Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سیاست کی راہوں میں ایمان اور مفاد کا امتحان

(گزشتہ سے پیوستہ)
چندسال پہلے تک جس منظرکاتصوربھی بعید ازقیاس تھا،آج وہ حقیقت کی صورت میں سامنے ہے۔طالبان اوربھارت کے مابین بڑھتی قربتیں وہ طمانچہ ہیں جووقت نے نظریاتی استقامت کے چہرے پرماراہے۔پاکستان،جس نے کابل پرطالبان کے قبضے کواسلامی فتح سمجھ کرخیرمقدم کیا تھا،آج اسی طالبان حکومت کی دہلی سے قربت پر انگشت بدنداں ہے ۔یہ منظراس خطے کے بدلتے سیاسی توازن کی گواہی دے رہاہے کہ جنہیں تم اپنے خیمے کے چراغ سمجھتے تھے،وہی اب آندھیوں کے رفیق بن چکے ہیں۔طالبان اورانڈیاکی قربت محض دوحکومتوں کی بات نہیں،بلکہ دودہائیوں پر محیط تلخی،بے اعتمادی اورنظریاتی فاصلوں کی شکست ہے۔ اب یہ قربتیں پاکستان کیلئے سیاسی دھچکانہیں بلکہ سفارتی زلزلہ ہیں۔
تحریکِ طالبان کے قیام(1994)سے اب تک بھارت ہمیشہ طالبان کوپاکستانی پراکسی کے طورپردیکھتاآیاہے۔اسی بنیادپربھارت نے ایران اورروس کے ساتھ مل کرشمالی اتحاد کی پشت پناہی کی، تاکہ کابل سے طالبان کاسایہ دور رکھا جاسکے۔ 2001ء میں جب امریکانے افغانستان پرحملہ کیا،بھارت نے غنی حکومت کابڑاحمایتی بن کر طالبان کے خلاف اپنی سرمایہ کاری کی۔ ان20 برسوں میں طالبان اوربھارت کی نفرت ایک مسلمہ حقیقت تھی لیکن و قت وہ استادہے جوسب سے زیادہ سخت سبق دیتاہے۔اب وہی بھارت،جس کے میڈیامیںطالبان کانام سن کرتلخی چھاجاتی تھی، انہی طالبان کواپناعلاقائی پارٹنرکہنے لگاہے۔یہ ہے وہ لمحہ جسے تغیراحوال کہاتھاجب حق پسپانہ ہو، مگر اہلِ حق مصلحت میں الجھ جائیں،توباطل کوموقع ملتاہے کہ وہ دوستی کے پردے میں اپنی دشمنی بیچے۔
فروری2020ء میں قطرکے شہردوحہ میں جب امریکااورطالبان کے مابین امن معاہدہ ہوا،تو بھارت کیلئے یہ خبرکسی زلزلے سے کم نہ تھی۔ اس معاہدے نے افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاکی راہ ہموارکی،مگربھارت کیلئے یہ خارجہ پالیسی کابحران تھا۔15اگست2021ء کوجب طالبان نے کابل پرقبضہ کیا،بھارت کے سفارت خانے خالی اوربندہوگئے ،اوردہلی نے افغانستان کے شہریوں سے نظریں چرالیں۔طالبان نے اسے دھوکہ دہی قراردیا،اور دہلی نے اسے سکیورٹی کی مجبوری کابہانہ بنایا۔یہی وہ لمحہ تھاجب اعتمادکا درخت جڑ سے اکھڑگیالیکن سیاست وہ مالی ہے جوایک ہی زمین پرنئے بیج لگادیتاہے۔چندہی برسوں میں بھارت نے اسی طالبان سے رابطے استوارکر لیے جنہیں وہ کل تک غیرمہذب، خونی اور وحشی قرار دیتاتھا۔ سیاست کی راہوں میں کل کا دشمن، آج کاحلیف بن جاتاہے؛یہ وہ میدان ہے جہاں اصول نہیں،مقاصد فیصلہ کرتے ہیں۔
یہ وہی طالبان تھے جوکبھی اسلامی اخوت کے نام پرپاکستان کی قربت کے قائل تھے، مگر اب اپنے سیاسی مفادکیلئے خودمختار پالیسی کاعلم اٹھائے ہوئے ہیں۔طالبان نے انڈیاکویہ باور کرانے کی بھرپورکوشش کی کہ ان کی خارجہ پالیسی کسی تیسرے ملک کی تابع نہیں۔ یہ تیسرا ملک واضح طورپرپاکستان تھا۔دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے ایک دوسرے کے گلے لگنے کیلئے تیارہوگئے اور ہی وہ مقام ہے جہاں انڈیا نے موقع دیکھااورکابل کے دروازے پر احترام کے لباس میں مفادکاپیغام لے کرپہنچ گیا۔ جبکہ قرآن نے واضح فرمایاہے :اے ایمان والو! احتیاط اختیارکرو۔لیکن طالبان جوخودکواسلام کا سفیر کہتے ہیں،ابی یہی دھوکہ اورمفادکی سیاست دونوں کی سفارت کاری کامحوربن چکی ہے۔
