Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سیاست کی راہوں میں ایمان اور مفاد کا امتحان

(گزشتہ سے پیوستہ)
طالبان کے پاکستان سے تعلقات جس سرعت سے خراب ہوئے،اسی رفتارسے ان کے بھارت کے ساتھ روابط مستحکم ہوتے گئے۔یہ تبدیلی اتنی غیرمتوقع تھی کہ نہ اسلام آبادکواس کا اندازہ تھا،نہ دہلی کواس کی امید۔تاریخ کے اس موڑ پرپاکستان کے40سالہ میزبانی اورحمایت کی محنت گویارائیگاں چلی گئی۔طالبان اب دہلی کے ساتھ سیاسی، تجارتی،اور سفارتی سطح پرروابط بڑھا رہے ہیں اوریہی وہ لمحہ ہے جب تزویراتی گہرائی کاخواب تزویراتی تنہائی میں بدل گیا۔یہ سب کچھ اس حقیقت کو آشکارکرتاہے کہ ریاستوں کے تعلقات دل سے نہیں،مفاد سے جڑتے ہیں اور مفاد کبھی کسی ایک درپروفادارنہیں رہتا۔طالبان اب اسلامی برادری کی جگہ علاقائی توازن کے اصول پرکھیل رہے ہیں،اوریہی سیاست کا سب سے مہلک جادوہے جودشمن کودوست اوردوست کو اجنبی بنادیتاہے۔طالبان کے اس رویے نے لاکھوں نہیں کروڑوں ان مسلم نوجوانوں کے دلوں کو مجروح کردیاہے جوشب وروزان کی کامیابیوں کیلئے دامے درمے سخنے تیاررہتے تھے۔
مودی حکومت کیلئے یہ قربت محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں،بلکہ داخلی بحران سے نجات کاذریعہ بھی ہے۔ کشمیر میں مزاحمت کی تحریکیں، بھارت کے32سے زائد علاقوں میں علیحدگی کی آوازیں، اورمذہبی منافرت کی آگ یہ سب مودی سرکارکو اندر سے کھارہی ہیں۔چنانچہ دہلی نے پاکستان دشمنی کاایک پراناہتھیارپھراٹھایا،جب عوامی اضطراب بڑھ جائے، توخارجی دشمن کی تصویر دکھا کران کے غصے کارخ باہرموڑدیاجاتاہے۔
طالبان کے ساتھ تعلقات اس بڑے منصوبے کا حصہ ہیں تاکہ اسلام آبادکودباؤمیں لاکراندرونی ناکامیوں کو چھپایاجاسکے۔یہی وہ موقع ہے جس پر اقبال کی صداگونجتی ہے:
تمہاری تہذیب اپنے خنجرسے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا
مودی کی حکومت اسی شاخِ نازک پربیٹھ کر خطے کے امن کوداؤپرلگاچکی ہے۔اگرچہ کابل اوردہلی کے روابط میں گرمی آئی ہے،لیکن دونوں اب بھی منافقت بھری احتیاط کے پردے میں چل رہے ہیں۔طالبان جانتے ہیں کہ کھلی شراکت پاکستان کیلئے اشتعال انگیز ہوگی،اوردہلی بھی جانتا ہے کہ طالبان پرمکمل اعتماد ابھی ممکن نہیں۔ چین،روس اورایران کی موجودگی میں افغانستان ایک بارپھرعلاقائی بساط بن چکاہے،جہاں ہرطاقت اپنی چال چل رہی ہے۔انڈیا پیچھے نہیں رہناچاہتا، مگرآگے بڑھنے سے پہلے زمین کی سختی کوپرکھ رہا ہے ۔ یہ تعلقات ابھی امتحان کے مرحلے میں ہیں، جہاں ہر فریق دوسرے کے خدوخال دیکھ رہا ہے۔
قدم قدم پہ نگہبان ہیں مصلحت کے چراغ،
ابھی سفر میں ہے رات، ابھی سحر باقی ہے
آخرمیں یہ کہنابے جا نہ ہوگاکہ مودی آج شکست کے خوف اورانتقام کی آگ میں جل رہا ہے۔کشمیرمیں پسپائی،سفارتی محاذوں پر ناکامی، اور اندرونی شورش نے اس کے اقتدار کو لرزا دیاہے۔اب وہ طالبان کی دوستی کے پردے میں پاکستان پردباؤبڑھانے کی کوشش کررہاہے مگر اس کی سیاسی نفسیات انتقام سے عبارت ہے،امن سے نہیں۔یہی وہ کیفیت ہے جس سے خطہ ایک نئی جنگ کے دہانے پرکھڑا ہے۔پاکستان کیلئے اب لازم ہے کہ وہ صرف دفاعی پالیسی پر نہیں،بلکہ فکری اورسفارتی جوابی حکمتِ عملی پرتوجہ دے۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے جو قوم اپنی پالیسی میں تاخیر کرتی ہے،وہ دوسروں کی پالیسی کاحصہ بن جاتی ہے۔
مودی اپنے اقتدار کے دوام کیلئے خطے کے امن کو قربان کرسکتاہے،مگرامن کی دعاابھی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے جوانصاف پرقائم ہو۔ قرآن کا وعدہ اٹل ہے:ِبیشک اللہ ایمان والوں کی خود حفاظت کرتا ہے۔
آج جب ہم اس تحریری سفرکے اختتام پرکھڑے ہوتے ہیں تومنظرکچھ یوں ہوچکاہے کہ ایک طرف خطے کے قدآورمسائل ہیں سرحدی تنازعات،بے اعتمادی،اقتصادی ضرورتیں اور داخلی سیاسی اضطراباوردوسری طرف سفارتی رویوں کی وہ نئی لہرجوکہ جزوی مفادات کوعارضی وقاردیتی ہے مگردیرپاامن کامعیارنہیں۔نئی دہلی اورکابل کی حالیہ نزدیکی محض دوملکوں کامعاملہ نہیں؛یہ اس بات کاآئینہ دارہے کہ جنوبی ایشیاکے امن واستحکام کادارومدارکس قدرنازک اورناہموارہے۔
تاریخ کی قیمت،ضمیرکی قیمت،اورقوم کی خودداری کے حساب پرمبنی ایک افغان تجزیہ کارکاتلخ شدہ قول یادآرہاہے کہ تم افغانوں کو خریدنہیں سکتے مگراپنے مفادات کیلئے کرایہ پرلے سکتے ہو۔جوزیادہ قیمت لگائے گا،بازی جیت جائے گا۔قوتیں وقتی فائدے کے لالچ میں عوام کی امیدوں کو بیچ دیتی ہیں تونتیجہ خون اوربربادی کے سواکچھ نہیں ہوتااوراگرمفادات پرمبنی یہ تعلقات کسی بڑے تصادم کی راہ ہموارکریں تواس کا خمیازہ صرف دویاتین ریاستوں تک محدود نہیں رہے گا؛یہ پورے خطے کوجھلسادے گا۔ہمیں آج ضرورت ہے حکمتِ عملی کی ایسی خارجہ وداخلی پالیسی کی جوتاثرنہ دے کہ امن صرف مفادات کا سوزش زدہ منافع ہے، بلکہ ایسی حکمتِ عملی جو انصاف،اعتماد، اوردیرپاشراکت داری کی بنیاد رکھے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں بھی ہمیں بارہایہ پیغام ملتاہے کہ عدل وانصاف کی بنیادی ضرورات کے بغیرامن محض کاغذی سرخیاں رہ جاتا ہے۔ اور اقبال کی صداہمیں یاددلاتی ہے کہ خودی کی بلندی وہی قوم حاصل کرتی ہے جوتقدیرکے امتحان میں اصول اورمستقل مزاجی کادامن نہیں چھوڑتی۔
آخر میں،اگرنئی دہلی اورکابل واقعی میں خطے کے مستقبل کوامن کی راہ پرڈالناچاہتے ہیں تو انہیں اس مصلحت کے بازارسے نکل کر اخلاقی اور انسانی فلاح کے بازارمیں قدم رکھناہوگا ۔ورنہ افغانستان وہ کرائے کی کرنسی بن کررہ جائے گا جس کی قدروقت کے ہاتھوں جھٹک دی جائے گی، اور جنوبِ ایشیاپھرایک نئے محاذ پربھڑک اٹھے گاجس کاانجام تاریخ پہلے بھی لکھ چکی ہے۔
یہ تمام بیانیہ جنوبی ایشیا کی اس بدلتی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اب نظریات نہیں،عملیت پسندی بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد بن چکی ہے۔کابل اوردہلی کی قربتیں،اسلام آبادکیلئے تنبیہ ہیں کہ سیاست صرف جذبات نہیں،بلکہ تدبیراورتدبرکانام ہے۔طالبان کیلئے بھی یہ سبق چھپاہے کہ اسلامی دعوے کاوزن صرف اس وقت باقی رہتاہے جب عمل میں صداقت ہو،اورتعلقات میں دیانت۔
ہزاردام سے نکلاہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو، طالع کی آزمائش کا
تاریخ کے اس نازک موڑ پر جنوبی ایشیا کی بساط نئے رنگ لے رہی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تعلقات امن کی راہ کھولیں گے یامفادکے خنجرسے ایک نئی تباہی تراشی جائے گی۔
خدا کرے کہ یہ علاقہ انصاف،حکمت اورصبر کی راہوں کواپنائے تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے ہم خونی تلواروں کی بجائے روٹی، کتاب، اورعلم کی میراث چھوڑکرجائیں۔

یہ بھی پڑھیں