Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

ابراہیم معاہدہ ، پاک افغان مناقشے کی اصل بنیاد

بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز نے عالمِ اسلام کے سیاسی و فکری نظم پر ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ اس کے بنیادی نقشے ہی تبدیل کر کے رکھ دیئے۔ امتِ مسلمہ، جو کبھی ایک ہی اشتراک عمل یعنی وحدت امہ کی ہر سازش کے خلاف مزاحمت کا محور و مرکز تھی لخت لخت ہوکر فقط سیاسی و معاشی مفادات کے کی خاطر اپنے نظریاتی تشخص سے دست کش ہوتی چلی گئی ۔
تغیر و تبدل کے اس پس منظر میں 2020 ء میں ’’ابراہیم معاہدہ‘‘ سامنے آیا جس کے تحت چار اسلامی ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا۔امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والا یہ معاہدہ بظاہر امن و تعاون کی دستاویز تھا، مگر حقیقت میں فلسطینی جدوجہد کی اساس، عرب وحدت کی علامت، اور اسلامی دنیا کے نظریاتی رشتے کو پارہ پارہ کرنے کا سبب بنا۔
نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقدس نام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اسے ایک تہذیبی اشتراک کا استعارہ بنا دیا گیا، حالانکہ یہ معاہدہ صلح نہیں بلکہ دبا اور مفاد کے سودے کی حیثیت رکھتا تھا ۔اسلامی نقطہ نظر سے یہ سوال انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ کیا کوئی معاہدہ، خواہ وہ سیاسی امن کے نام پر ہو، اس وقت بھی جائز ہو سکتا ہے جب وہ ظالم کو قوت اور مظلوم کو کمزوری میں مبتلا کرے؟ کیا بیت المقدس کی ارضِ مقدس کو استعمار کے قبضے میں رہنے دینا امن کہلا سکتا ہے؟ اور کیا ابراہیمی مذاہب کی وحدت کے مغربی تصور کے ذریعے اسلامی عقیدہ توحید اور ختمِ نبوت کی روح کو دھندلانا دینی بصیرت کے عین مطابق ہے؟
قرآنی تعلیمات، فقہی اصولوں، اور معاصر علما و مفکرین کی آرا کی روشنی میں پرکھا جائے تو ’’ابراہیم معاہدہ‘‘ محض ایک سیاسی مفاہمت تھا جو امت امت کے فکری و اخلاقی زوال کا شاخسانہ بنا۔جو ’’ابراہیمی مذاہب کی وحدت‘‘ کے مغربی تصور کے ذریعے عقیدہ ختم نبوت کی روح کوکچلنے اور دینی بصیرت کو پامال کرنے کی شرمناک سازش تھی۔تاکہ عالم اسلام کے سیاسی منظر نامے کو تضادات اور نظریاتی زوال سے دو چار کیا جائے۔اسی کا نتیجہ ہے بیت المقدس کے دفاع کے حق میں نعرہ زن عرب قیادت اسرائیل سے قربتیں بڑھا رہی ہے اور ’’اسلامی اخوت و بھائی چارے‘‘ کے نام پر وجود میں آنے والے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی فروتر ہونے کے ساتھ ساتھ سرحدی تنائو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔اور اسلام کا ’’امت مسلمہ ‘‘ کا ایک جسم ہونے کا تصور مجروح ہو چکا ہے۔
2020 ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سر پرستی میں طے پانے والا ’’ابراہیم معاہدہ‘‘ اور اتنے ہی عرصے پر پھیلا پاک افغان تنائو بظاہر مختلف جغرافیائی حالات پر مشتمل ہے مگر نظریاتی ڈانڈے ہی نہیں فکری ہم آہنگی بھی ایک دوسرے کے بیچ موجود ہے مگر دونوں خطوں پر بیرونی طاقتوں کے اثرات غالب ہیں ،اس پر مستزاد یہ کہ ان میں اسلامی بھائی چارے کی بجائے سیاسی مفادات کی حرص و ہوس کو فوقیت حاصل رہی ہے جس کی وجہ بہ حیثیت امت ان کے اندرونی نظریات اور خودمختاری کے جذبات مجروحیت کی جانب راغب رہے ہیں ۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’ابراہیم معاہدہ ‘‘ اور پاک افغان تعلقات عالم اسلام کی ایک ہی بیماری کی دو علامت دکھائی دیتی ہیں۔جن کے درمیان نمایاں مظاہر سیاسی خود غرضی ،نظریاتی بے توجہی اور امت کے اجتماعی شعور کا فقدان ہے ۔اسی طرح ’’ابراہیم معاہدہ‘‘ جس کے نتیجے میں چار اسلامی ممالک متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین اور سوڈان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہموار ہوئے جس کا واضح مطلب یہ ثابت کرنا تھا کہ اسلام ، یہودیت اور عیسائیت تینوں ایک ’’ابراہیمی روایت‘‘ سے وابستہ ہیں ۔در حقیقت یہ معاہدہ دین اسلام میں نقب لگانے اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کرنے والوںکی پشت میں خنجر گھونپنے کی ایک خوفناک سازش ہے کہ اسرائیل کو مشرق وسطی میں وہی کردار دیا جائے جوامریکہ روس ، چین،پاکستان اور ایران ہی نہیں پوری امت مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے ادا کررہا ہے۔ ’’ابراہیم معاہدہ‘‘ کے اس بھیانک منصوبے نے ہی جغرافیائی خلیج کے باوجود پاک افغان تعلقات پر ایسے اثرات مرتب کئے ہیں کہ دونوں اسلامی سیاست کے حوالے سے زوال کے اندھے کونئیں کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی ایسی تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں جس کی مثال اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ناپید ہے ۔جب قومیں اپنی روحانی میراث کھو دیتی ہیں تو کسی کو انہیں تباہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ،وہ اپنے آپ کو خو د بربادکر لیتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں