Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

امن کی راہ پر بڑھتا ہوا پاکستان

پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر قیادت میں عزم، اداروں میں یکجہتی اور قوم میں اعتماد موجود ہو تو کوئی تنازع ایسا نہیں جو گفت و شنید کے ذریعے حل نہ ہو سکے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سیز فائر معاہدہ اسی سیاسی بلوغت، قومی وقار اور حکومتی تدبر کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے ۔
برسوں سے چمن سے طورخم تک سرحدی علاقوں میں جو بے یقینی، خوف اور دشمنی کی فضا قائم تھی، اس نے عوام کی زندگیوں کو متاثر کیا، تجارت کو محدود کیا اور دہشت گردی کے خطرات کو بڑھایا۔ لیکن موجودہ حکومت نے اس صورتحال کو محض ایک سیکورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی و معاشی چیلنج کے طور پر دیکھا اور اسے حل کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی۔ چنانچہ کئی ماہ کی خاموش سفارت کاری، بیک چینل رابطوں اور علاقائی ثالثی کے نتیجے میں جو سیز فائر معاہدہ سامنے آیا، وہ محض بندوقوں کی خاموشی نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اس معاہدے نے یہ واضح کیا کہ پاکستان اب کسی بیرونی دباؤ یا وقتی سیاسی فائدے کے تحت نہیں بلکہ اپنے طے شدہ قومی مفاد اور پائیدار امن کی پالیسی کے تحت فیصلے کرتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں سرحد پار سے دہشت گردی کی نئی لہر نے ملک کو نقصان پہنچایا، درجنوں بے گناہ شہری اور سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے اور عوام میں اضطراب بڑھا۔ ایسے میں حکومت پر دباؤ تھا کہ وہ سخت ردعمل دے، مگر قیادت نے تحمل اور تدبر کا راستہ اپنایا کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ طاقت وقتی سکون دیتی ہے مگر پائیدار امن صرف بات چیت سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ سیاسی فہم تھی جس نے آج دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لا کھڑا کیا۔ حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہم افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے، صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہماری سرزمین اور عوام پر حملے نہ ہوںاور سرحدوں پر امن قائم رہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جو آخرکار کابل حکومت اور دیگر افغان فریقوں نے تسلیم کیا۔
چنانچہ جب سیز فائر معاہدے پر دستخط ہوئے تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر ابھرا۔ اس عمل نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور پُراعتماد ریاست ہے جو امن کی خواہش کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھتی ہے۔ اس کامیابی کا کریڈٹ صرف حکومتِ پاکستان کو نہیں بلکہ قومی اداروں کو بھی جاتا ہے جنہوں نے سفارت کاری، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کی سطح پر یکجا ہو کر کام کیا۔ حکومت نے سیز فائر معاہدے کے بعد فوری طور پر ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا تاکہ ان علاقوں میں امن کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچیں۔ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ چین، ایران، ترکی، قطر اور روس جیسے ممالک نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور اسے خطے کے استحکام کے لیے کلیدی قرار دیا۔ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اس اقدام کو خوش آئند کہا، جو ظاہر کرتا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے کردار کو تسلیم کر رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے پاکستان کے تجارتی مفادات کو بھی تقویت ملے گی۔ عوامی سطح پربھی اس معاہدے کو سراہا گیا، کیونکہ برسوں سے دہشت گردی، مہنگائی اور بے یقینی سے تھکے ہوئے لوگ اب ایک پُرامن زندگی کے متمنی ہیں۔دفاعی نکتۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس معاہدے نے پاکستان کو ایک اسٹریٹجک ریلیف دیا ہے۔ فوج اب اپنی توجہ اندرونی استحکام، سرحدی نگرانی اور ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز کر سکتی ہے۔ سیز فائر کے بعد دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں میں کمی آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر سیاسی عزم ہو تو امن ممکن ہے۔ حکومت نے ایک جانب سخت سیکیورٹی اقدامات برقرار رکھے ہیںاوردوسری جانب سفارتی دروازے کھلے رکھے ہیں تاکہ اگر کسی فریق کی جانب سے خلاف ورزی ہو تو اسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکے۔جب خطہ پُرامن ہوتا ہے تو سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے، معیشت کو استحکام ملتا ہے اور روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں۔ چین، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع دیکھ رہے ہیں اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات اس رجحان کو مزید تقویت دیں گے۔
موجودہ حکومت کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے صرف سیز فائر تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک وسیع امن وژن پیش کیا ہے جس میں تجارت، توانائی، تعلیم اور انسانی رابطے شامل ہیں۔ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے امن کو کمزوری کے طور پر نہیں بلکہ خود اعتمادی اور بصیرت کے اظہار کے طور پر پیش کیا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ امن کے راستے میں رکاوٹیں ابھی باقی ہیں۔ کچھ اندرونی اور بیرونی قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دشمنی برقرار رہے تاکہ وہ اپنے سیاسی و معاشی مفادات حاصل کر سکیں۔ یہ معاہدہ صرف بندوقوں کو خاموش کرنے کا نہیں بلکہ ذہنوں کو بدلنے کا عمل ہے اور یہ تبدیلی سب سے مشکل مگر سب سے پائیدار ہوتی ہے۔ اگر اس پر تسلسل کے ساتھ عمل ہوتا رہا تو آنے والے برسوں میں پاکستان اور افغانستان نہ صرف ایک دوسرے کے شراکت دار بنیں گے بلکہ پورے خطے کے لیے استحکام کی ضمانت بن جائیں گے۔ تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا موقع آیا ہے جب دونوں ممالک کے پاس ایک دوسرے کو سمجھنے، غلطیوں سے سیکھنے اور مشترکہ مستقبل کی بنیاد رکھنے کا موقع موجود ہے۔ حکومتِ پاکستان نے دانشمندی کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ امن کی خواہش کوئی وقتی نعرہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ، مدبرانہ قومی حکمتِ عملی ہے۔ یہی تدبر، یہی سیاسی بلوغت اور یہی پالیسی پاکستان کو آنے والے برسوں میں ایک مضبوط، پُرامن اور باوقار ریاست بنائے گی۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاہدہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب ہے ۔

یہ بھی پڑھیں