Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سیاست کی راہوں میں ایمان اور مفاد کا امتحان

(گزشتہ سے پیوستہ)
جس کے آثارابھی ظاہری اعلان سے دورتھے۔وقت کے ساتھ تعلقات کی ٹھنڈی راکھ میں حرارت آنے لگی۔ انڈیا نے طالبان کے ارکان، اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو سرکاری ملاقاتوں، تربیت، اور علاج کیلئے ویزے جاری کیے۔یہ عمل بظاہرانسانی بنیادوں پرتھا،مگردرحقیقت یہ چانکیہ سفارت کاری کاوہ حربہ تھا جس سے دہلی نے اپنی شبیہ کو خطے میں بظاہرنرمی اوردوستی کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔یہی وہ لمحہ تھاجب مفادنے انسانیت کا لباس پہنا،اورسیاست نے ہمدردی کے پردے میں اپنے قدم آگے بڑھائے۔طالبان نے خاموشی سے اس پیشکش کوقبول کیا،اور یوں باہمی اعتماد کادائرہ وسیع ہونے لگا۔ یہ عمل گویااس قرآنی حقیقت کی جھلک تھاکہ:وہ تدبیر کرتے ہیں،اور اللہ بھی تدبیرکرتاہے،اوراللہ بہترین تدبیرکرنے والاہے۔دہلی اورکابل تدبیروں کے فریب میں رہے مگرنتائج کافیصلہ وقت کے ہاتھ میں رہا۔
نومبر2024وہ مہینہ جب انڈیانے ممبئی میں افغان قونصل خانہ طالبان کے مقررکردہ نمائندے کے حوالے کردیا،اورچندماہ بعد حیدرآباد میں بھی یہی عمل دہرایا گیا۔یہ وہ واقعہ تھا جس نے دہلی اورکابل کے تعلقات کوغیررسمی سے نیم رسمی سطح پرپہنچادیا۔اگرچہ انڈیا نے طالبان حکومت کوباضابطہ تسلیم نہیں کیا،لیکن دہلی میں افغان سفارت خانے میں طالبان کے مقررکردہ سفارت کاروں کوقبول کر کے نئی دہلی نے ایک خاموش مگرفیصلہ کن اعتراف کیا۔یہ وہی دہلی ہے جوکبھی طالبان کوغیرقانونی قوت قراردیتی تھی،اورآج ان کے نمائندوں سے ہاتھ ملارہی ہے۔ یہ وہی منظرہے جسے تاریخ کے آئینے میں دیکھ کرفوری یہ خیال گونجتا ہے سیاست کے منافقانہ امتحان واقعی اوربھی باقی ہیں خاص طورپرجب ہرملک اپنے وجود کو مفادکی صلیب پرقربان کرنے پرآمادہ ہو۔
پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور تجارتی رکاوٹوں نے اسے بحری راستوں سے محروم کردیاہے۔ افغان حکام برسوں سے شکوہ کرتے آئے ہیں کہ پاکستان اکثرکراچی بندرگاہ اور واہگہ بارڈرکوسیاسی دباؤکیلئے استعمال کرتا ہے۔ افغانستان کی معیشت گزشتہ دودہائیوں سے زخم خوردہ ہے اوریہ زخم خودان کے اپنے ہاتھوں سے لگائی ہوئی فصل سے کاٹنے پڑ رہے ہیں۔اس زہریلی فصل کوکاشت کوختم کرنے کی بجائے طالبان حکومت نے انڈیا کے ساتھ تجارت کیلئے نئے راستے کوپاکستان پربطوردباؤاوربلیک میلنگ کیلئے استعمال کرنے کاراستہ اپنالیا۔انڈیا کیلئے بھی یہ موقع تھا کہ وہ معاشی دروازے کے بہانے پاکستان کے خلاف اپنے مفادات کی سیاسی کھڑکی کھول لے۔یوں کابل اوردہلی کے درمیان تجارت کے ذریعے سفارت کاری کی بنیادرکھی گئی۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں مفاد نے نظریے کو شکست دی، اور اقتصاد نے عقیدہ پرغلبہ پایا۔ قرآن نے فرمایا: زمین میں یقین رکھنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔واقعی،کابل کی خاک میں آج یقین نہیں،مفاد کی نشانیاں بکھری پڑی ہیں۔
افغانستان صدیوں سے طاقتوں کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔انڈیااورپاکستان دونوں اسے اپنے اثرورسوخ کامرکزسمجھتے ہیں۔1994ء سے 2001ء تک طالبان کے پہلے دورمیں پاکستان کا جھکاؤکابل کی طرف تھا،مگر اب تاریخ نے کروٹ لی ہے،طالبان کے دوسرے دورِحکومت میں یہی تعلقات تیزی سے بگڑچکے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپوں نے حالات کو مزید کشیدہ کردیا۔یہ وہ نیاموڑہے جہاں پاکستان کواحساس ہورہاہے کہ جس قوت کواس نے کبھی تزویراتی گہرائی سمجھا تھا،وہی اب تزویراتی خطرہ بن چکی ہے بلکہ سیاسی مصلحت کی محتاج ہو چکی ہے۔ کابل اوردہلی کی قربت اسلام آبادکیلئے سفارتی تنہائی کی ایک نئی گھنٹی ہے جس پرفوری توجہ کی اشدضرورت ہے۔
جب سیاست کے سمندرمیں مفادات کے بھنور اٹھتے ہیں توالزامات کی لہریں لازماتیزہوجاتی ہیں۔ پاکستان آج طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان کواپنی سرزمین سے کارروائیاں کرنے دیتی ہے۔یہ وہی فتنہ الخوارج الہندہیں جس نے پاکستان میں بے شمار خونریز واقعات کی ذمہ داری قبول کی۔پاکستان کامؤقف ہے کہ کابل کی خاموشی دراصل بھارتی اثرورسوخ کا نتیجہ ہے کہ دہلی افغانستان کے راستے بلوچ علیحدگی پسندوں اورپاکستان مخالف گروہوں کی مددکررہاہے۔یہ دعوے صرف سیاسی نہیں، بلکہ ان کے ثبوت بھی پیش کیے جاچکے ہیں۔یہ منظرخطے کی اس تلخ حقیقت کوبے نقاب کرتاہے کہ جوملک اپنے ہمسائے پربھروسہ نہیں کرتا،وہ خودبھی شک کے حصارمیں قید ہوجاتاہے۔ پاکستان کیلئے یہ معاملہ محض دفاعی نہیں، بلکہ وجودی مسئلہ بن چکاہے اورکابل کیلئے یہ سوالِ بقاہے کہ وہ دہلی کے ساتھ قربت میں اسلام آبادکی ناراضی کوکس حد تک برداشت کرسکتا ہے ۔طالبان کی مصلحت آمیزخاموشی ایک طوفان کوجنم دے چکی ہے۔ پاکستان بارہا افغان حکومت کو شواہد کے ساتھ کہہ چکا ہے کہ سرحدپارسے حملے روکے جائیں، مگر جواب میں محض وعدے اورتاویلات ملیں۔یوں لگتا ہے جیسے اسلامی اخوت کارشتہ سیاست کے ریگزارمیں گم ہوگیاہو۔طالبان کے بعض حلقے ان بھارتی فتنہ گروہوں کوکھلی چھوٹ دے رہے ہیں، اورپاکستان مجبورہوکرجوابی کارروائیوں کر رہا ہے کہ اسے ہرحال میں اپنے فوجیوں اور شہریوں پر حملوں کوجواب دیناپڑتاہے۔یہی وہ موڑہے جہاں دواسلامی ہمسائے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں اوردشمن تماشائی بن کرقہقہے لگا رہا ہے۔ قرآن کی وہ صدا آج پھر گونجتی ہے:اورآپس میں جھگڑانہ کرو،ورنہ تمہارازورجاتارہے گا۔ افسوس! آج یہ آیت صرف تلاوت کیلئے رہ گئی،عمل کیلئے نہیں۔
طالبان کے پاکستان سے تعلقات جس سرعت سے خراب ہوئے،اسی رفتارسے ان کے بھارت کے ساتھ روابط مستحکم ہوتے گئے۔یہ تبدیلی اتنی غیرمتوقع تھی کہ نہ اسلام آبادکواس کا اندازہ تھا،نہ دہلی کواس کی امید۔تاریخ کے اس موڑ پرپاکستان کے40سالہ میزبانی اورحمایت کی محنت گویارائیگاں چلی گئی۔طالبان اب دہلی کے ساتھ سیاسی، تجارتی،اور سفارتی سطح پرروابط بڑھا رہے ہیں اوریہی وہ لمحہ ہے جب تزویراتی گہرائی کاخواب تزویراتی تنہائی میں بدل گیا۔یہ سب کچھ اس حقیقت کو آشکارکرتاہے کہ ریاستوں کے تعلقات دل سے نہیں،مفاد سے جڑتے ہیں اور مفاد کبھی کسی ایک درپروفادارنہیں رہتا۔طالبان اب اسلامی برادری کی جگہ علاقائی توازن کے اصول پرکھیل رہے ہیں،اوریہی سیاست کا سب سے مہلک جادوہے جودشمن کودوست اوردوست کو اجنبی بنادیتاہے۔طالبان کے اس رویے نے لاکھوں نہیں کروڑوں ان مسلم نوجوانوں کے دلوں کو مجروح کردیاہے جوشب وروزان کی کامیابیوں کیلئے دامے درمے سخنے تیاررہتے تھے۔
مودی حکومت کیلئے یہ قربت محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں،بلکہ داخلی بحران سے نجات کاذریعہ بھی ہے۔ کشمیر میں مزاحمت کی تحریکیں، بھارت کے32سے زائد علاقوں میں علیحدگی کی آوازیں، اورمذہبی منافرت کی آگ یہ سب مودی سرکارکو اندر سے کھارہی ہیں۔چنانچہ دہلی نے پاکستان دشمنی کاایک پراناہتھیارپھراٹھایا،جب عوامی اضطراب بڑھ جائے، توخارجی دشمن کی تصویر دکھا کران کے غصے کارخ باہرموڑدیاجاتاہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں