Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

دجالی میڈیا کے فسادی

حضرت اقدس پیرو مرشد فرماتے ہیں کہ ’’چونکہ شیطان اپنے کام سے چھٹی نہیں کرتا اس لئے وہ روز نئے فتنے کھڑے کر دیتا ہے چند دن پہلے دین سے وابستہ اکثر لوگ اس واقعہ کی تحقیق میں الجھ گئے کہ جامعہ حفصہ پر مشرف کے ظالمانہ قاتلانہ حملے میں کتنی شہادتیں ہوئیں؟حالانکہ اب اس بحث کی ضرورت نہیں تھی مگر ہر کوئی کود پڑا اور اپنا بہت سا قیمتی وقت ضائع کر بیٹھااب آج کل پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپ زیر بحث ہے اور اس پر ایسی زہریلی گفتگو جاری ہے جس کا نقصان بالکل واضح ہے اور فائدہ معدوم ہے جو لوگ اس بحث میں اپنے لئے چنگاریاں جمع کر رہے ہیںان کی نہ پاکستان سنتا ہے نہ افغانستان اور نہ ان کی حمایت یا مخالفت سے اس معاملے پر کوئی فرق پڑ سکتا ہے پہلے عرض کر دیا ہے کہ شیطان ملعون اپنے کام سے چھٹی نہیں کرتااس کا کیا کام ہے؟یہ قرآن مجید نے کھول کھول کر بتا دیا ہے سنا دیا ہے کفار اور منافقین بھی دن رات عالم اسلام کے خلاف کام میں لگے رہتے ہیںدن رات کے الٹ پھیر میں ان کی بعض تدبیریں وقتی طور پر کارگر ہو جاتی ہیں۔ ایک سے زیادہ مسلم ریاستیں ہوں تو ان کے درمیان کچھ نہ کچھ پھڈے اور مسائل چلتے رہتے ہیںجن مسلمانوں کو اللہ تعالی نے بات پہنچانے کی سہولت دی ہے وہ فریقین میں صلح اور اعتماد سازی کی کوشش کریںجبکہ باقی مسلمان اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریںاور بس زندگی بہت قیمتی ہے اور ہر مسلمان کے ذمے بہت کام ہے اپنا دینی کام کریں اپنی صلاح اور تعمیر کی فکر کریں اپنے ناقص علم کو پورا کرنے پر وقت لگائیں اپنی جہادی تیاری کو مکمل کریں اور آگے بڑھائیںغیر حربی غیر مسلموں تک کلمہ طیبہ کی دعوت پہنچائیں اپنے عمل اور اخلاق کو سنوارنے کی کوشش کریں۔
مسلمانوں کی اجتماعی طاقت بڑھانے کی محنت کریںاور ہر مسئلے پر بولنے، ماتم کرنے اور مایوس ہونے کی عادت سے پکی توبہ کر لیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ ملا مافیاء کے جن ‘‘یوٹیوبر ز‘‘ کو ڈالر خوری کا چسکا پڑ جائے ان کا کل دین صرف اپنے استاد کے دفاع تک ہی محدود ہو کر رہ جاتا ہے ، منبرومحراب کو سیڑھی بنا کر یو ٹیوب کے گھوڑے پر سوار ہونے والے آج صیہونی سوشل میڈیا کے ذریعے جس طرح سے دوسرے علماء کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں۔ ردعمل میں دوسرے ان کی اور ان کے استاد کی جو درگت بنا رہے ہیں۔یہ سب دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہیں ’’دینی علوم‘‘کے مثبت اثرات سے بچنے کے لئے ہی تو انہیں دجالی میڈیا یو ٹیوب وغیرہ کا سہارا تو نہیں لینا پڑا؟ ’’دارلفتا والارشاد‘‘ کی شدت پسند کوکھ سے جنم لے کر قانون ناموس رسالت ﷺ کو شدت پسند مولویوں کے ساتھ نتھی کرنے والے سبقت لسانی کے مریض یوٹیوبر اس حد تک گر جائیں گے کہ وہ اپنے اور اپنے استاد کے مخالفین پر فحش لفظی گولہ باری سے بھی گریز نہیں کریں گے،سچ کہا کسی کہنے والے نے دینی علوم نے تو انہیں عزت بخشی تھی،مگر دجالی میڈیا کے شوق بد نے انہیں رسوا کر کے رکھ دیا،نجانے سبقت لسانی کے ان مریضوں کو دارلفتا والارشاد کے کس استاد نے پڑھایا تھا کہ گالی کا جواب گالی اور فحش گوئی کا جواب فحش گوئی سے دینے والا ہی اصل مفتی اور مولوی ہوتا ہے،انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے جن تین اقدامات کے مخالف ہیں ان میں ایک الیکٹرانک چینلز کی لانچنگ اور لا محدود آزادی بھی شامل ہے اور ان کی یہ بات ہے بھی درست،لیکن کوئی انہیں بتائے کہ ’’استاد صاحب‘‘کی محبت کی آڑ میں آپ کے دسترخوانی یو ٹیوبرز دجالی سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو جس طرح سے علماء اور آپ کے نکتہ نظر کے مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں وہ تو الیکٹرانک چینلز کے دجالی اینکرز سے بھی زیادہ خطرناک ہے،میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنی محبت میں گرفتار اور سبقت لسانی کے بیمار یو ٹیوبرز پر زیادہ نہیں صرف 6 ماہ کے لئے ہی دجالی سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دیں‘لگ پتہ جائے گا۔
’’محبتاں کینیاں سچئیاں نے‘‘ زمانہ فتن و انتشار میں جب ہر دن ایک نیا ہنگامہ امتِ محمدیہ کے سکون کو چھین لیتا ہے، ایسے میں اہلِ بصیرت کی زبان سے نکلا ہوا ہر بامعنی جملہ گویا چراغِ راہ بن جاتا ہے۔ لہٰذا یہ بات حقیقت ہے کہ شیطان ہر وقت تاک میں رہتا ہے وہ ہمیشہ کسی نہ کسی نئے دھوکے کے ساتھ انسانوں کو الجھائے رکھتا ہے۔ کبھی کسی حادثے کے اعداد و شمار پر جھگڑا، کبھی سیاسی یا قومی معاملات پر تلخ کلامی اور یوں امت کا قیمتی وقت فتنوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں دانش یہی ہے کہ مسلمان اپنی زبان اور دل کو ان بے فائدہ مباحث سے محفوظ رکھیں اور اپنی قوت کو ان کاموں میں صرف کریں جن سے ایمان مضبوط اور ملت کا شیرازہ مستحکم ہو۔ خود کو سنوارنا، علم میں ترقی کرنا، صلح و اخوت کو فروغ دینا اور اللہ کے دین کی دعوت کو عام کرنایہی وہ راہیں ہیں جن پر چل کر امت پھر سے وقار و سربلندی حاصل کر سکتی ہے۔ آخر میں یہی حقیقت دلوں میں اتار لینا ضروری ہے کہ امت کی عزت، کامیابی اور عروج فضول بحثوں، سیاسی شور و شر یا اختلافی نعرے بازی میں نہیں چھپی بلکہ عمل، اخلاص اور اتحاد میں پوشیدہ ہے۔
شیطان کی چال یہی ہے کہ وہ ہمیں باتوں میں الجھا دے اور ہمارے عمل کو سست کر دے۔ اگر ہم نے اپنی توانائی کو ان لاحاصل جھگڑوں سے ہٹا کر دین کی خدمت، علم کے فروغ، اخلاق کی اصلاح اور دعوتِ الی اللہ میں صرف کر دیا، تو یہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی بنے گی۔ پس آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زبانوں کو فتنے سے محفوظ رکھیں، اپنے دلوں کو کدورت سے پاک کریں اور اپنے قدم اس راہ پر جما دیں جو اللہ تعالی کو راضی کرنے والی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو امتِ مسلمہ کو دوبارہ قوت، عزت اور استقامت عطا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں