Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

زخم، امید اور امن کی راہیں

یہ تحریرکوئی محض سرخیوں کامجموعہ نہیں؛یہ ان زخمیدہ داستانوں کاموجزن عکس ہے جوسرِنوشتِ دوہمسایہ اقوام کی رگِ جاں میں ابھرکربولیںبلکہ دوہمسایہ اقوام کی تاریخ،قربانیوں،اور آزمائشوں کاعمیق عکس ہے۔تاریخِ معاصرنے دونوں اطراف کے دِلوں میں مہمان نوازی اورشبِ ہجرت کے کریم لمحات ثبت کیے ہیں،اورساتھ ہی ایسے تلخ حادثات بھی رقم کئے ہیں جوسالِ تاریخ کی زنجیروں میں دہراتے گئے۔ کبھی مہمان نوازی کے رشتے قائم ہوئے،کبھی سرحدوں پرتلخیاں ابھریں، اوربعض اوقات بیرونی سازشوں نے بھی دلوں کوزخمی کیا۔اسلام نے ہمیں بھائی چارے، عفوو درگزر،اورانصاف کادرس دیا؛یہی بنیادی شریعتِ انسانی ہمیں اس عہدِامن کی طرف بلاتی ہے۔ عدل،اورانصاف کایہی درس آجپاک افغان مذاکرات کی اہمیت کواجاگر کرتا ہے۔
ہم اس تحریرمیں امن کا پرچم اٹھاکرکہتے ہیں جوقومیں کل تک ایک دوسرے کے گھرکی چھت تلے انسانی ہمدردی کاخراج اداکیاکرتی تھیں،آج جذباتِ زخمیدہ میں جب کوئی بیان بلندہوتاہے تواس کاصلہ تشددبن کرسامنے آتاہے تویہ دنیاکے لئے شرمندگی بھی ہے اورہمارے لئے عبرت بھی۔تاریخی زاویہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیاکی پیچیدہ داستان میں ذاتی قربانیوں اور ملی آزمائشوں کے ساتھ ساتھ بیرونی اثرات اورعلاقائی سیاست نے بھی دلوں کوکھرچ ڈالا۔اسلامی تقاضہ یہ ہے کہ جب خون بہاہو،رنج وغم موجودہوں،توفاتحہ ودعاکے ساتھ انصاف کی راہیں تلاش کی جائیں‘نہ کہ انتقام کے احکامات کوعظمت سمجھاجائے۔اسی لئے یہ جلسہ کلام اور مذاکراتی عمل ایک موقع ہیزبانِ حکمت،قانونِ بین الاقوامی،اورشریعتِ انسانی کے امتزاج سے وہ راستے تلاش کیے جائیں جوخون ریزی کونہ صرف روکیں بلکہ اعتماد سازی کازینہ بھی بنیں۔
یہ وقتِ فکری اوراخلاقی امتحان ہے۔جہاں ایک طرف دونوں ممالک کی افواج اورپولیس نے قربانی دی،وہاں ہمیں یادرکھنا ہے کہ خلوص، صبر اورامن کے اصولوں کی پاسداری نہایت ضروری ہے۔دشمنی کے زخم گہرے ہیں،مگر قرآن وسنت کی روشنی میں مذاکرات کوامن، انصاف،اورانسانی ہمدردی کے محورپرآگے بڑھانا ممکن ہے۔اسلام نے ہمیشہ خونریزی،انتقام اور پراکسی وارکی مخالفت کی،اورامن،بھائی چارہ،اور صبرکی تلقین کی۔قرآن کریم میں ارشادہے اوران کے ساتھ حسن سلوک کرواورامن قائم کرو۔( النسا:125)
ایک رپورٹ کے مطابق،پاکستان اور افغانستان نے دوحہ میں مذاکرات کے بعدفوری سیزفائر پر اتفاق کیاہے،جواس سے پہلے ہفتے بھرشدیدسرحدی جھڑپوں کے بعدہوا،جو دونوں ممالک کے درمیان2021ء کے بعدسب سے بدترین تصادم تھے۔ اب استنبول میں ان زخموں پر مرہم رکھنے کی کوششوں میں میزبان بھی شامل ہوگئے ہیں۔
پاکستانی فوج نے مطالبہ کیاکہ افغان سرزمین پرکارروائی کرنے والے عسکریت پسندوں کوکابل قابو کرے۔ اس ضمن میں عسکری اورپولیس اہلکاروں کی ہلاکتیں اورزخمی ہوناسامنے آیا ۔اس صورت حال میں’’ہماری افواج اورپولیس اپنی جانیں قربان کررہی ہیں؛ہم چین سے سوتے ہیں کیونکہ آپ کے محافظ جاگ رہے ہوتے ہیں‘‘ والا تصورایک دفاعی ماحول کی تمثیل بن جاتاہے،جہاں جانوں کی قربانی سلامتی کاحصہ شمارکی جاتی ہے۔یہ فقرہ احساسِ ذمہ داری اورسرحدی سلامتی کے جذبات کا صوتی عکس ہے۔اس بیان کودوجہات سے سمجھناضروری ہے۔ایک وہ مملکت کااندرونی ہیروِخیال،جواپنی حفاظت کے لئے اپنی جان وقف کردیتاہے؛دوسراوہ عوامی عمل،جو سرحدی تناؤمیں ریاست کے دفاعی اقدامات کوجائز قراردیتے ہوئے اپنی سب سے قیمتی متاع اپنی زندگی قربان کردیتے ہیں۔
عسکری اورپولیس اہلکاروں کی شہادت اور قربانی کاحوالہ محض جملوں کانہیںیہ حالیہ واقعات کی بربادی اورفریقین کے درمیان جھڑپوں کانتیجہ ہے، جنہوں نے تشویش کوبڑھایا۔بین الاقوامی اورمقامی خبریں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ حالیہ سرحدی کشمکش میں مرنے والے اورزخمی ہوئے افرادہوئے ہیں اورمذاکراتِ سلامتی(دوحہ اور بعدازاں استنبول) اسی پس منظرمیں ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کی ایک دستاویزکے مطابق دسمبر2024ء کے وقت پاکستان میں افغان باشندگان کی تعداد28ملین سے زائدتھی۔نیز جنوری 2025ء تک اس میں رجسٹرڈ مہاجرین اورریفیوجی جیسا درجے میں افغان باشندگان شامل تھے،جن کی تعدادتقریبا3 ملین تھی۔گویاپاکستان کایہ بیانیہ کہ اس وقت 40لاکھ یااس سے کم افغان پاکستان میں موجود ہیں حالانکہ دقیق تعدادمختلف ہے۔یہاں مہمان نوازی کی طویل مدت (چاردہائیاں) کاحوالہ بھی دستاویزمیں موجودہے کہ پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کے لئے طویل عرصے سے میزبانی فراہم کی ہے۔
پاکستان کایہ دکھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سردجنگ،سوویت یلغار،بین الاقوامی بحران،اور حالیہ دہائیوں کے نتائج کے طورپرلاکھوں افغان پاکستان میں آئے’’ہم نے افغانستان کے لوگوں کی40برس مہمان نوازی کی40لاکھ یا اس سے کچھ کم افغان یہاں بیٹھے ہیںان کی تین چارنسلیں یہاں جوان ہوئیںجن لوگوں سے ہم دوحہ میں بات کررہے تھے،وہ سارے پاکستان میں ہی جوان ہوئے ہیں‘‘۔یہ بیان حقائق کی سمت تاریخی یاددہانی اوراخلاقی الزامات کاامتزاج ہے کہ پاکستان نے طویل عرصہ تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی اعدادوشمارکاحوالہ دینااس لئے ضروری ہے کہ پاکستان جیسے ملک کی ایسی قربانی تاریخ میں کہیں بھی میسر نہیں۔اس کلام میں دوتہذیبی نکات پوشیدہ ہیںاول‘ مہمان نوازی کا تاریخی قرضہ،دوم: وہ اقتصادی وسماجی دباؤجس سے میزبان قوم محسوس کرتی ہے کہ وسائل اور سلامتی پچھلے تناسب کے تحت متاثرہورہی ہے۔بیانیہ میں یہ بھی شکوہ ہے کہ جن لوگوں کی مہمان نوازی کی گئی،وہی بعض جگہوں پرخلافِ سلامتی سرگرمیوں کامحورٹھہرے اورجس کے بارہاشواہد افغان طالبان حکومت کوبھی فراہم کئے گئے، طالبان کاان تمام احسانات کو یکسرمستردکردینے کی پالیسی اس الزام کی سختی وجہِ بحث اورمذاکرات کاباعث بنی۔
ان حالات میں پاکستانی قوم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتاکہ جس قوم نے آپ کی اتنی مہمان نوازی کی ہو،آپ اس کے خلاف دہشتگردی کوسپورٹ کیوں کررہے ہیں اوروہ بھی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی پراکسی کے طورپراستعمال ہو رہے ہیں۔وہ بھارت جوحال ہی میں پاکستان کے ہاتھوں بری طرح ہزیمت کاشکار ہو کر اقوام عالم میں اپنا چہرہ چھپارہا ہے،وہ اب افغان طالبان کوبدلہ کے لئے اپنے پراکسی کے طورپراستعمال کررہاہے۔
یہ سوال اخلاقی اورنفسیاتی دونوں سطحوں پرکھڑاہے،مہمان نوازی کاتصورایک تہذیبی فرض ہے اور اسی تہذیب کے اندر قدیم احسان کااوربطورمسلمان قرآنی نصوص کے مطابق اس بات کامتقاضی ہوتاہے کہ احسان کابدلہ ماسوائے احسان کے اورکچھ نہیں ہوتا مگربین الاقوامی سیاست میں احسان اورجغرافیہ کے بیچ پیچیدہ مفادات ہلتے رہتے ہیں۔حقائق کی روشنی میں پاکستانی قیادت نے بارہاکہاکہ افغان سرزمین سے عسکری کارروائیاں پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کامنبع ہیں؛کابل نے تردیدکی یاوضاحتیں پیش کیں۔یہی تنازع مذاکرات کی بنیادرہا۔اس نکتے کومحض اخلاقی سوال کہہ دینا آسان ہے،مگرعملی دنیامیں یہ الزام جنگ اورامن کی کسوٹی بن چکاہے جس کی لپیٹ میں سیاسی بیانات اورفوجی کاروائیاں جاری ہیں۔
حالیہ وقفے میں دوحہ میں طے پائے ہوئے سیز فائرکے بعد(اوسطاً)چندروزتک بڑے واقعات کی اطلاعات کم تھیں،اوروزیر دفاع نے بھی چارپانچ روزکے سکوت کی طرف اشارہ کیا؛ مگر ساتھ ہی انہوں نے مذاکرات ناکام رہنے کی صورت میں کھلی جنگ کاراستہ کھلارہنے کی دھمکی دی ہے۔کیاہی بہترہوتا اگراخوت اسلامی کانعرہ کلامی استعارہ نہ رہے بلکہ اس کے لئے معاشی شفافیت ، روزگارکے مواقع میں مساوات اور سرحدی تجارتی معاہدوں کی اہمیت پرزور دے کر یہ سمجھایاجائے کہ امن کے لفظی معاہدے جذباتی سطح پردیرپانہیں رہتے،ان کے لئے صدقِ دل سے دوطرفہ عملدرآمدضروری ہے جبکہ افغانستان یہ بھی جانتاہے کہ وہ ایک لینڈلاک ملک ہے اوراس کامعاشی، معاشرتی،اخلاقی اوراقتصادی دارومدار پاکستانی سرزمین سے جڑاہواہے۔ ان حالات میں بھارت کی پراکسی بن کرپاکستان پر دباؤ ڈالنے کی بلیک میلنگ پالیسی کن خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں