مہاجر قومی موئومنٹ (پاکستان)کے چیئرمین آفاق احمد کی کراچی میں حالیہ پریس کانفرنس نے ایک حساس اور تکلیف دہ مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے، پٹھانوں کے ہوٹلوں کی بندش کو انہوں نے نہ صرف ظلم قرار دیا بلکہ اسے اجتماعی سازش سے جوڑ کر پیش کیا کہ اس سے شہر کے اندر مختلف قومیتوں کے درمیان نفرت اور تکرائو کو ہوا مل سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ معاشی ذرائع کو بند کرنا، روزگار کی راہیں مسدود کرنا اور کسی مخصوص برادری کو شہروں سے نکالنے جیسی کارروائیاں جبر اور نسلی تعصب کی واضح مثالیں ہیں ، ایسی باتیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اس معاملے کو جذباتی تیزابیت سے ہٹ کر سچائی، قانون اور انسانی حقوق کے لینز سے دیکھیں۔ کسی بھی برادری کی بنیادی روزگار، کاروبار اور معاشی ساکھ کو طاقت یا دبا ئوکے ذریعے ختم کرنا نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی ناقابل قبول ہے۔ کراچی ایک متنوع شہر ہے جس کی طاقت اسی تنوع کے تناظر میں ہے، یہاں کے کاروبار، خوراک، خدمات اور روزگار میں مختلف قومیتوں نے مل کر شہر کو چلایا ہے۔ اس بنا پر پٹھانوں یا کسی بھی برادری کو جبراً یا ظلماً نکالنا کراچی کے مفاد میں نہیں، بلکہ حکام کا یہ اقدام معاشرتی بدامنی، اقتصادی زوال اور بین الاقوامی بدنامی کا سبب بنے گا۔اس تناظر میں چند اصولی نکات فہم اور ترتیب وار طریقہ کار عرض کیے دیتے ہیں، جن پر عمل کر کے اس طرح کے اقدامات کو روکا جا سکتا ہے اور عدل و انصاف کی صورتحال برقرار رکھی جا سکتی ہے:
-1 فوری شفاف تحقیقات: متعلقہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انسانی حقوق کے اداروں کو چاہئے کہ ہوٹلوں کی بندش یا کسی بھی پابندی کی وجوہات کی فوری، آزاد اور شفاف تحقیقات کروائیں۔ کسی بھی غیر قانونی یا غیر آئینی عمل کی شناخت پہلی شرط ہے۔
-2قانونی تحفظ اور عدالت کی مداخلت: متاثرین کو فوراً قانونی سہولت فراہم کی جائے‘ریلیف کے لئے پٹیشنیں دائر کی جائیں، عبوری احکامات حاصل کئے جائیں اور اگر املاک کو غیر قانونی طور پر بند کیا گیا ہو تو عدالتی کارروائی کے ذریعے احکامات واپس لئے جائیں۔
-3 دستاویزات اور شواہد کی جمع آوری: متاثرہ ہوٹلوں اور تاجروں کو چاہیے کہ ہر طرح کے نوٹس، آرڈرز، تصاویر اور گواہوں کے بیانات محفوظ رکھیں، یہ شواہد بعد ازاں قانونی اور عوامی سطح پر موثر ثابت ہوں گے۔
-4 کمیونٹی ڈائیلاگ فورم، شہر کے مختلف طبقوں پٹھان، مہاجر، سندھی اور دیگر ز کے نمائندوں کا ایک فوری کمیونٹی فورم قائم کیا جائے جس میں مقامی انتظامیہ، سول سوسائٹی اور مذہبی و سیاسی رہنما شامل ہوں۔ گفت و شنید سے ہی غلط فہمی دور ہو سکتی ہے۔
-5نیابتی اور انتقامی کارروائیوں کی نگرانی ہونی چاہیے ،انتظامیہ کو چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ نسلی یا سیاسی دبائو کی نگرانی کے لیے ایک آزاد مانیٹرنگ سیل تشکیل دے، اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی کرے۔
-6 معاشی بحالی پیکج: متاثرہ کاروباری افراد کے لیے وقتی مالی امداد، چھوٹے قرضے اور تکنیکی تربیت فراہم کر کے انہیں دوبارہ سخت مقابلے کے قابل بنایا جائے، تاکہ معاشی بقاء ممکن ہو۔
-7 تعلیمی و میڈیا مہمات: اشتہارات، اخباری مضامین اور مقامی ریڈیو و سوشل میڈیا پر بین النسلی ہم آہنگی، رواداری اور قانون کی پاسداری کے پیغامات پھیلائے جائیں تاکہ عوامی ذہنیت میں مثبت تبدیلی آئے۔
-8 قومی اور صوبائی سطح پر پالیسی نگرانی: اس طرح کے حالات دوبارہ نہ ہوں، اس کے لیے طویل المدت پالیسیز وضع کی جائیں شہری حقوق کی حفاظت، املاک کے تحفظ اور لسانی بنیاد پر امتیاز کے خلاف قوانین سخت کیے جائیں۔آخر میں، یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی شہر کی بقا اس کے معاشی اور سماجی تانے بانے کی حفاظت میں ہے۔ آفاق احمد بھائی کی آواز ایک چِنگاری ہوسکتی ہے جو ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ انصاف اور برابری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ پٹھانوں کو جبرا نہیں نکالا جانا چاہیے نہ قانون کے سامنے، نہ اخلاق کے سامنے اور نہ ہی انسانیت کے سامنے۔ ہمیں خلوصِ نیت، قانون کی بالا دستی اور باہمی احترام کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا تا کہ کراچی سب کے لئے محفوظ اور خوشحال شہر بنے۔