جنوبی ایشیاکی تاریخ ایک طویل پردہ ہے جس پرطاقت،مصلحت اورایمان کے رنگ ایک دوسرے میں ملتے اوربکھرتے آئے ہیں۔اس پردے کے سائے میں جب بھی کسی نئے باب کا آغازہوتاہے توصدائے ماضی کی بازگشت کچھ ایسے بلندہوتی ہے جیسے صحرائے ہیران پراچانک ہوا کا جھونکاخاموشی کوچیرتاہوا،ریت کے بادل بلند کر دیتا ہے۔آج ہم اسی بازگشت کوسن رہے ہیںنئی دہلی اورکابل کے درمیان جوقربت نمودارہورہی ہے، وہ محض دوسفارتی ملاقاتیں یاکاغذی معاہدے نہیں، بلکہ ایک طویل کہانی کانیامنظرنامہ ہے ایک ایسی کہانی جس میں نظریات جھک گئے،مفادات پہچان بن گئے،اورقومیں اپنے وجودکے سوال کا جواب ڈھونڈتی رہ گئیں۔
افغانستان کے بارے میں،خودان کے مورخ اورتجزیہ نگارصریح وروشن کہتے ہیں:تم افغانوں کوخریدنہیں سکتے،مگراپنے مفادات کیلئے کرایہ پرلے سکتے ہو۔
یہ تلخ مگرحقیقت پسندانہ قول اس خطے کی سفارتی فلسفہ کی عکاسی کرتاہیایک قوم کی آزادیِ ارادہ کی قیمت کم نہیں،مگرجب مصلحتیں اور ضرورتیں مِلاپ کرتی ہیں توعارضی اتحادوجود میں آتے ہیں۔ اسی مصلحت کی کڑوی داستاں نئی دہلی اورکابل کے حالیہ رشتوں میں محفوفِ رازہے؛ایک طرف غالبِ وقت کی عملیت پسندی اوردوسری طرف تاریخ کی ناگفتہ بہ حکایات۔
یہ رپورٹ اسی پس منظرمیں ابھرنے والی فکری دستاویزہے جہاں زمانے کے مفکرین کی تمکنت، زبان وبیان کی چاشنی، اوراسلامی سوجھ بوجھ ایک ساتھ جلوہ گرہیں۔یہاں قصہ صرف ریاستوں کے درمیان سرحدی معاہدوں کا نہیں‘ بلکہ یہ ایک تہذیبی،نظریاتی اور اخلاقی امتحان بھی ہے کہ کیامفادِحیات کوکبھی ایمان وانصاف کے مول پرتولاجاسکتاہے؟یایہ صدائیں ہمیں ہرباریہی بتاتی رہیں گی کہ طاقت کے کھیل میں ضمیر اکثر مسکین رہ جاتاہے؟ قرآن کی وہ صداجوہمیں احتیاط اورحکمت اورمحتاط رہنے کاحکم دیتی ہے آج بھی مربوط ہے۔۔۔یہ محتاطی ہی وہ رہ نماہے جوخطے کو اندیشوں سے نکال سکتی ہے؛ورنہ مفادات کی عارضی قربتیں جلد ہی زخم و خون کی راہوں پر پھسل سکتی ہیں۔
دنیاکی سیاست کبھی اصولوں پر نہیں، مفادات پرچلتی ہے۔وہی انڈیاجوکل تک طالبان کو شدت پسندی کی علامت سمجھتاتھا،آج انہی کے ساتھ عملی اشتراک کی راہ پرگامزن ہے۔ بظاہریہ تعلق چراغ تلے اندھیراکی مانندایک تضادمعلوم ہوتاہے مگر دراصل یہ تضاد اس حقیقت کاعکاس ہے کہ وقت کے دھارے میں نظریات اکثر عملیت کی بھٹی میں پگھل جاتے ہیں۔یادرہے کہ سیاست میں مستقل دشمنی یادوستی ناممکن ہے، مستقل چیزصرف مفادہے۔مودی حکومت کی اسلام مخالف روش اورطالبان کی مذہبی حکومت یہ دونوں جب باہم قریب آئیں تویہ مفاہمت کسی عقیدتی ہم آہنگی کی نہیں بلکہ عملی ضرورتوں کی اولاد ہے۔جیساکہ قرآن کریم میں ارشادہے ‘ اوریہ دن ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔
دنوں کی یہ گردش ہی ہے کہ ماضی کے مخالف،حال کے شریکِ مصلحت،دہلی اورکابل آج ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔
سفارت کاری کے اس کھیل میں مسکراہٹیں اکثرخنجروں کی نوک پررقص کرتی ہیں۔ انڈیااورطالبان کے حالیہ بیانات میں جونرمی نظر آتی ہے،اس کے پیچھے منافقانہ سیاست کاوہ سخت گیرحساب پوشیدہ ہے جوطاقتورہمیشہ کمزورسے لیتا ہے۔ انڈیاطالبان کوپاکستان پر دبائو ڈالنے کاذریعہ بناناچاہتاہے،جبکہ طالبان دہلی کوپاکستان سے مزید رعایتیں حاصل کرنے کیلئے ایک شطرنجی مہرا بنا رہے ہیں۔یہ تعلق دراصل مفادات کی تجارت ہے، ایمان یانظریے کی شراکت نہیں۔ایسے ہی موقع پرشائدیہ کہاگیا کہ جہانِ سیاست میں کوئی چیز ابدی نہیں،نہ دشمنی نہ دوستی،فقط مفاد ہی مفہوم ہے۔انڈین میڈیاکی مکارانہ مسکراہٹیں اورطالبان کی سفارتی لچک دونوں اپنے اپنے مفادکے اسیر ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاںحقیقت،نظریہ سے سبقت لے جاتاہے۔
نواکتوبرتاچودہ اکتوبر2025ء،یہ چند دن جنوبی ایشیاکی تاریخ کے ایک نئے باب کاعنوان بن چکے ہیں۔طالبان کے وزیرِخارجہ مولوی امیر خان متقی کادور دہلی،محض ایک سفارتی ملاقات نہیں، بلکہ بیانئے کی شکست ہے۔وہ بیانیہ جودہلی کوکفراورکابل کوجہاد کاعلمبردارقراردیتاتھا،آج مصلحت کے فرش پردست بستہ بیٹھا نظر آتا ہے۔ انڈیاکاپرتپاک استقبال دراصل پالیسی کی تبدیلی نہیں،بلکہ پالیسی کے نقاب کی تبدیلی ہے۔یہ وہی دہلی ہے جس نے کل تک طالبان کو دہشتگرد کہا،اورآج ان کیلئے اپنے درواز ے تعاون کے نام پرکھول دیے۔یہ منظرتاریخ کے طمانچے جیساہے جو بتاتاہے کہ اقتدارکے دروازے پرنظریہ ہمیشہ زنجیرمیں جکڑاہوتاہے۔
کابل اوردہلی کی قربت،اسلام آبادکیلئے ایک نئی تشویش کاباعث بن گئی ہے۔متقی کادورہ دہلی دراصل اسلام آبادکے ریجنل ڈائیلاگ کے صرف دس دن بعدہوا،جہاں طالبان مخالف افغان شخصیات جمع ہوئیں۔یہ سیاسی بساط کچھ اس اندازسے بچھائی گئی ہے کہ ہرفریق دوسرے کو مات دینے کیلئے اپنے مہرے قربان کرنے پرآمادہ ہے۔اسلام آبادمیں ہونے والااجلاس پاکستان کیلئے سفارتی دفاع کی کوشش تھی،جبکہ دہلی میں طالبان کااستقبا ل جوابی حملہ کی بھرپورسازش۔یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہواجب پاکستان اورطالبان کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری تھیں،اورپاکستان وانڈیاکی فضائوں میں گولیوں کی گونج ابھی خاموش نہیں ہوئی تھی۔یہ لمحہ گویابتارہا ہے کہ امن، طاقت کے ایوانوں میں نہیں ،توازن کے ایوانوں میں جنم لیتاہے۔
طالبان کے وزیرِخارجہ کے دور دہلی نے جہاں ایک نئے سفارتی دورکاآغازکیاہے وہاں اس نے اپنے محسنوں کوبھی یہ پیغام دیا ہے کہ وہ وقت آنے پربھارت جیسے ملک جوطالبان کے خون کے پیاسے تھے،ان سے بھی ہاتھ ملانے سے گریزنہیں کرے گا۔نئی دہلی کیلئے یہ موقع اپنے اسٹریٹجک مفادات کے احیاء کا ہے چاہے اس کیلئے نظریاتی تضادات کوقربان ہی کیوں نہ کرناپڑے۔طالبان کیلئے یہ تعلق محض سیاسی بقاکاوسیلہ ہے مگربھارت کی چانکیہ سیاست کہ دشمن کے دشمن کواپنادوست بناکر دونوں سے انتقام لیاجائے۔ انڈیاکامقصد افغانستان میں اپنااثرورسوخ بحال کرکے پاکستان اور چین کے بڑھتے کردارکومتوازن کرناہی مقصود نہیں بلکہ چین پاکستان کے سی پیک کو نقصان پہنچانے کی امریکی سازشوں کی تکمیل بھی ہے۔مگرافسوس کہ یہاںصلح کاتصورایمان کے رشتے سے نہیں، مفادکے بندھن سے جڑاہواہے۔
(جاری ہے)