اگریادہوتوجون2012ء میں طالبان نے ایک غیرمتوقع بیان میں انڈیا کی تعریف کی،کہ اس نے افغانستان میں امریکی فوجی کردارکو مسترد کیا۔ یہ تعریف محض ایک بیان نہیں تھی،بلکہ دہلی کے دروازے پرنرم دستک تھی۔یہ وہ وقت تھاجب امریکا اپنے انخلا کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، اور انڈیاسے چاہتاتھا کہ وہ افغان سکیورٹی میں زیادہ فعال کرداراداکرے۔ طالبان نے چالاکی سے انڈیا کوغیرجانبدارملک کے طور پرسراہا،اورکہاکہ امریکاکوخوش کرنے کیلئے انڈیاکاتباہی میں ملوث ہوناغیرمنطقی ہوگا۔یہ سفارتکاری کاپہلا بیج تھاجس کی فصل آج نئی دہلی میں لہلہارہی ہے۔راقم نے طالبان کے اس بیان کے اگلے دن ہی’’پلٹ ترا دھیان کدھر ہے‘‘کے عنوان سے اپنے اداروں اوروزارتِ خارجہ کوخبرداربھی کیاتھالیکن وائے افسوس،اس طرف دھیان نہیں دیاگیا۔یادرہے کہ سیاست وہ علم ہے جس میں زبان سے زیادہ خاموشی بولتی ہے اور خاموشی ہی تمام زبانوں کی مرشدہوتی ہے۔یہی خاموشی انڈیااورطالبان کے درمیان نئے باب کی بنیاد بن گئی۔
15 اگست2021ء کوطالبان کے دوبارہ اقتدارمیں آنے کے بعد،انڈیاکے ساتھ ان کے تعلقات میں سفارتی گرمی آنے لگی۔ابتدامیں صرف بیانات کاتبادلہ ہوا،پھر پیغامات ،اوررفتہ رفتہ رابطے، یہی وہ تدریجی عمل تھاجو اعتماد کی بنیاد بنا۔ انڈیانے سمجھ لیاکہ اگروہ کابل سے کنارہ کشی اختیار کرے گاتوپاکستان اورچین دونوں وہاں اپنااثربڑھالیں گے۔مودی نے یوں اپنے مربی امریکاکے مشورہ پرنرم قوت کے ذریعے اپنا کردار دوبارہ زندہ کرنے کی راہ نکالی۔یہ وہی تدریج ہے جسے سیاست کی فنکاری کہاجاتاہے یعنی جوبات تلوار سے نہ منوائی جاسکے،وہ تبسم سے منوائی جاسکتی ہے۔انڈیانے یہی تبسم اختیارکیااورطالبان نے دروازے کھولنے میں دیرنہ کی اوراپنے مفادات کیلئے محسنوں کی گردن پرپاؤں رکھنے کی پالیسی اختیارکرلی۔
جون2022ء میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے وفدنے،جے پی سنگھ کی قیادت میں،کابل کا باضابطہ دورہ کیا۔ یہ ایک نیا آغازتھا۔ایک نئی شروعات جسے طالبان نے خیرسگالی کامظہر قرار دیا۔ یہی وہ لمحہ تھاجب سفارت کاری کے جمودمیں پہلی دراڑ پڑی۔کابل نے دہلی سے کہاہم آزاد ہیں، اپنے فیصلوں کے مالک مگراپنے مفادات کیلئے اور دہلی نے جواب میں مسکراکرکہاہم بھی آزاد ہیں، مگر اپنی مصلحتوں کے تابع ۔یہ ملاقات گویاباہمی مفادات کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے بعدجو دیوار کھڑی ہوئی،وہ ایک دوسرے کواستعمال کرنے کے مفادات، تجارت اورعلاقائی سیاست کے پردے کی اینٹوں سے بنی۔
جنوری2025 ء کی خلیجی ہواں نے ایک نئی خبراپنے دامن میں چھپا رکھی تھی۔دبئی کے پرتعیش کمروں میں طالبان کے وزیرِخارجہ امیر خان متقی اورانڈیاکے نائب وزیرِخارجہ وکرم مصری کی ملاقات ہوئی۔یہ وہ لمحہ تھاجب سیاست نے ایک بارپھرنظریے پرغلبہ حاصل کیا۔یہ ملاقات محض رسمی نہیں تھی؛یہ اعتمادسازی کی وہ پہلی اینٹ تھی جودہلی اورکابل کے درمیان ایک نئے پل کی بنیاد بن گئی۔بیرونی دنیاکواس ملاقات کاعلم بعدمیں ہوا،مگرسفارتی دنیاکے اندر اس کی گونج بہت پہلے سنائی دے گئی۔یہی وہ دبئی تھاجہاں کبھی طالبان کے سیاسی دفترسے بھارت اور امریکاکے خلاف بیانات جاری ہوتے تھے،اورآج وہی دبئی دہلی سے تعلقات کے قیام کی بنیادبنا۔یہی تاریخ کا طنزہے کہ جہاں کل نفرت کی دیوار کھڑی تھی،آج وہیں مصلحت کادرکھل گیا۔
چارماہ بعد،مئی2025ء میں،ایک اور باب رقم ہوا۔طالبان کے وزیرِخارجہ امیرخان متقی اوربھارتی وزیرِخارجہ سبرامنیم جے شنکرکے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔یہ رابطہ کسی اعلامیے سے زیادہ معنی خیزتھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب دہلی اورکابل کے درمیان فاصلے لفظوں میں نہیں،لہجوں میں گھلنے لگے ۔اگرچہ دنیانے اسے روٹین کال کہا، مگر درحقیقت یہ مصلحتوں کادوسرا زینہ تھا۔یہی سیاست کاوہ نازک موڑہے جہاں گفتگو خاموش معاہدوں کاپیش خیمہ بن جاتی ہے۔ دنیامیں سب سے پراثر صلح وہ ہے جوزبانوں سے پہلے دلوں میں ہوجاتی ہے لیکن یہ دلوں کی نہیں ،مصلحتوں کی صلح تھی ۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں