Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

اسلامی معاشرہ اور فحاشی کا بڑھتا ہوا فتنہ

اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے لئے عزت، حیا ء اور تقوی کو زینت قرار دیا۔ لیکن افسوس!آج کا مسلمان معاشرہ اس زینت کو بھلا بیٹھا ہے۔ فحاشی و عریانی کا سیلاب ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں اور بازاروں میں در آیا ہے۔ حیا ء جو ایمان کا حصہ تھی، وہ اجنبیت اختیار کر چکی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود احتسابی کریں آخر وہ کون سے اسباب ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرتی وقار اور دینی تشخص کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے؟ اگر ہم نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو خدانخواستہ وہ دن دور نہیں جب ہماری تہذیب و ثقافت مغربی تباہی کی عکاس بن جائے گی۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان کے کوچہ و بازار فحاشی وعریانی کے سیلاب میں گھر چکے ہوں،صرف کوچہ و بازار ہی نہیں،بلکہ سکول ،کالجز اور یونیورسٹیاں بھی،اللہ پاک بحیثیت قوم ہم سب کو فحاشی وعریانی کے اس سیلاب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین،اللہ تبارک و تعالیٰ جہاں عدل و انصاف اور صلہ رحمی کا حکم فر ماتا ہے۔ وہاں ظلم و زیادتی اور بے حیائی کے کاموں سے منع فرماتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی اور بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو(النحل،90)ہر قبیح خصلت جس کی برائی عقلی اور قانونی طور پر خراب ہو جس سے اللہ تعالیٰ منع فرمائے وہ فاحشہ یا فحشا کہلاتی ہے، اس لئے ان اعمال سے بھی روکا گیا ہے ایسے لباس کے استعمال سے بھی منع کیا گیا ہے جو جسم کی نمائش کرے ،کیونکہ اس سے جنسی اشتعال پیدا ہوتا ہے جو برائی کی طرف دھکیلتا ہے۔ فحاشی، عریانی، جنسی اشتعال انگیزی اورجرائم کی ہر خلاف ورزی برائی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔فحاشی کو فروغ دینے والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے،یہی وجہ ہے کہ اس وقت امت مسلمہ اور بالخصوص مسلمانان پاکستان جس طرح کے مسائل سے دوچار ہیں وہ پوری دنیا جانتی ہے
وطن عزیز میں قتل و غارت گری، لوٹ مار، کرپشن، مہنگائی، سیلاب، طوفان، بے پردگی،بے حیائی، ہمارے لئے پریشان کن ہے اگر کوئی قوم بے حیائی میں مبتلا ہو کر کھلم کھلا اس کا ارتکاب کرنے لگے تو اس قوم میں طاعون اور وہ بیماریاں پھیل جاتی ہیں، جن کا نام ماضی میں نہ سنا گیا ہوں(سنن ابن ماجہ) آج ہم دیکھتے ہیں کہ جب معاشرے میں حیا ء ناپید ہوتی جا رہی ہے اور بے حیائی کا سیلاب ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتا تو کیسے کیسے اخلاقی جرائم سر اٹھا رہے ہیں، اپنوں اور غیروں کا فرق تک ختم ہوگیا ہے۔ بے حیائی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ الامان و الحفیظ ، آخر یہ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟ کوئی اس معاشرے کو دیکھ کر نہیں کہہ سکتا کہ ایک اسلامی ملک ہے کیونکہ اس کا حال بھی مغرب سے کچھ کم نہیں ، جس تباہی کے دہانے پر آج مغربی دنیا پہنچ چکی ہے اس بے حیائی کے سبب اسی تباہی کے دہانے پر آج پاکستان پہنچ چکا ہے،فتنوں پے فتنے سر اٹھا رہے ہیں،مزید کس فتنے کا انتظار ہے؟ روشن خیالی کے نام پر تاریکیاں مسلط کی جا رہی ہیں، بے حیائی ایک سیلاب کی صورت میں چھا گئی ہے، کسی شادی پر جا کے عوام الناس کی حیا کی صورت دیکھ لیں لباس کے نام پر بے لباسی عیاں ہے، تعلیم کے نام پر کیا پڑھایا جا رہا ہے اور مخلوط تعلیم لازم،یہ سب اس بڑھتی بے حیائی کا نتیجہ ہے، اگر اب بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے اور فحاشی و عریانی فروغ کو نہ روکا گیا اس کی مذمت نہیں کی گئی تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستانی معاشرہ تباہی کے گڑھے میں گر جائے گا اور شائد پھر کبھی نہ اٹھ سکے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اور بے شرمی کی باتوں کے قریب ہی نہ جائو وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوئی ہوں (الانعام151)
ارشاد باری تعالیٰ ہے اے لوگو!جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقش قدم پر نہ چلواس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا (النور21) حدیث میں ارشاد ہے جب تم میں حیاء نہ رہے تو جو جی چاہے کرو(سنن ابو دائود) اس سلسلے میں صاحب اقتدار لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ بد کاری کے اڈے ختم کریں۔بداخلاقی کی ترغیب دینے والے قصے، اشعار، گانے، تصویریں، کلب، ہوٹل اور تفریح گاہیں جن میں مخلوط میل جول اور رقص و سرور کی محفلیں جمتی ہیں کی اشاعت فحش کے تمام ذرائع کا سدباب کرے اور ان جرائم پر باقاعدہ سزا دی جائے بے راہ روی کی ایک وجہ بے پردگی بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے پردہ کو ترقی کی راہ میں رکاٹ سمجھ کر اس کوبالکل ختم کر دیا ہے جبکہ حضور اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق پردے کی سختی سے تلقین فرمائی ہے۔محرم اور نا محرم کا امتیاز پیدا کر کے قوانین و ضوابط ارشاد فر مائے ہیں تاکہ ممکنہ برائی کو پھیلنے ہی نہ دیا جائے، جو آگے چل کر اسلامی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔اس سلسلہ میں ازواج مطہرات کو بھی گھروں سے نکلنے کی ممانعت کر دی گئی تھی۔بدقسمتی سے فیشن پرستی اور دوسروں کی نقالی میں آج کل مسلمان بہت آگے نکلنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں، اس سے ایک طرف تو اسلامی اقدار مجروح ہوتی ہیں تو دوسری طرف معاشرے میں بگاڑ کے یہی لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں، حضورﷺ نے فرمایا ہے لعنت ہے ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں،حقیقت میں جہاں ہر شخص معاشرے کی اصلاح یا بگاڑ کا خود ذمہ دار ہوتا ہے وہاں معاشرے کو سدھارنے کی ذمہ داری حکام پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے قوانین پر عمل درآمد کریں اور لوگوں کو کرائیں جن سے معاشرہ بگاڑ کی طرف آگے بڑھنے کے بجائے اصلاحی پہلو نکل سکے۔ نبی کریمﷺ نے زندگی بسر کرنے کا اسلوب لوگوں کو عملی طور پر سکھائے مسلمانوں کو بیکار ، فضول کاموں،گفتگو،کھیل تماشے کو وقت کی بر بادی گناہ کا ارتکاب فرمایااور ان سے منع فرما کر اپنی صلاحیتوں کو بامعنی اور تعمیری کاموں میں صرف کرنے پر زور دیا اور اس کی اصلاح اپنے گھر سے شروع کرنے کی تلقین فر مائی۔
آج معاشرہ بدامنی،بے چینی، کے دور سے گزر رہا ہے۔قتل و غارت گری، دہشت گردی، ڈاکے، رہزنی،نسل کشی،زنا،شراب نوشی اور قمار بازی کا بازار گرم ہے۔شرعی احکام کی پابندی کے بجائے ان سے مذاق کیاجا رہا ہے اور نفرت پیدا کی جارہی ہے۔ایسے میں اس کی اصلاح کے لئے اسلامی احکامات کو بحیثیت نظام زندگی غالب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جو ایک صالح قیادت ہی کر سکتی ہے ۔مسلمانوں کو دنیاوی عروج اسی کے ذریعے حاصل ہوا اور آئندہ بھی اسی کے سہارے زندہ رہنا ممکن ہو سکتا ہے جو قومیں اچھے اوصاف کو اپناتی ہیں ان کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دبا سکتی کیونکہ ملک اور وطن کی صحیح خدمت بھی دین ہی کے ذریعے ہو سکتی ہے محفوظ رکھے، آمین

یہ بھی پڑھیں