(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان اورافغانستان کے مابین شدیدسرحدی جھڑپوں کے بعد،ایک فوری سیزفائرکامعاہدہ دوحہ قطرمیں طے پایا۔اس کے فوراًبعد،فریقین نے استنبول میں دوسرادورشروع کرنے کافیصلہ کیاتاکہ معاہدے کے نفاذکاطریقہ کار،نگرانی کانظام،اور دیرپاامن کاڈھانچہ وضع کیاجائے۔ترک میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس کامقصدصرف مذاکراتی نشست نہیں بلکہ عملی امن کاآغازتھاجہاں نمٹنے کے لئے تین مرکزی پوائنٹس پرگفتگوکی گئی۔پاکستان اورافغانستان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں سیزفائراوردونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کی سرحدوں کے احترام کی بات طے پائی تھی۔ تاہم ابھی تک کسی ٹھوس معاہدہ کی خبر نہیں۔یہ ثالثی اس امرکی نشاندہی کرتی کہ فریقین امن کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔باضابطہ اعلامیہ جات اورثالث ممالک(قطر،ترکی)کے بیانات نے اسی کی تائیدکی البتہ،ان اعلانات کاعملی نفاذنگرانی اور اعتمادسازی کے مرحلوں پرمنحصرتھا،اسی لئے استنبول میں مزید تفصیلی میکانزمزکی بات ہوئی۔مذاکرات کی دستاویزات کے مطابق درج ذیل تین بڑے نکات زیرِگفتگو ہیں۔کڑی نگرانی اورعملدرآمدکا میکانزم:یعنی ایک مشترکہ مانیٹرنگ نظام قائم کرنا،جوسرحدپارسے آنے والے دہشت گردوں،عسکری عناصرکی نقل وحرکت پر نظررکھے۔
قومی وبین الاقوامی سرحدی احترام:ایک ملک دوسرے کی سرزمین یاخودساختہ عسکری سرگرمیوں کا میدان نہ بنے، اوربین الاقوامی معاہدات وسرحدی حدودکالحاظ کیاجائے۔معاشی،پناہ گزینی اورتجارتی امور:مذاکرات اس جانب بھی گئے کہ مہاجرین،روزگاراورسرحدی تجارت کے مسائل امن کے پس منظر میں زیرِغورآئیں۔
مثبت سمت کی طرف بڑھنے کے لئے اہم نتائج اورممکنات کے حصول کے لئے کوشش ہورہی ہے کہ مانیٹرنگ میکانزم قائم ہو جائے،عسکری عناصرکی سرحد پار نقل وحرکت رکے،اوردونوں ممالک قانون منظم اندازمیں سرحدی احترام کریں توامن کا پہلومضبوط ہوسکتا ہے۔ اگرخدانخواستہ مذاکرات ناکام رہیں یامیکانزم قابلِ عمل نہ بن سکے،توپاکستانی دفاعی حکام نے کھلی جنگ کاامکان ظاہر کیاہے۔جس سے فوری طورپرشدیدترین جاری اقتصادی نقصانات اورخطرات کاامکان بڑھ جائے گا۔ پہلے ہی گزشتہ چنددنوں سے سرحدی بندش اور تجارت کی رکاوٹ سے دونوں جانب اثرات سامنے آرہے ہیں۔
اس وقت دونوں ممالک میں بھروسے کافقدان موجودہے۔مرخانہ تناظرمیں،دونوں فریقین ایک دوسرے پردعوے کرتے رہے ہیں کہ دوسرے نے پہلے قدم اٹھایاجبکہ دوحہ اور استنبول میں پاکستان نے مضبوط شواہدکے ساتھ اپنامقدمہ پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کردیاکہ بارہاطالبان حکومت کوافغان سرزمین اورافغان باشندوں کی دہشت گردی کے ثبوت فراہم کئے گئے لیکن طالبان نے اس پرکوئی کاروائی نہیں کی۔مہاجراورپناہ گزین امورکے الجھاؤسمیت معاشی،سماجی اورانسانی حقوق کے مسائل مذاکرات میں بیک گرائونڈکاحصہ ہیں صرف عسکری سطح پربات نہیں ہو رہی بلکہ مہاجرین، روز گاراورسماجی انضمام پربھی نظریں ہیں۔دوحہ اوراستنبول کا سلسلہ ثالثی کے تحت چل رہا ہے، جواس بات کی واضح نشاندہی کرتاہے کہ علاقائی تصادم کاحل طویل گفت وشنیداورنگرانی پر منحصرہے،محض ایک سہ فریقی معاہدہ نہیں۔یادرہے کہ دوحہ میں پاک افغان امن مذاکرات میں تمام تفصیلات طے ہونے کے بعدہی دوسرے دورکو استنبول میں منعقد کرنے کافیصلہ کیاگیاتھا۔ دوحہ میں طے پائے جانے والے معاہدے (19اکتوبر2025) کے بعد،باہمی رضامندی کے تحت فریقین نے استنبول میں دوسرا دورمنعقدکیاتاکہ معاہدے کے عملی پہلوؤں ،نگرانی کے طریقہ کار اور دیرپا تقاضوں پربات چیت کی جاسکے۔یہ مذاکرات ترکی کی میزبانی میں ہوئے اوردونوں طرف کے اعلیٰ دفاعی وسیاسی نمائندے شریک ہوئے۔ ایجنڈا(کلیدی نکات) مختصرفہرست‘سیزفائرکی نگرانی اورفوری رپورٹنگ میکانزم کاقیام۔ سرحدی احترام اورڈیوٹی بانڈریزکے احترامی ضوابط؛عبوری طورپرسرحدی گشت اورمعلوماتی تبادلے کانظام۔ عسکری ونیم عسکری عناصرکی نقل وحرکت روکنے کے اقدامات؛مشترکہ نگرانی یاتفتیشی میکانزم کاخاکہ۔ مہاجرین،نقلِ مکانی،اورگھریلواقتصادی اثرات کا نرم گوشوارہ،اس پرفریقین اور بین الاقوامی اداروں کاتعاون طے کرنے کے اقدامات۔ ثالثی کرنے والی ریاستوں(قطر،ترکی)کی طرف سے نگرانی اورفالواپ کاطریقِ کار۔ مذاکرات کافنی ڈھانچہ(عملی پہلو)فوراً نافذکی جانے والی سیزفائرکی رپورٹنگ کے بعدلاگوہونے کے بعددونوں اطراف کے پاس روزانہ‘چندروزہ بنیادوں پر واقعہ نگاری کی سہولت رکھی گئی،اورکسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ثالثی والوں کوفوراآگاہ کرنے کاطریقہ مقرر کیاگیا۔
مذاکرات کے ممکنہ نتائج اور خطرات کے مثبت امکان کے لئے ضروری ہے کہ اگر نگرانی میکانزم بخوبی چلے اور عسکری‘نفی رضامندی برقرار رہے توخطے میں سیزفائردیرپابن سکتا ہے ،اورسرحدی تجارت،نقل وحمل اورانسانی رواداری کوسہارامل سکتاہے اور مذاکرات ناکام ہوئے یاعملدرآمدنہ ہوا،تووزیرِدفاع کی بلندہوتی ہوئی دھمکیوں اورفوجی کارروائیوں کا خطرہ حقیقی طور پر موجود ہے بعض بیانات میںکھلی جنگ تک کاذکرآیا ہے، جس نے تشویش بڑھادی ہے۔
ثالثوں کاکرداراوربین الاقوامی فریم ورک میں قطراورترکی نے ثالثی کی کوششیں کیں اوراس میں علاقائی وبین الاقوامی استحکام کاخدشہ شامل رہا۔ان ثالثوں نے عارضی سیز فائر کوممکن بنایااورمذاکرات کی میز قائم رکھی۔ثالثی کاتسلسل اس امر کی دلیل ہے کہ فریقین نے براہِ راست یکسرتصادم سے بچتے ہوئے سفارتی راستہ اختیارکیا۔
یہ دورِگفت وشنید ایک ایسی کشمکش کاعکس ہے جس میں تاریخ نے مہمان نوازی کے حق میں ایک امن کاراستہ دکھایا، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان حکومت نے دوحہ میں معاہدہ کیاکہ وہ دشمنانہ کارروائی نہیں کریں گے،نہ ایک دوسرے کی سرزمین استعمال کریں گے،اورنہ ہی ایک دوسرے کے سکیورٹی اداروں یاانفراسٹرکچرپرحملہ کریں گے۔یعنی سیزفائراورسرحدی احترام دونوں کومعاہدے کاحصہ بنایاگیا،جوپہلی مرتبہ اس سطح پرباہمی اقرارکی صورت اختیارکررہاہے۔ مذاکرات ہمیں یہ سبق بھی دیتے ہیں کہ اگرچہ تلخیاں اورزخم گہرے ہوں، مگرصدقِ دل سے اخلاص کی جڑیں دوبارہ کاشت کرنے کی ضرورت ہے۔مبینہ دعوے اورالزامات صرف تاریخی اور تنقیدی جائزہ کے طورپردیکھے جائیں،نہ کہ بنیادِعمل۔ امن، بھائی چارہ اورانسانی ہمدردی کاتقاضہ یہی ہے کہ سرحدی جھڑپوں کوختم کرنے کے لئے گفتگوکوجاری رکھیں۔ مذاکرات میں شفافیت اوربین الاقوامی نگرانی کے اصول اپنائیں۔ ماضی کے احسان اوررنج دونوں کااعتراف کریں اوراسلام کے امن پسند اصولوں کی روشنی میں آگے بڑھیں۔
اسلام ہمیں امن اورصبرکی تلقین کرتا ہے‘ حضورِ اقدسﷺکی سنتِ حسنہ یہی ہے کہ انسانیت کی بقاء میں بھائی چارہ اورعفوکا کیامقام ہے۔یہی مذہبی اوراخلاقی تقاضاہمیں یہ حکم دیتا ہے کہ سرِدست مذاکرات کوایک مقدس فریضہ سمجھیں اورنفرت کی آگ کوبجھانے میں لبِ عمل آئیں۔اگرآج ہم امن کوسچ میں چاہیں توہمیں ماضی کے احسان اوررنج دونوںکا اعتراف کرتے ہوئے،قرآنِ عظیم اورسنتِ طیبہ کی روشنی میں امن کے ایسے اصول وضع کرنا ہوں گے جن سے دونوں قومیں زندگی کے مشترکہ بوجھ کوبانٹ سکیں۔
تاریخ کے آئینے میں وہی قومیں تابناک رہیں گی جنہوں نے خنجرکی بجائے دلوں کونرم کیا؛اوریہی ہمارا فریضہ ہے کہ ہم گفتگو کوآخرتک زندہ رکھیں، تلواروں کو مٹاتے ہوئے امن کی فصل اگائیں، اورنقائص کی اصلاح کے لئے قانون اورشفاف طریق کارکو اپنائیں۔ تاریخ کے آئینے میں وہی قوم عظیم کہلائے گی جوتلوارکی بجائے دلوں کونرم کرے،اورنقائص کی اصلاح کے لئے قانون اورشفافیت کواپنائے۔یہی ہمارافریضہ اوراسلامی تقاضاہے۔