امریکن برانڈ اسلام کے سہولت کار ڈالر خور مذہبی یوتھیوں،جاویدغامدیوں ،اور دیگر غیر ضروری عناصر کی طرف سے سوشل میڈیا پر دی جانے والی خوفناک گالیوں، الزام تراشیوں اور سوکنوں والے طعنوں کے باوجود قطر سے آنے والی اس خبر نے ہر صاحب ’’ایمان‘‘ کے دل کو خوشیوں سے بھر دیا ہے، خبر کے مطابق برادر مسلم ملکوں قطر اور ترکیہ نے پاک افغان جنگ بندی کرا دی، جس سے پاکستان کے خلاف بھارتی سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں ،دوحہ میں قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں فریقین کے درمیان 13 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے، دونوں ممالک کے درمیان استحکام کے لیے مستقل میکنزم بنانے پر اتفاق کر لیا گیا۔
اللہ تعالیٰ دونوں ممالک کو اس جنگ بندی معاہدے کی مستقل پاسداری کی توفیق عطا فرمائے،تاکہ بھارتی اور امریکن رجیم کی سوشل میڈیائی گالی برگیڈ چمگادڑیں ہمیشہ الٹی لٹکی رہیں، نجانے امریکن برانڈ اسلام کے سہولت کار ’’ملاں رجیم‘‘کے ڈالر خوروں کو ’’حب الوطنی‘‘کا مطلب دوسروں کو گالیاں بکنا کس نے بتایا ہے؟پاکستان ہمارا ایمان تھا،ہے اور رہے گا،ہم تو اس ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لئے ’’قلم‘چھوڑ کر کلاشنکوف اٹھا کر پاک فوج کے شانہ بشانہ جہاد کرنا فرض سمجھتے ہیں،لیکن وطنیت اور قوم پرستی کی آڑ میں غزنوی وابدالی کی توہین کرنے والے خود ہی اپنی ادائوں پر غور فرما لیں،ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔
پاک افغان معاہدہ کو عالمی میڈیا کی رپورٹس کے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں ، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ محض ایک وقتی امن کی کوشش نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کے سب سے نازک خطے میں ایک نئے سفارتی دور کی بنیاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قطر کی ثالثی میں ہونے والا یہ سمجھوتہ اس امر کا ثبوت ہے کہ جب سیاسی مفاد سے زیادہ انسانی استحکام کو ترجیح دی جائے تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔پاکستان اور افغانستان کی 2600 کلومیٹر طویل سرحد(جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے) برسوں سے کشیدگی اور عدم اعتماد کا استعارہ بنی ہوئی ہے۔ اشرف غنی اورکرزئی کے ادوار میں تو سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی واقعات معمول تھے۔ لیکن کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد یہ امید تھی کہ اب یہ دہشت گردی ختم ہوجائے گی اور پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے افغان حکام دہشت گردی کے جن کو قابو کرلیں گے۔ خاص کر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو لگام ڈالی جائے گی مگر صد افسوس، ایسا نہ ہوسکا۔کچھ عرصہ قبل یہ تنائو ایک مرتبہ پھر کھل کر سامنے آیا جب پکتیکا صوبے میں پاکستانی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ اس کے بعد حالات میں تلخی بدستور بڑھتی رہی اور نوبت کئی مقامات پر باقاعدہ سرحد جھڑپوں تک پہنچ گئی۔ یہی حالات بالآخر دوحہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا سبب بنے۔ قطر اور ترکی کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے وزرائے دفاع خواجہ محمد آصف اور مولوی محمد یعقوب مجاہد ایک ہی میز پر بیٹھے اور ایک ایسے سمجھوتے پر دستخط کیے جو شاید برسوں سے ممکن نہ تھا۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق، مذاکرات کا مقصد دائمی امن، سرحدی استحکام اور باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنا تھا۔ فریقین نے نہ صرف فوری سیز فائر پر اتفاق کیا بلکہ اسے موثر کرنے اور نگرانی کے لیے ایک مشترکہ میکانزم تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا۔دونوں ممالک نے طے کیا کہ 25 اکتوبر کو ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں دوبارہ ملاقات ہوگی تاکہ عملی اقدامات، سرحدی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے اشتراک پر مزید پیش رفت کی جا سکے۔
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے پھیلنے والا دہشت گردی کا سلسلہ اب رک جائے گا اور دونوں ہمسائے ایک دوسرے کے احترام میں نئے باب کا آغاز کریں گے۔ دوسری طرف افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس سمجھوتے کو برادرانہ تعلقات کی بحالی قرار دیا ۔الجزیرہ کا کہنا ہے کہ قطر کا کردار اس پورے معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں دوحہ نے خود کو بین الاقوامی ثالثی کے مرکز کے طور پر منوایا ہے۔ فلسطین، لبنان، سوڈان اور افغانستان کے امن مذاکرات میں قطر نے اپنی غیر جانب داری اور اعتماد سازی کی مثال قائم کی۔ یاد رہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان تاریخی مذاکرات بھی 2020 ء میں دوحہ ہی میں ہوئے تھے، جنہوں نے بالآخر امریکی انخلا کی راہ ہموار کی۔ یہی اعتماد پاکستان اور افغانستان دونوں کو قطر کی میز پر لانے کا محرک بنا۔روزنامہ گلف ٹائمز کے مدیر اعلی فیصل المضاحکہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ قطر کی سفارت کاری کی بنیاد غیر جانب داری، رازداری اور اعتماد پر ہے۔ قطر پریس سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل صادق العماری کا کہنا تھا کہ قطر نے ثابت کیا ہے کہ امن کی راہ ہمیشہ بات چیت سے نکلتی ہے، نہ کہ بمباری سے۔ان مذاکرات میں ترکی نے بھی سہولت کار کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ انقرہ نے ماضی میں نیٹو فورسز کے ذریعے افغانستان میں انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں حصہ لیا تھا اور دونوں ممالک(پاکستان و افغانستان)کے ساتھ اس کے گہرے فوجی و سیاسی تعلقات ہیں۔ ترکی کی وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ استنبول اجلاس میں ہم دونوں ممالک کو مزید قریب لانے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کریں گے، تاکہ سرحدی تعاون کی راہ مضبوط ہو۔قطر اور ترکی کے اس مشترکہ کردار کو عالمی مبصرین اسلامی سفارت کاری کا نیا ماڈل قرار دے رہے ہیں، جس میں مسلم ممالک اپنی خودمختار صلاحیتوں سے علاقائی تنازعات کے حل میں پیش پیش ہیں۔
یہ جنگ بندی اگر قائم رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف پاک افغان تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ قدم وسطی ایشیا، چین، ایران اور خلیجی ریاستوں کے لیے بھی استحکام کا اشارہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ افغانستان کی بدامنی کا دائرہ اکثر پورے خطے تک پھیلتا ہے۔ اس معاہدے سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی شورش(خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان) پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی، افغانستان کو بھی ایک ایسے پڑوسی کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے جو معاشی و تجارتی لحاظ سے اس کے لیے ناگزیر ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دوحہ میں طے شدہ اعتماد سازی کے اقدامات کامیاب ہو گئے تو یہ معاہدہ ڈیورنڈ لائن کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جو ایک صدی سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا محور رہا ہے۔اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور چین نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ قطر اور ترکی نے اس مثال کے ذریعے دنیا کو دکھایا کہ امن کے لیے طاقت سے زیادہ سفارت کاری، اعتماد، اور نیت کی سچائی درکار ہوتی ہے۔ اگر آنے والے ہفتوں میں استنبول مذاکرات کامیاب رہتے ہیں، تو ممکن ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف سرحدی فائرنگ کو ختم کرے بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک نئے سفارتی نظم کی بنیاد بھی رکھے، جس میں جنگ کی زبان کی جگہ مکالمے کی زبان لے۔