(گزشتہ سے پیوستہ)
اچھے اور برے دوست کی مثال ‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نیک اور برے ہم نشین کی مثال کستوری رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی ہے، کستوری رکھنے والا یا تو تجھے عطیہ دے دے گا، یا تو اس سے خرید لے گا، یا اس سے عمدہ خوشبو پاتا رہے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا، یا تو اس سے گندی بو پاتا رہے گا۔نیک لوگوں کی صحبت کی تمنا کیجئے ‘اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںاور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ(پر) اور اس چیز پر ایمان نہ لائیں جو حق میں سے ہمارے پاس آئی ہے اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر لے گا۔(المائد : 84 )
نیک لوگوں کے پیچھے چلنے اور ان کے ساتھی بننے کی دعا سکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یوں تعلیم دی ہے ‘فرمایا۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ (الفاتح : 6 )ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔(الفاتح : 7 )
مومن کے علاوہ کسی اور کو اپنا ساتھی نہ بنائو‘ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ۔ مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے۔(2395)
سچے لوگوں کے ساتھی بننے کے متعلق حکم الٰہی‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جائو۔ (التوبۃ : 119)
ہر آدمی قیامت کے دن اپنے دوستوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا‘انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاِ۔ تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہوگئے جس سے تم محبت رکھتے ہو(6168)اور ایک روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ (6168)۔سیدنا ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوا ۔ متقی لوگ قیامت کے دن اپنے دوستوں کی سفارش کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا‘سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔(الزخرف : 67 ) مگر متقی لوگ۔امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:جب اہل جنت، جنت میں داخل کیے جائیں گے اور وہ وہاں ان لوگوں کو نہیں پائیں گے جن کے ساتھ وہ دنیا میں خیر کے کاموں پر ہوا کرتے تھے، تو وہ ان کے بارے میں رب العزت سے سوال کریں گے، اور کہیں گے‘اے ہمارے رب! ہمارے بھائی ہوا کرتے تھے جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور روزے رکھتے تھے۔ ہم انہیں یہاں نہیں دیکھتے؟ تو اللہ عزوجل و تعالیٰ فرمائیں گے،(جائو آگ سے انہیں نکال لائو جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے) حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:مومن دوست بنانے میں کثرت سے کام لو، کیونکہ قیامت کے دن ان کے لیے شفاعت (کرنے کا اختیار) ہوگا۔
وفادار دوست : وہ ہے جو تمہارے ساتھ جنت تک جائے!ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیںاگر تم جنت میں مجھے اپنے درمیان نہ پا ئو تو میرے بارے میں سوال کرناپھر کہنا اے ہمارے رب! تیرا فلاں بندہ ہمیں تیری یاد دلاتا تھا۔پھر آپ رحمہ اللہ رو دئیے جہنمی خواہش کریں گے کہ کاش ہمارا کوئی نیک دوست ہوتا جو ہماری سفارش کرتا اور ہمیں چھڑا لیتا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا جہنمی لوگ کہیں گے۔اور ہمیں گمراہ نہیں کیا مگر ان مجرموں نے(الشعرا : 99 )اب نہ ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں۔(الشعرا : 100 )اور نہ کوئی دلی دوست۔(الشعرا : 101)
یعنی کفار کا قیامت کے دن کوئی دلی دوست ہو گا نہ رشتے دار، سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، جب کہ مومنوں کے دوست انبیا، فرشتے اور تمام مومن ہوں گے ‘دوست انسان کی پہچان ہوتے ہیں لہٰذا اچھے لوگوں کو دوست بنائیں‘عدی بن زید نے کہا ہے۔ تولوگوں کے درمیان ہو تو ان میں بہترشخص کو اپنا ساتھی بنائو،اور یاد رکھ کہ خراب اوربدمزاج انسان کو اپنا ساتھی اوردوست نہ بنانا،چونکہ اس سے دوستی تیری خرابی کا باعث بنے گی۔آدمی کے بارے میں معلومات نہ لے بلکہ اس کے دوست یا ساتھی کے بارے میں معلومات لے چونکہ ہر دوست اور ساتھی اپنے ہم جولیوں کی اتباع کرتا ہے۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ‘عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔لوگوں کو ان کے دوستوں سے پہچانو‘آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے آدمی کو خوب سوچ سمجھ کر دوست کا انتخاب کرنا چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے دلی دوست بنا رہا ہے۔
مربہ اور سرکہ کی مثال‘ کچھ گاجریں خریدیں ان میں سے آدھی پانی اور چینی میں ڈال دیں اور آدھی پانی اور نمک میں ڈال دیںکچھ دنوں کے بعد آپ دیکھیں گے کہ پہلے والی مربہ اوربعدوالی سرکہ بن چکی ہیںگاجر وہی ہے لیکن ماحول تبدیل ہوا ہے ‘پس اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ نیک بنیں تو نیک لوگوں کے ساتھ رہیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ برے بنیں تو برے لوگوں کے ساتھ رہیں۔
یہودی کے بیٹے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت فائدہ دے گئی‘ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا:سلِم مسلمان ہوجائو۔اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہاکیا مضائقہ ہے‘ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا۔ (بخاری 1356)
پیغمبر کا بیٹا اور بیوی ہونے کے باوجود بری صحبت لے ڈوبے ‘نوح علیہ السلام کے بیٹے اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے اعزاز سے نوازا تھااور کو پیغمبر کا بیٹا بنایا تو دوسری کو پیغمبر کی بیوی بنایامگر افسوس کہ دونوں کے تعلقات اور مراسم برے لوگوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے دونوں دھتکار دیئے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو برے دوست جہنم لے گئے ۔صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ دیکھا تو ان کے پاس اس وقت ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ چچا! آپ ایک کلمہ لاا لہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کوئی معبود نہیں ) کہہ دیجئیے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کلمہ کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ مغیرہ نے کہا ابوطالب! کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جا ئوگے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر کلمہ اسلام ان پر پیش کرتے رہے۔ ابوجہل اور ابن ابی امیہ بھی اپنی بات دہراتے رہے۔ آخر ابوطالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں۔ انہوں نے لاا لہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا ۔(جاری ہے)