کشمیری بھارت اورافغانستان کےدرمیان حالیہ مشترکہ اعلامیہ، جس میں جموں و کشمیر کو بھارت کااٹوٹ انگ قراردیاگیا، ایک ایسی سفارتی بدعہدی ہےجو نہ صرف تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی کھلی توہین بھی ہے۔ یہ اعلامیہ طالبان حکومت کی اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ وہ اسلامی شریعت کی پاسدار اور امت مسلمہ کی نمائندہ ہے۔ اس اقدام نے طالبان کے اصلی چہرے کو بے نقاب کر دیا، جو ظالم کے ساتھ کھڑے ہو کر مظلوم کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اعلامیہ صرف ایک سیاسی دستاویز نہیں، بلکہ انصاف، انسانیت اور اسلامی اقدارکے ساتھ کھلی دشمنی ہے۔پاکستان کا اس اعلامیے پر ردعمل نہ صرف بروقت بلکہ پوری طرح جائز ہے۔ اسلام آباد نے افغان سفیر کو طلب کر کے واضح پیغام دیا کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور عالمی انصاف کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جموں و کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ ہے، جس کی حیثیت اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں میں واضح کی گئی ہے۔ ان قراردادوں میں صراحت ہے کہ کشمیر کا مستقبل وہاں کے عوام کے آزادانہ حق رائے دہی سے طے ہوگا۔ یہ حقائق عالمی برادری پر عیاں ہیں، لیکن طالبان کی جانب سے ان کی دانستہ یا نادانستہ نظر اندازی نہ صرف شرمناک ہے بلکہ اسلامی اصولوں سے سنگین انحراف بھی ہے۔طالبان کی یہ بدعہدی اس لیے بھی دل شکن ہے کہ پاکستان نے ہر مشکل حالات میں ان کی بھرپور حمایت کی۔ بیس سالہ امریکی قبضے کے دوران پاکستان نے طالبان کو سیاسی پناہ دی، سفارتی حمایت فراہم کی اور عالمی دبا کے باوجود ان کے سیاسی وجود کو تسلیم کروایا۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان نے نہ صرف پناہ دی بلکہ سرحدیں کھول کر انسانی امداد فراہم کی۔ لیکن آج وہی طالبان، جن کی آزادی کے لیے پاکستان نے قربانیاں دیں، بھارت کے ساتھ مل کر ایک ایسا اعلامیہ جاری کر رہے ہیں جو پاکستان کے مفادات کے خلاف اور کشمیریوں کی جدوجہد کی توہین ہے۔ یہ رویہ نہ صرف احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے بلکہ طالبان کی نام نہاد “اسلامی امارت” کی حقیقت کو بھی عیاں کرتا ہے۔جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا صرف سیاسی یا جغرافیائی غلطی نہیں، بلکہ عقیدے، انسانیت اور انصاف کے ساتھ کھلی بغاوت ہے۔ طالبان، جو خود کو شریعت کا علمبردار کہتے ہیں، اس اعلامیے کے ذریعے اسلامی احکامات کی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اسلام ظلم کے خلاف آواز اٹھانے، مظلوم کی حمایت اور غاصب کے مقابل ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ گزشتہ 78 برس سے کشمیری عوام بھارتی فوجی جبر، قتل و غارت، عزت ریزی اور تہذیبی تطہیر کا شکار ہیں۔ ان کی حمایت نہ کرنا، بلکہ ظالم کی تائید کرنا، اسلامی تعلیمات کے مطابق گناہ کبیرہ ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد کوئی سرحدی تنازعہ نہیں، بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور آزادی کی جنگ ہے۔ اسے نظر انداز کرنا یا اس کے خلاف کھڑا ہونا ایمانی، اخلاقی اور انسانی اقدار سے انحراف ہے۔طالبان کی یہ پالیسی ان کی مفاد پرستی، جہالت اور وقتی سیاسی فوائد کی لالچ کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ اپنی بقا کو بیرونی طاقتوں کے مفادات سے جوڑ رہے ہیں، جو نہ اسلامی ہے اور نہ ہی امت مسلمہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ بھارت کے ساتھ کھڑا ہونا ظلم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ظالم کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو کبھی معافی نہیں ملتی۔ طالبان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے ان کی آزادی کے لیے نہ صرف سفارتی بلکہ اخلاقی اور انسانی حمایت بھی فراہم کی۔ اس کے باوجود پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنا اور کشمیریوں کی قربانیوں کی توہین کرنا نہ صرف سفارتی بدعہدی بلکہ اخلاقی خودکشی ہے۔بھارت کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ وہ کشمیر کے تنازعے کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر اس کی بین الاقوامی حیثیت ختم کرے۔ اب طالبان کی کمزوری اور موقع پرستی کو استعمال کر کے بھارت نے ایک سفارتی وار کیا ہےجس سے نہ صرف کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نقصان پہنچا بلکہ مسلم دنیامیں انتشار کو بھی فروغ ملا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ طالبان نے اس سازش کو نہ صرف سمجھنے میں ناکامی دکھائی بلکہ اس کا حصہ بن گئے۔
یہ رویہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہےکہ کیا طالبان کی اسلامی تعاون تنظیم (و آئی سی) کی رکنیت کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟ او آئی سی ہمیشہ سے کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی آئی ہےجس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ موقف پاکستان کے موقف سے ہم آہنگ ہےاوراسے اسلام، قانون، تاریخ اور انسانی ضمیر کی تائید حاصل ہے۔طالبان کی بھارت نوازی نہ صرف کشمیریوں کے لیے بلکہ خود افغانستان کے عوام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گی۔ بھارت نے ہمیشہ افغان سرزمین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اس نے امریکی قبضے کے دوران طالبان کے خلاف قوتوں کی حمایت کی اور بعد میں پاکستان مخالف نیٹ ورکس کو فروغ دیا۔ اب طالبان کا بھارت کے ساتھ ہاتھ ملانا ان کی اپنی خودمختاری اور عوام کےاعتماد کےلیےخطرہ ہے۔ پاکستان کااحتجاج اس لیےبھی اہم ہے کہ یہ نہ صرف کشمیر کے حق کی آواز ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کے ضمیر کی ترجمانی کرتا ہے۔قرآن مجید واضح طور پر کہتا ہے: تمہیں کیاہواکہ تم اللہ کی راہ میں کمزوروں کے لیے نہیں لڑتے؟ ۔ کیا کشمیری عوام ان مستضعفین میں شامل نہیں جو بھارتی ظلم کا شکار ہیں؟ اگر طالبان اس فریاد کو سننے سےقاصر ہیں تو یہ اسلامی امارت” نہیں، سیاسی منافقت کی امارت ہے۔افغان قیادت کو اپنے موقف پر فوری نظر ثانی کرنی چاہیے۔ پاکستان کی دوستی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک برادر ملک کی خیرخواہی سمجھا جائے۔ کشمیر کی حمایت صرف پاکستان کا موقف نہیں بلکہ اسلامی شریعت، عالمی انصاف اور انسانی ضمیر کا تقاضا ہے۔ اگر طالبان اپنی روش نہ بدلیں گے تو تاریخ انہیں ظالم کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کے طور پر یاد رکھے گی۔ یہ اعلامیہ حق و باطل کے درمیان ایک لکیر ہے۔ ایک طرف پاکستان ہے، جو مظلوم کے ساتھ کھڑا ہےاور دوسری طرف طالبان ہیں جو ظالم کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے ساتھ کھڑے ہونے والے کبھی سرخرو نہیں ہوتے۔