یہ تحریرقصدِتحقیق اورقصدِ بیان کی ایک مشترکہ تلمیح ہے؛جس کامقصدمحض واقعات کا سرسری ذکرنہیں بلکہ ان کے پسِ منظر، معنوی امواج، اورتاریخی صدائیں ضبطِ نثری میں سموکر ایک جامع ادبی تصویر پیش کرناہے۔دوحہ مذاکرات، طالبان رہنماؤں کے بیانات، اور پاکستانی قومی حساسیت کی صداکوایک فکری تناظرمیں کھول کررکھیں گے۔
جب قوموں کی تقدیرکے فیصلے تاریخ کے صحن میں لکھے جاتے ہیں توالفاظ نہیں،عہدبولتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب امت کا ضمیراپنی آزمائشوں سے گزرتاہے اورہر قول ، ہروعدہ ایک امانت بن جاتاہے۔دوحہ کی نشست بھی ایک ایساہی باب تھی جہاں ماضی کے زخم،حال کے سوال اورمستقبل کی امیدایک میزپرجمع ہوئے۔اسلامی اخوت کے پرچم تلے ہونے والی اس گفت وشنیدنے نہ صرف سیاسی حرارت کوجنم دیابلکہ امت کے فکری ارتعاش کوبھی عیاں کیا۔یہ داستان دراصل امتِ مسلمہ کے اتحاد،صداقت اوروعدہ وفاکی آزمائش کاوہ امتحان ہے جس میں تاریخ خودقاضی بن کرکھڑی ہے۔
پاکستان اورافغانستان کے درمیان واقع سرحد،جسے ڈیورنڈلائن کہاجاتاہے،جنوبی ایشیاکی سب سے اہم مگرمتنازع جغرافیائی حدہے۔ اس لائن کاقیام 1893ء میں برطانوی حکومت اور افغانستان کے حکمران امیرعبدالرحمن خان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت عمل میں آیا۔یہ سرحدنہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بلکہ خطے کی سیاست پربھی گہرے اثرات مرتب کرتی آئی ہے۔اس سرحد کی قانونی حیثیت،اس کے اطلاق اوراس کے نتیجے میں بننے والے سیاسی‘نسلی تقسیم کے پسِ منظرپرافغانستان اورپاکستان کے درمیان دیرپاتنازعات رہے ہیں۔تاریخی کاغذات اوربین الاقوامی دستاویزات اس معاہدے کے وجود کو ثابت کرتی ہیں،جبکہ افغانستان کی مختلف حکومتوں نے متعددادوارمیں اس کی قانونی‘ سیاسی حیثیت کوچیلنج کیاہے۔
انیسویں صدی کے اواخرمیں برطانوی ہندوستان اورروسی سلطنت کے درمیان وسطی ایشیا میں اثرورسوخ کی جنگ جاری تھی،جسے تاریخ میں گریٹ گیم کہاجاتاہے۔برطانیہ نے گریٹ گیم کے دوران افغانستان کوروس کے اثرسے دور رکھنے کیلئے ایک بفراسٹیٹ کے طورپراستعمال کیا۔ اس وقت افغانستان کی سرحدیں واضح نہیں تھیں، خاص طورپرمشرقی جانب برطانیہ کیلئے افغانستان ایک بفراسٹیٹ کی حیثیت رکھتاتھاتاکہ روسی پیش قدمی کوجنوبی ایشیاکی طرف روکاجاسکے۔
ڈیورنڈلائن دراصل پاکستان اور افغانستان کے درمیان وہ سرحدہے جو1893 ء میں ایک معاہدے کے تحت قائم کی گئی تھی۔اسی تناظر میں سرمورٹیمرڈیورنڈ،جوبرطانوی خارجہ امور کے سیکرٹری برائے ہندوستان تھے،کابل پہنچے اور امیر عبدالرحمن خان کے ساتھ12 نومبر 1893ء کو ایک معاہدہ طے پایا۔اس معاہدے پرافغانستان کے امیرعبدالرحمن خان اور برطانوی حکومت کے نمائندے سر مورٹیمرڈیورنڈنے دستخط کیے۔اس معاہدے کے مطابق افغانستان اوربرطانوی ہندوستان کے درمیان ایک سرحدمقررکی گئی جوبعد میں ڈیورنڈلائن کہلائی۔ اس سرحدکابنیادی مقصد برطانوی ہندوستان اورافغانستان کے درمیان سیاسی وانتظامی حدودکاتعین کرناتھاتاکہ دونوں حکومتوں کے اثرورسوخ کے علاقوں میں وضاحت پیداہوسکے اورحدودطے کی جاسکیں۔
ڈیورنڈمعاہدہ12نومبر1893ء کوطے پانے والے معاہدے کی نوعیت اوردفعات بالاتفاق یہ طے پائیں:
٭دستاویزات،بشمول برطانوی اور بعدازاں امریکی سرکاری آرکائیوزمیں اس کے متن کاحوالہ موجود ہے۔اس معاہدے کوبعدکی انگوٹھا بندیوں‘ معاہدات نے بطورحوالہ تسلیم کیا۔ معاہدے کے بعدسے یہ لائن تقریبا2,6002,640 کلومیٹر (1,6001,640میل)تک دکھائی جاتی ہے ، روایتی ماخذ اس فاصلے،جغرافیائی حدوداورلمبائی کی حدود کے بارے میں یکساں ہیں۔
٭سرحد (ڈیورنڈلائن)کے دونوں طرف کے علاقوں کی سیاسی اورانتظامی حدودمتعین کی گئیں۔ اس کے تحت افغانستان اوربرطانوی ہندوستان کے درمیان ایک واضح سرحدقائم کی گئی۔ اس سرحد کے مشرقی حصے میں واقع قبائلی علاقے برطانوی عملداری میں شامل کیے گئے۔ افغانستان نے تسلیم کیاکہ خط کے مشرق میں واقع قبائلی علاقے برطانوی عمل داری میں آئیں گے۔
٭معاہدے نے پشتون قبائل کوزمینی طور پرتقسیم کیاقبائلی رابطے سچ مچ معمول کے مطابق رہے مگرطاقت اورسرحدی کنٹرول میں تبدیلی نے معاشرتی اورسیاسی تقسیم کو مستقل نوعیت دی۔ (تاریخی تجزیے اورعلاقائی مطالعات دستیاب ہیں)۔
٭بین الاقوامی شواہدبرصدور کے مطابق راولپنڈی‘ انگلش افغان معاہدات( 1919 اور 1921ء حوالہ جات) میں ڈیورنڈلائن کے وجود کاحو الہ رہا،جوتاریخی طورپراس لائن کے ریکارڈڈ وجودکی تائیدکرتاہے۔
٭معاہدہ کو’’مستقل سرحد‘‘کے طور پر تسلیم کیاگیا۔
٭امیرعبدالرحمن خان کوبرطانیہ کی جانب سے مالی امداداورسیاسی حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی اور اس پرعملدرآمدبھی ہوا۔
ڈیورنڈلائن موجودہ پاکستان کے شمال سے لے کرجنوب تک پھیلی ہوئی ہے اس میں خیبرپختونخوا،قبائلی اضلاع،اوربلوچستان کے کچھ حصے شامل ہیں۔یہ چترال،دیر،باجوڑ،مہمند ،خیبر ، وزیرستان،اوربلوچستان کے کچھ حصوں سے گزرتی ہے۔یہ سرحد34شما لی عرض البلدکے قریب سے گزرکربلوچستان تک جاتی ہے۔
پاکستان کاموقف ہے کہ 1893ء کامعاہدہ ایک ریاستی ڈیورنڈلائن ایک بین الاقوامی طورپرتسلیم شدہ قانوی سرحدہے جودوخودمختار ریاستوں کے درمیان طے پایا،اس لیے 1947 ء کے بعد پاکستان نے برطانوی ہندوستان کے قانونی وارث کی حیثیت سے اس معاہدے کو برقرار رکھا،اس لیے یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق آج بھی نافذالعمل ہے۔مزید برآں،1919ء میں ہونے والے راولپنڈی معاہدے کے ذریعے جب افغانستان نے برطانیہ کے ساتھ امن قائم کیا،تواس نے بالواسطہ طورپرڈیورنڈلائن کی حیثیت کوتسلیم کیا۔
پاکستان نے1947ء میں آزادی حاصل کرنے کے بعدبرطانوی ہندوستان کاقانونی جانشین ہونے کے ناتے اس معاہدے کی ذمہ داریاں اورحقوق اپنے ذمے لیے۔اس بنیاد پرپاکستان کامؤقف ہے کہ یہ سرحدبین الاقوامی سطح پرتسلیم شدہ ہے اورکسی ازسرِنومعاہدے کی ضرورت نہیں۔
(جاری ہے)