جب تاریخ کے اوراق پروقت کے قلم نے افغانستان کانام لکھاتواس کے ساتھ ہی تقدیرنے ایک مسلسل کشمکش کی داستان بھی رقم کر دی۔ایک سرزمین جوکبھی سلطنتوں کی راہگزر رہی ،کبھی نظریات کی آزمائش گاہ،اورکبھی سامراجی قوتوں کے لئے شطرنج کی بساط۔ اسی خط خاک میں،جہاں بندوق کی زبان نے صدیوں تک حکمرانی کی،آج سفارت کی نرمی نےآہستہ آہستہ سراٹھاناشروع کیاہے۔ طالبان کی حکومت،جوکبھی محض ایک عسکری وجودسمجھی جاتی تھی،اب سفارتی دروازوں پرسیاسی گفت وشنیدکی بجائے دشمنوں کی زبان میں بات کررہی ہے اورجب ان کے وزیرِخارجہ امیرخان متقی،دہلی کی سمت قدم بڑھاتے ہیں،تویہ محض ایک سرکاری دورہ نہیں،یہ تاریخ کے گہرے سمندرمیں پھینکاگیاایک نیالنگرہے؛ایک ایسی کوشش جوبرصغیرکے دوازلی حریفوں،انڈیااورافغانستان کے درمیان ایک نئی فکری راہداری کھولنے جارہی ہے۔
تاریخ کےدھارے میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب قومیں صرف فیصلے نہیں کرتیں،بلکہ اپنے ماضی کےساتھ مکالمہ کرتی ہیں۔ افغانستان اور بھارت کےمابین بڑھتی ہوئی قربت کامنظرآج پاکستان کیعوام کے دلوں میں ایک خاموش کرب پیداکررہاہے۔وہی پاکستان ،جس نے چالیس برس تک افغان بھائیوں کےدکھ دردکواپنادکھ سمجھا،جس نے اپنی زمین، اپنے وسائل،اپنے گھروں تک کومہمان نوازی کے نام پروقف کردیا،آج وہی قوم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہکیایہ وقت کاالٹابہاہے یاتاریخ کی ناقدری کامظہر؟پاکستانی عوام اپنے دل کے نہاں خانوں میں یہ سوال لیے بیٹھے ہیں کہ جن افغان بھائیوں کیلئےاس ملک نے اپنی معیشت، امن اورخون سب کچھ قربان کیا،آج وہی افغان زمین ٹی ٹی پی اوربی ایل اے جیسے گروہوں کے لئےپناہ گاہ کیوں بنی ہوئی ہے؟کیوں وہی مٹی،جسے کبھی برادرانہ محبت کااستعارہ سمجھا جاتاتھا،اب دہشت اورعداوت کے لشکر وہاں سے روانہ ہورہے ہیں؟اوراس سارے منظرنامے کے پیچھے،وہی ازلی سیاسی مدِمقابل،بھارت،جس نےگزشتہ دہائیوں میں طالبان کے خلاف ہر مخالف دھڑےکوسہارا دیا، اب انہی طالبان کے ساتھ مصافحے اورمفاہمت کادعویداربن بیٹھاہے۔
یہ وہی بھارت ہےجوچندماہ قبل مئی کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں رسوائی کامزہ چکھ چکاہے اب وہی بھارت،انتقام کی نفسیات کےزیرِاثر، کابل کےراستے اسلام آبادکوزک پہنچانے کے خواب دیکھ رہاہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ جہاں پاکستان اپنے جذبہ اخوت کے سائے میں بیٹھاسوچ رہاہے تاریخ ایک بارپھردوستی اوردشمنی کے چوراہے پرکھڑی ہےکہ آخرمحبت کی وہ فصل جوہم نےبرسوں اپنےلہوسےسینچی،آج اس کے کانٹےہمیں ہی کیوں چبھنےلگے ہیں؟
پاکستان کی روایتی قربت،چین کابڑھتااثراور روس کی نرم مداخلت کے پس منظرمیں یہ دورہ ایک خاموش مگرزلزلہ خیزسیاسی اشارہ ہے۔یہ اس امرکا اعلان ہے کہ خطے کی سیاست اب صرف بندوق کےدہانےسےنہیں،قلم اورمکالمے کے وقارسے بھی نہیں بلکہ سازشی اورانتقامی مزاج سے طے ہوگی۔گوبھارت نے ابھی تک طالبان کوباضابطہ تسلیم نہیں کیا، مگر تسلیم کی بنیادہمیشہ دل کے نرم گوشے اورقلم کی شیریں مفاہمت کے الفاظ سے پھوٹتی ہے مگریہاں پاکستان کے ازلی دشمن انڈیاکے ساتھ سازشوں کے جھرمٹ اور احسان فراموشی سے اٹھتی دکھائی دے رہی ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے جنوبی ایشیاکی نئی سیاست کی ابتداہورہی ہےجہاں دشمنی کی راکھ سے مکالمے کاپہلاشعلہ ابھررہاہے۔ یہ لمحہ دراصل تاریخ کے اس موڑکی مانندہے،جہاں ماضی کےدشمن مستقبل کےمعماربننےکی تیاری کررہے ہیں، اورسفارت،جسے کبھی کمزوری سمجھا جاتاتھا،اب حکمت کاسب سے مضبوط ہتھیاربننے کی بجائے اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے تیاریاں ہورہی ہیں۔
جنوبی ایشیاء کی سیاسی تاریخ ہمیشہ تغیرکے طوفانوں سے عبارت رہی ہے۔یہاں اقتدار کا محوربدلتارہامگرطاقت کاجغرافیہ کبھی خالی نہیں رہا۔ اس خطےمیں افغانستان ہمیشہ ایک در وازے اوردیواردونوں کاکرداراداکرتاآیاہے۔ ایک ایسا دروازہ جوتہذیبوں کوجوڑتاہے،اورایک ایسی دیوار جومفادات کی سرحدیں متعین کرتی ہے۔آج جب طالبان کے وزیر ِخارجہ امیرخان متقی کے مجوزہ بھارتی دورےکی خبرمنظرِعام پرآتی ہے،تویہ صرف ایک سفری اطلاع نہیں، بلکہ تاریخ کے دھارے میں بدلتی ہوئی سمت کااعلان ہےکہ افغان بھائیوں پراعتماداور فخرکرنےوالےہم جیسے قلمکاربھی برسوں کی محنت اورمحبت کوبغض وعنادکے حوالے کادکھ دیکھنے کے لئے زندہ ہیں۔
تاریخ کےصفحات پرایسے لمحات کبھی کبھاررقم ہوتےہیں جب سیاست محض اقتدارکی تدبیرنہیں رہتی، بلکہ تہذیبوں کے تصادم اور مفاہمت کے بیچ ایک فکری مکالمے کی صورت اختیارکرلیتی ہے۔ امیرخان متقی کا مجوزہ بھارتی دورہ اگراسی نوع کی ایک پیش رفت ہوتا، جو بظاہرسفارتی،مگر درحقیقت علاقائی سیاست کےتوازن میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتا تو یہ بھائیوں کے درمیان ایک شاندار موقع ہوتالیکن افسوس یہ ہےکہ بالآخرافغان بھائی بھی شاطرہندوبرہمن کی چالوں کاشکاربنتے جارہے ہیں۔
یہ دورہ دراصل علاقائی قوتوں کےباہمی رسہ کشی کےبیچ ایک نیاتوازن پیداکرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان اورچین،دونوں افغانستان میں اثر رکھنے والےممالک ہیں۔چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کےتحت چینی سرمائےکی جڑیں گہری کی ہیں،جبکہ پاکستان تاریخی و جغرافیائی رشتے کی بناپرطالبان پراثرانداز رہا ہے۔ بظاہران حالات میں متقی کابھارت جانایہ پیغام دیتاہےکہ طالبان کثیرالسمتی سفارت کی راہ پرگامزن ہیں یعنی وہ ایک ملک کے زیرِ اثر نہیں رہناچاہتے لیکن صد افسوس کہ حالات کسی اورسمت کی چغلی کھارہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کےطویل پس منظرمیں یہ دورہ اس وقت ممکن ہواجب طالبان رہنمائوں کومحدوداستثنادیاگیا۔امیرخان متقی کاانڈیاجانانہ صرف طالبان حکومت کے لئے پہلا باضابطہ سفارتی تجربہ ہے،بلکہ افغانستان کے لئےعالمی سطح پردوبارہ سیاسی تناظرمیں واپسی کی علامت بھی ہے۔یہ سفراس لحاظ سے بھی غیرمعمولی ہے کہ انڈیاتاحال طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا،مگراس کی خارجہ پالیسی میں اب روابط کےنئے دریچے کھلنے لگےہیں۔
یہ دورہ اس وقت ممکن ہواجب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نےطالبان رہنمائوں پرعائدسفری پابندیوں میں جزوی نرمی کی۔یوں متقی کایہ سفرمحض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ افغان حکومت کےعالمی ادغام کی سمت پہلاقدم ہے۔یہ دورہ ایک ایسے وقت پرہورہاہےجب چین کااثرورسوخ افغانستان میں تیزی سےبڑھ رہاہے،روس طالبان سے براہِ راست روابط قائم کرچکا ہے، امریکابگرام ایئربیس کی واپسی کے بعدخطے میں اپنا کردار محدودکرچکاہے۔یوں متقی کاانڈیاجانا دراصل جنوبی ایشیاء میں طاقت کے محورکی ازسرِ نوترتیب کا مظہرہوتوخطے کےلئےانتہائی مفیدثابت ہوسکتاہے۔
طالبان رہنماؤں پراقوامِ متحدہ کی پابندیوں کاخاتمہ نہیں،مگرجزوی استثناایک علامتی ’’اعتراف‘‘ ہےکہ دنیاطالبان سے مکمل انقطاع نہیں چاہتی۔ طالبان کوانڈیاکادورہ کافائدہ اٹھاتے ہوئےعالمی برادری کویہ پیغام دیناچاہئےکہ طالبان اب’’محض ایک داخلی قوت‘‘ نہیں بلکہ علاقائی استحکام کےضامن کےطورپرخود کومنواناچاہتےہیں۔انڈیا،جوکبھی طالبان کاشدیدناقد اورمخالف گروہوں کاحامی رہا،اب اسی طالبان حکومت سے مکالمے کی راہ تلاش کررہاہے۔ یہ منظرنامہ دراصل تبدیل ہوتے ہوئے جغرافیائی مفادات کی نئی کہانی سناتاہے۔
(جاری ہے)