Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

تقدیر کے قافلے: پاکستان، ایمان اور تاریخ

(گزشتہ سے پیوستہ)
روسی تیل خریدنے پرامریکانے بھارت پرپچاس فیصدٹیرف عائد کیاہے۔اب سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کے دل کے پردوں میں کون سا منصوبہ چھپاہواہے اوردماغ میں کیاچل رہاہے؟؟
پاکستان کی مشرقی سرحدکے جھگڑوں سے ہٹ کرمغربی محاذپرامریکاکواپنی ضرورت نظرآتی ہے۔ پاکستان جانتاہے کہ اس کی مشرقی سرحد پرجھگڑے کبھی ختم نہیں ہوں گے۔شاید اسی لیے امریکا کواس کی ضرورت مغربی محاذپرزیادہ دکھائی دیتی ہے۔ایران کامسئلہ امریکاکیلئے سلگتی ہوئی چنگاری نہیں بلکہ بھڑکنے والاانگارہ ہے اوروہ چاہتاہے کہ پاکستان کے ساتھ مل کراس کاکوئی حل تلاش کرے۔اگرپاکستان ساتھ دے توشایدیہ خطرناک آگ بجھائی جاسکے،اوراس کے بدلے میں پاکستان کوبلوچستان اورقبائلی شورشوں میں مددمل سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہونے جب جنرل اسمبلی سے خطاب کیاتومتعدد ممالک کے وفود احتجاجاً ایوان سے نکل گئے۔یہ منظربتارہاتھا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کواب عالمی برادری مزید برداشت کرنے پرآمادہ نہیں۔غزہ میں قتلِ عام کے پس منظرمیں یورپی فٹ بال تنظیم ’’یوئیفا‘‘نے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کا عندیہ دیاہے۔اگریہ قدم اٹھایاگیا تویہ اسرائیل کے عالمی کھیلوں کے محاذپرایک بڑی شکست ہوگی۔
یورپی ملک سلووینیانے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہوپرسفری پابندیاں عائدکردی ہیں۔یہ اعلان گویایورپ کے ضمیرکی پہلی بیداری ہے، ایک اشارہ کہ اب عالمی برادری اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔اسی دوران اسرائیلی فوج نے یمن کے دارالحکومت صنعاپرشدیدبمباری کی۔یہ بمباری مشرقِ وسطی میں آگ کومزید بھڑکانے کے مترادف ہے اوریہ سوال جنم لیتی ہے کہ کیاعالمی امن منصوبے اس شعلے کوبجھاپائیں گے یانہیں؟
مشرقِ وسطیٰ کے تذکرے میں پاکستان کاذکر گویاناگزیرہے۔سعودی عرب اورپاکستان کاحالیہ دفاعی معاہدہ امریکاکی نظر سے پوشیدہ نہیں،اس نے امریکاکومتوجہ کیاہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ عرب ممالک سے گفتگوکے ساتھ ساتھ پاکستانی رہنماؤں سے بھی بات چیت کرتے ہیں توصاف ظاہرہوتاہے کہ ٹرمپ کاعرب دنیا اورپاکستان دونوں سے گفتگوکرنا اس حقیقت کی دلیل ہے کہ واشنگٹن خطے میں پاکستان کی حیثیت کوایک ناگزیرکھلاڑی سمجھتاہے اورخاص اہمیت دیتاہے۔
فیلڈمارشل عاصم منیروہ پہلے پاکستانی رہنما ہیں جنہوں نے وائٹ ہاؤس کے دروازے پرقدم رکھااورٹرمپ سے براہِ راست ملاقات کی۔ان کے حالیہ دورے خواہ وہ خلیجی ممالک ہوں،وسطی ایشیاہویاشنگھائی تعاون تنظیم،سب اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں عسکری قیادت اب محض پس پردہ کردارنہیں بلکہ اگلی صف کی علم بردار ہے اوریہ اعلان ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فوج کاکرداراب پردے کی اوٹ نہیں بلکہ روشن اسٹیج پرہے۔ جولائی کی کورکمانڈرکانفرنس میں عاصم منیرنے ان دوروں کو کامیاب سفارت کاری قرار دیا ہے۔ وزیرِاعظم شہبازشریف اورفوجی قیادت کے اشتراک کودنیانے ایک ذمہ دارسفارت کاری کا نمونہ قراردیاہے جس نے دنیاکو یہ باورکرایاکہ پاکستان ایک ذمہ دارریاست کے طورپر ابھر رہا ہے۔
مبصرین بھی مانتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کی لگام اورخارجہ پالیسی کے تمام اہم ہتھیاروں پرفوج کی گرفت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اوروزیرِ اعظم اس کھیل کے جونیئرپارٹنراورمحض شریکِ سفر ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ فیلڈمارشل عاصم منیر ڈرائیونگ سیٹ پرہیں اورسویلین حکومت ان کی معاون ہے۔وزیرِ اعظم کے ہمراہ ان کے غیرملکی دورے فوج کے بڑھتے ہوئے عوامی وسفارتی کردار کی گواہی دیتے ہیں اورباہم تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں سول اورملٹری قیادت کی ہم آہنگی کھل کرسامنے آتی ہے۔سیاسی مبصرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ فوج ہی پاکستان میں بالخصوص خارجہ پالیسی کی اصل ڈورسنبھالے ہوئے ہے۔اب اس میں کوئی راز نہیں کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی کاساز فوج کے ہاتھ ہی بجاتاہے۔
فیلڈمارشل عاصم منیراپنے پیش روؤں سے زیادہ محتاط اورپراعتماددکھائی دیتے ہیں۔ان میں وہ توانائی ہے جومئی کی جھڑپ کے بعداوربھی نمایاں ہوئی ہے۔دوسری طرف ٹرمپ کی سیاست کسی ایک دھارے پرنہیں بہتی۔کبھی مودی کو ’’دوست‘‘کہااور پھربھارت پرٹیرف کی تلوار چلا دی۔ کبھی پوتن سے رشتہ جوڑااورپھریوکرین پران پرتنقیدکے تیروں کی بارش کردی ۔ٹرمپ کی پالیسی کامداران ذاتی روابط پرہے جوانہیں فائدہ پہنچاسکیں۔ٹرمپ کاپیمانہ ذاتی تعلقات ہیں۔وہ انہی کے ساتھ چلتے ہیں جوان کے وعدوں کونبھاتے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہی پیغام ہے کہ اپنی قدرو قیمت کوسنبھالے رکھے،اور اپنی وقعت کو برقرار رکھے۔ ورنہ امریکاکی تاریخ یہی کہتی ہے کہ اس کارویہ بدلتے لمحوں کی طرح ہے اورامریکا کے رویے میں تبدیلی آناًفاناً آتی ہے،نہ کل کی دوستی کی ضمانت دیتاہے،نہ آج کی قربت کوکل تک پہنچاتا ہے۔
پاکستان اورامریکاکے تعلقات اس قافلے کی مانندہیں جوکبھی سرسبزوادیوں سے گزرتاہے اورکبھی سنگلاخ صحراؤں کی ریت پربکھرکرٹھٹک جاتاہے۔ آج دونوں رفاقت کے ایک نئے موڑ پر کھڑے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیاپاکستان اس موڑ پر اپنی خودمختاری کوبرقراررکھتے ہوئے دنیاکی بڑی طاقتوں کے ساتھ توازن قائم کرسکے گا یا پھر طاقتورکی راہ میں اپناساز بجا کرایک اورباب تاریخ کے اوراق میں چھوڑدے گا؟یاپھریہ داستان بھی ماضی کی طرح عہدِ دوستی اوردوری کے نشیب و فرازکی کتاب میں ایک اورباب کااضافہ بن جائے گی؟
اے اہلِ پاکستان!تاریخ کی گواہی سنو۔ یہ وہ سرزمین ہے جوکلمہ طیبہ کے نام پربنی تھی،اوریہ وہ قوم ہے جسے اللہ نے اسلام کے پرچم کوبلند کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔لیکن کیاہم نے اپنی اس ذمہ داری کوپوراکیا؟کیاہم نے اس مددکوپانے کے لائق عمل کیا؟یا اپنے فیصلوں کوکبھی واشنگٹن اورکبھی دہلی کے ایوانوں کے رحم وکرم پرچھوڑدیا؟ قرآن کہتاہے:
اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔
یاد رکھو!قومیں سرمایہ کاری یامعاہدوں سے زندہ نہیں رہتیں،وہ اپنے ایمان، اپنی غیرت اوراپنے وقارسے زندہ رہتی ہیں۔ اگرہم نے اپنی خودداری کوسنبھالا،اگرہم نے اللہ کے دین کواپناسہارا بنایاتودنیاکی کوئی طاقت ہمیں جھکانہیں سکے گی لیکن اگرہم نے تاریخ کے سبق فراموش کیے توہمارے حصے میں صرف غلامی کی زنجیریں رہ جائیں گی۔آج پاکستان اور امریکاکے تعلقات ایک نئے موڑپر کھڑے ہیں۔یہ موڑصرف سفارت کاری کاامتحان نہیں بلکہ ہماری روح اور ہماری ملت کی آزمائش ہے۔فیصلہ ہمیں کرنا ہے: کیاہم اپنی خودی کو پہچان کراقبال کے شاہین بنیں گے یاپھر دوسروں کے دسترخوان کے ٹکڑوں پرپلنے والے پرندے بن جائیں گے؟اقبال نے ہمیں یہی سبق دیا تھا۔
ہو اگر خودنگرو خود گرو خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ توموت سے بھی نہ مرسکے
یہ رپورٹ محض واقعات کی ترتیب نہیں،بلکہ ایک عہدکی گواہی ہے۔یہاں سفارت کاری محض کاغذی بیانات سے آگے بڑھ کرایک تاریخی موڑپرکھڑی ہے ہاں پاکستان کے کردار کو نئی مرکزیت مل رہی ہے،اورجہاں دنیااسرائیل کے مظالم پرکھل کرسوال اٹھانے لگی ہے۔
اے پروردگارِعالم!توہی ہے جوقوموں کے دل بدل دیتاہے،اورتوہی ہے جوسلطنتوں کی تقدیررقم کرتاہے۔ہماری کشتی وقت کے طوفانوں میں گھری ہوئی ہے،کبھی مشرق کے طوفاں اسے دہلاتے ہیں اورکبھی مغرب کی ہوائیں اسے بہالے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔اے رب!ہمیں وہ حکمت عطافرماجس کے بغیرطاقت محض ریت کاقلعہ ہے،اورہمیں وہ استقلال دے جو ایمان کے چراغ سے جلتاہے۔

یہ بھی پڑھیں