(گزشتہ سے پیوستہ)
دوسری طرف افغانستان یہ مؤقف اختیار کرتاہے کہ ڈیورنڈلائن نے پشتون قوم کو دو حصوں میں تقسیم کردیاایک حصہ افغانستان میں اوردوسراپاکستان میں۔یہی تقسیم بعدازاں پشتون قوم پرستی کی بنیادبنی۔اسی وجہ سے پشتون قوم پرست سیاست(جیسے خدائی خدمتگارتحریک یابعد میں بعض افغان حکومتیں)ہمیشہ اس سرحدکومتنازع قراردیتی رہیں۔تاہم،عملی طورپرسرحددونوں ممالک کے درمیان ڈی فیکٹوحدفاصل کے طور پرکام کررہی ہے۔
پاکستان سرحدپرباڑلگاچکاہے تاکہ سیکیورٹی اوراسمگلنگ کے مسائل پر قابو پایاجاسکے۔ طالبان حکومت(2021ء کے بعد)باضابطہ طور پر ڈیورنڈ لائن کوتسلیم نہیں کرتی،لیکن عملی طورپر کئی مقامات پرپاکستانی کنٹرول کوقبول کرتی ہے اور باڑ لگاتے ہوئے بھی طالبان نے اس پرکوئی اعتراض نہیں کیا۔دوسری جانب پاکستان اسے اپنی بین الاقوامی سرحدقراردیتاہے اوراس کے تحفظ کوقومی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھتاہے۔سرحدی جھڑپیں وقتافوقتاہوتی رہتی ہیں،خصوصاچمن اورطورخم کے علاقوں میں،لیکن مجموعی طورپریہ لائن دونوں ممالک کے درمیان حقیقتِ حال کے طورپر قائم ہے۔
ڈیورنڈلائن نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے وسطی ایشیاکے جغرافیائی توازن میں اہم مقام رکھتی ہے۔اس کاتاریخی وجودایک ایسے دورکی یادگارہے جب سامراجی قوتیں اپنی جغرافیائی حدود قائم کررہی تھیں۔ بین الاقوامی قانون،تاریخی شواہداورعملی حقیقت کے مطابق ڈیورنڈلائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستقل بین الاقوامی سرحدکی حیثیت رکھتی ہے لیکن بدقسمتی سے طالبان کی موجودہ رجیم کاپاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ایما پرفتنہ الخوارج اورفتنہ الہندکی سرکوبی کی بجائے انہیں اپنے محسن پاکستان کے خلاف استعمال کرکے بلیک میلنگ کیلئے استعمال کابھانڈہ بیچ بازارمیں پھوٹ گیاہے اورپہلی مرتبہ طالبان نے باقاعدہ پاکستان کے خلاف لشکرکشی کی فاش اور فحش غلطی کرکے خود اپنے اقتدارکے وجودکوشدیدترین زخمی کرلیاہے۔
یادرہے کہ اکتوبر2025ء میں دوطرفہ جھڑپیں شدت اختیارکرگئیں،جن کے بعددوحہ اورترکی کی ثالثی میں فوری سیز فائرپربات چیت ہوئی جہاں اگلے ماہ استنبول میں ہونے والی ملاقات تک جنگ بندی کااعلان کیاگیاہے جس میں پاکستان اوردیگرتمام اسلامی ملکوں کی طرف سے اس مطالبہ کوتسلیم کیاگیاکہ افغانستان اپنی سرزمین کودہشتگردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گایاد رہے کہ اس سے قبل ماسکو فارمیٹ کانفرنس میں بھی خطے کے تمام اہم ممالک کامشترکہ اعلامیہ جاری ہواتھاجس میں افغانستان کو دہشت گردوں کی سہولت کاری کوبندکرنے کاکہاگیاتھااورطالبان کے وزیرخارجہ ملامتقی نے اس کی حامی بھی بھری تھی لیکن بدقسمتی سے اس معاہدہ کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ پاکستان پرچار مختلف علاقوں سے فتنہ الخوارج اورفتنہ ہندنے دہشت گردی کے حملے کئے اور افغانستان سے آئے ہوئے ددہشت گردبھاری مقدار میں اپنی لاشیں اوراسلحہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
اکتوبر2025ء میں دونوں ممالک نے قطر/ ترکی میں ثالثی کے ذریعے عارضی سیز فائر اورفالو اپ مذاکرات طے کیے تاہم نفاذکا انحصارطالبان کی جانب سے افغان سرزمین پرموجود غیر ملکی‘عسکری گروہوں کے کنٹرول پر ہے۔ متعددرپورٹس نے واضح کیاکہ پاکستان کامطالبہ یہی ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگرد تنظیموں’’ٹی ٹی پی‘‘اور’’بی ایل اے‘‘ سمیت دیگرگروپوں کواپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔
تاریخی طورپرڈیورنڈلائن کا وجود دستاویزی طورپرثابت ہے،مگراس کی سیاسی اورسماجی قبولیت متنازع رہی ہے۔موجودہ منظرنامے میں تین چیزیں خاص طورپرخطرناک ہیں:
(1)ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کی افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں۔ (2)طالبان انتظامی یکجہتی کا فقدان اور اندرونی گروہی اختلافات جن میں حقانی نیٹ ورک کا مضبوط اثر شامل ہے؛اور (3)سیزفائریامعاہدات کا ناقص نفاذجوکشیدگی کونئے مراحل میں داخل کرسکتا ہے۔ان عوامل کے امتزاج سے خطے میں تشدد، بین الاقوامی مداخلت اوربڑے پیمانے پرانسانی وسیاسی نقصان کاخطرہ درمیانہ تازیادہ درجے تک بڑھ جاتاہے۔
دوحہ کی محفل نے ابتدامیں پندرہ گھنٹے کا صبرآزماتحفہ پیش کیا،ایک طویل انتظارجس میں ہر شخص کاحوصلہ اورہرمؤقف کی فضاآزمائش میں مبتلا رہی۔میزبان قطرنے روایتی سفارتی مہارت سے دونوں وفودکوالگ الگ سمجھایا،اس انتظارکے بعدجب براہِ راست مکالمہ شروع ہواتو محسوس ہواکہ الفاظ کے بیچ میں ایک نئی شفافیت کی بجائے شقاوت نے جنم لے لیاہے۔ملاعمرکے فرزند ملایعقوب نے ابتدامیں بلندلہجہ اختیارکیا؛ایسی آوازجو بسا اوقات درخت کی شاخ کی طرح زورلگاتی ہے مگر جڑیں کمزور ہوں توجھٹکے میں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ پاکستان پردبائو ڈالنے کی دھمکی کاانداز،جواس امید پرمبنی تھاکہ خوف سے پالیسی بدل جائے گی، بطورِحربہ ناکارہ ثابت ہواپاکستانی وفدنے خاموش وقارسے یہ پیغام دیا:ہم واپس لوٹ سکتے ہیں،آپ دوسراراستہ اپنالیجیے۔ یہ مؤقف دراصل ایک ایسے اخلاقی اورعملی توازن کی عکاسی کرتاہے جس نے ملاؤں کے جغرافئے کے نیچے سے زمین کھینچ دی۔
طالبان نے معاملات کواپنے ہاتھ سے رخصت ہوتے دیکھاتوفوری طورپرملائشیاکے وزیراعظم کومددکیلئے پکارلیا۔کبھی کبھار مذاکرات میں تیسرے فریق کو لانا بھی مفیدہوتاہے؛ ملائیشیاکے وزیراعظم کودرمیان لانے کی کوشش اسی شِق پرمبنی تھی۔ان کی خواہش تھی کہ معاملہ جنگ بندی اورافغان ٹرانزٹ کی بحالی تک محدود رکھاجائے،اورپیچیدہ سوالات مثلاً ٹی ٹی پی یا سرحدی دراندازی کوپاکستان کااندرونی معاملہ قرار دے کرمعاملے سے نکالاجائے۔یہ وہ لمحہ تھا جب مذاکرات ایک حد بندی کی جانب دھکیلے گئے مگر یہ حدود اسی وقت ناقابلِ قبول کہہ کررد کر دیئے گئے کہ یہ اندرونی مسائل سے فرار،کوئی حل نہیں۔
شہبازشریف اورپاکستانی وفدنے یکسوئی سے اس دلیل پراصرارکیاکہ جنگ کی ابتداٹی ٹی پی اوربی ایل اے کی دراندازی سے ہوئی، اورجب تک یہ بنیادی سبب رفعِ دفع نہ ہوں، جنگ بندی کاموضوع قابلِ غورنہیں۔یہ مؤقف صرف ایک سفارتی دعویٰ نہیں بلکہ سرحدی حقِ خودداری اور قومی سکیورٹی کے ایک ضابطے کاعملی اظہارتھاجس کو میزبان سمیت میزپر سرجوڑکربیٹھے ہوئے دیگر تمام دوستوں نے جائزقراردے دیا ۔(جاری ہے)