہیں اور آج کی انسانی سوسائٹی کو کون سی مشکلات، پرابلمز اور چیلنجز درپیش ہیں؟ ہمارا ایمان ہے کہ ان سب کا علاج اور حل قرآن و سنت اور خلافتِ راشدہ کے نظام میں موجود ہے مگر ہماری اس طرف توجہ نہیں ہے، اور ہم اس حوالہ سے دنیا کی راہنمائی کے لیے علمی اور عملی طور پر کوئی کردار اختیار نہیں کر رہے۔
چنانچہ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے ہوئے میں علماء کرام، دینی کارکنوں بالخصوص دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خلفاء راشدینؓ اور خاص طور پر حضرت عمرؓ کے دور حکومت کے سیاسی، انتظامی، معاشی، عدالتی اور معاشرتی نظام و احکامات کو سمجھنا اور آج کی دنیا کے سامنے پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں اس سلسلہ میں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو پوری طرح سمجھتے ہوئے ان کی ادائیگی کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے، اللہ تعالی سب کو توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں