زمینی حقائق تویہ ہیں کہ پڑوس میں ایک ایسی عالمی طاقت سوویت یونین جس نے یورپ کے کئی ممالک کوگھنٹوں میں گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کر دیااوربرسوں وہاں اپنی مسلط کردہ حکومتوں کے بل بوتے پریورپ کو خوفزدہ رکھا لیکن خوفناک عسکری طاقت کے باوجود افغانستان میں ناکام رہااوربری طرح ہزیمت کاایسا شکار ہواکہ اسے اپناوجودسنبھالنامشکل ہوگیااوراس کے بطن کے چھ ٹکڑے ہو گئے۔روس کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد امریکااکیلاعالمی طاقت کے تکبرمیں ایسامبتلاہواکہ اسی افغانستان کواپنی اگلی جارحیت کا نشانہ بنالیااوربرسوں اپنے جدید اسلحے اوروسائل میں ٹریلین ڈالرزآگ میں پھونک کربھی ایک تاریخی شکست سے دوچارہوکرراہِ فرار حاصل کرناپڑی۔13اپریل2017ء کوامریکی افواج نے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہارکے عچن ضلعی علاقے میں ایک بڑے،کنونشنل بم جسے عوامی زبان میں’’تمام بموں کی ماں‘‘کہاجاتا ہے،کوایک سرنگی/غاروں کے جال پرگرایا۔یہ اس ہتھیارکاپہلی مرتبہ میدانِ جنگ میں استعمال تھا۔ امریکی کمانڈ کے مطابق ٹارگٹ وہ غاروں اور سرنگی جال تھے جوداعش کے جنگجواستعمال کررہے تھے، ایسی جگہیں جہاں روٹین بم یازمینی فورس آسانی سے داخل نہیں ہوسکتیں۔ امریکی فریق نے آپریشن کو انجام دینے کی اطلاع دی اورصدرٹرمپ نے فوراً اس کارروائی کی تعریف کی‘ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ انہوں نے اپنی افواج کومکمل اختیاردیاہواہے البتہ مختلف میڈیارپورٹس میں یہ بحث موجودرہی کہ آیاصدرنے ذاتی طورپرہرتفصیل پر باقاعدہ’’منظوری‘‘ دی یاکمانڈ چین کے اندرممکنہ طورپراعلی فوجی قیادت نے عملی حکم جاری کیا۔خبری وتجزیاتی حلقوں نے اس پہلوپر سوال اٹھائے کہ کتنافیصلہ وائٹ ہاؤس کی سطح پرطے پایا۔
ابتدائی طورپرافغان فوجی حکام نے دعویٰ کیاکہ حملے میں کئی درجن جنگجوہلاک ہوئے‘بعد ازاں مختلف اعدادوشمار سامنے آئے بعض رپورٹوں میں 36 کا ذکرآیا،جبکہ بعدمیں بعض افغان حکام نے90کے قریب ہلاک ہونے کی بات کی۔تاہم صحافتی اورتحقیقی جائزوں نے نشاندہی کی کہ حقیقی انسانی لاگت اورتباہی کااندراج مقامِ واقعہ پرسائنسی اورآزاد معائنوں کے بغیرقطعی طورپرطے کرنا مشکل ہے اورمقامی آبادی نے دھماکے کی شدیدآوازاورخوفناک اثرات کی روداد سنائی۔ ’’تمام بموں کی ماں‘‘جیساخطرناک بم کومخصوص طریقے سے طیارہ پرلاداجاتاہے اورپھر وہ مخصوص ائرڈراپ کے ذریعے گرایا جاتاہے۔بعدازاں افسران نے اشارہ دیاکہ یہ بم خاص آپریشنل یونٹس کے جہازسے روانہ ہوارپورٹس میں اس نوعیت کے بم کو سی 130طرزکے کارگوطیارے کے ذریعے ڈیلیورکیاجاتاہے اورمخصوص ڈراگ پیراشوٹ وغیرہ کی مددسے ریلیزکیاجاتاہے۔
دراصل ٹرمپ نے امریکی طاقت کے غرور میں اس بم کوگراکرعالمی وعلاقائی تسلط کوثابت کرنے کے لئے یہ سٹریٹیجک پیغام دیاکہ امریکااپنے عسکری اپشنز کو استعمال کرنے میں تاخیرنہیں کرے گااورجنگجوں کوہراس زدہ کرنے اورمیڈیامیں طاقت کی نمایاں نمائش کانفسیاتی پیغام دیالیکن اس کے ساتھ ہی بہت سے انسانی حقوق کے گروپس اوربین الاقوامی اداروں کے سوالات اٹھانے پراپنی اخلاقی وقانونی حیثیت کوبحال رکھنے کے لئے یہ جواب دیاکہ اتنابڑابم مقامی آبادی اورشہری ڈھانچے کے لئے خطرناک نہیں تھا۔’’آئی سی آر سی اوردیگرکیس سٹڈی‘‘نے اس استعمال کی اخلاقی اورقانونی جہتوں پربحث کرکے مطمئن کرنے کی ناکام کوشش بھی کی۔
عملی طورپراس ایک ضرب نے داعش کے مخصوص ٹھکانوں کونشانہ بنایااورعارضی طورپران کے رکاوٹیں کم کی گئیں؛مگر اس ضرب کابڑا اثر علاقائی سیاست یاجنگ کے مجموعی توازن میں دیرپا تبدیلی لانے میں محدودرہایعنی اس نے میدانِ جنگ کی سمتی حرکات کو وقتی طورپرمتاثرکیامگرطویل المدت پائیدارامن یااستحکام کا ضامن ثابت نہ ہوا،اورمیدان عمل میں امریکا کو شکست سے بچانہ سکا۔ تاریخ کے اس پل پرجب ہوانے شعلوں کی کیفیت بھری اورپہاڑوں نے گونجناشروع کیا،تویہ منظرمحض عسکری کاروائی نہیں تھابلکہ طاقت کی ایک نمایشی لہربھی تھی۔’’بموں کی ماں‘‘ نے اس لمحے اپنی دھمک دکھائی، ایک نشانِ اِرادہ کہ جدیدامپیریل قوتیں اب بھی صف اول پراپنی ہوا بازی اوردھماکہ خیزی کے ذریعے سیاست بولتی ہیں۔مگرتاریخ کاتقاضایہ بھی ہے کہ جوفوجی دھماکے بڑے ہوں،ان کے سیاسی،اخلاقی اورانسانی اثرات بھی بڑے ہوتے ہیںاوریہی وہ سوال ہے جواس واقعے نے عالمِ انسانی کے ضمیرمیں چھوڑا۔ امریکابہادر 2001-2021ء تک افغانستان پراپنے اتحادیوں سمیت ظلم وستم ڈھاتارہااوراب ایک مرتبہ پھر2025میں برطانیہ کے دورے پرٹرمپ نے چین کواپنااصل ہدف قراردیتے ہوئے بگرام بیس پردوبارہ قبضے کی بریکنگ خبرسے اقوام عالم کوآگاہ کیاہے جبکہ تین سابقہ ادوار ظاہرکرتے ہیں کہ افغانستان عالمی طاقتوں کا قبرستان رہاہے،مگرہرنئی طاقت پھربھی اس وادی میں قدم رکھنے پرمجبور نظرآتی ہے۔یہ تقابلی اورزمینی حقائق تاریخ کاحصہ ہیں کہ طاقتیں آتی جاتی ہیں،لیکن افغان سرزمین کسی کے لئے ہمیشہ کی جاگیرنہیں بنی۔اس لئے پاکستان کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ اپنی خارجہ پالیسی میں امریکاکوراستہ دینے سے گریزاورخطے میں متوازن تعلقات پر بھرپورتوجہ دی جائے۔سعودی عرب اوردیگرمسلم ممالک کے ساتھ معاہدوں کومزیدمستحکم کرنے کے لئے دیگرمسلمان ممالک(ایران، ترکی اورخلیجی ممالک) کو بھی شامل کرنے کے لئے شب وروزکام کیاجائے۔بلوچستان اورسرحدی علاقوں میں بھارتی پراکسی نیٹ ورک کوختم کرنے کے لئے یقیناسفارتی تعلقات کواولیت دی جائے اورایک مرتبہ پھرچین جیسے مخلص دوست کوشامل کرکے یہ واضح کیاجائے کہ بگرام کے معاملے میں ٹرمپ کے واضح اعلان جس میں چین کو ہدف قراردیاگیاہے، اب پاک افغان کشیدگی کاایک واضح اورمستقل سنجیدہ حل درکارہے جس میں انڈین پراکسیزکا باقاعدہ دوسرے ذرائع سے جواب دینابھی ایجنڈے میں شامل کیاجائے۔بگرام ایئربیس کی کہانی دراصل عالمی سیاست کے عروج وزوال اورتاریخ کے فیصلوں کی کہانی ہے۔بگرام ایئربیس کی داستان ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتورقومیں ہمیشہ کمزوروں کے وسائل پرنظریں جماتی ہیں،لیکن تاریخ کی بارگاہ میں کوئی زبردست بھی ہمیشہ کے لئے زبردست نہیں رہتا۔ سوویت یونین ہویا امریکا،سب نے یہاں اپنی سلطنت کے خواب دیکھے مگریہ خواب افغان خاک میں دفن ہوگئیہر طاقت نے یہاں اپنے خواب بننے چاہے،مگرانجام وہی ہوا جو تاریخ کے فیصلوں میں لکھاجاچکاتھا۔آج پھرایک نئی بازی سجنے جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کس بصیرت اورحکمت سے اس شطرنج کی بساط پر اپنی چال چلے اورمستقبل کے اس نئے خطرناک منظرنامے کاسامنا کرے؟پاکستان اورمسلم دنیاکے لئے یہ لمحہ ایک عظیم آزمائش بھی ہے اورایک روشن موقع بھی۔اگرہم نے حکمت، بصیرت اورایمان کے ساتھ اپنی راہیں متعین کیں تویہ خطہ ہماری عزت اور وقار کامیناربن سکتاہے۔اللہ کافرمان ہے:اگرتم اللہ کی مددکروگے تواللہ تمہاری مددکرے گااورتمہارے قدم جمادے گا۔(محمد:7)