Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

علامہ محمد اقبالؒ اور جدید سیاسی نظام

(گزشتہ سے پیوستہ)
نظام خلافت کے حوالے سے ایک اہم بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے جس کی طرف علامہ محمد اقبال نے اپنے خطبہ میں اشارہ کیا ہے کہ اہل سنت کے نزدیک یہ نظام ’’خلافت‘‘ کے عنوان سے ہے جبکہ اہل تشیع اسے ’’امامت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ:
(۱) ’’خلافت‘‘ کی بنیاد نامزدگی پر نہیں بلکہ امت کی صوابدید اور اختیار پر ہے، جبکہ ’’امامت‘‘ منصوص ہے اور نامزدگی کے ذریعے اس کا تعین ہوتا ہے۔ (۲) ’’خلافت‘‘ کسی خاندان اور نسل میں محدود نہیں، جبکہ ’’امامت‘‘ صرف ایک خاندان میں محدود ہے۔ (۳) ’’خلیفہ‘‘ کا دینی درجہ مجتہد کا ہے جس کے فیصلوں اور احکام میں صواب اور خطا دونوں کا احتمال موجود رہتا ہے، جبکہ ’’امام‘‘ معصوم ہے، اس کی رائے میں خطا کا احتمال نہیں اس لیے کسی بھی معاملہ اس کی رائے حتمی ہوتی ہے۔ (۴) ’’خلیفہ‘‘ اپنی خلافت میں خدا کی نمائندگی نہیں کرتا، جبکہ ’’امام‘‘ خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو ’’خلیفۃ الرسول‘‘ کہا جاتا تھا۔ قاضی ابو یعلیؒ نے ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ میں روایت نقل کی ہے کہ ایک بار کسی شخص نے حضرت ابوبکرؓ کو ’’یا خلیفۃ اللہ‘‘ کہہ کر پکارا تو خلیفہ اول نے اسے ٹوک دیا اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ نہیں بلکہ رسول اللہ کا خلیفہ ہوں۔ میری طالب علمانہ رائے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میں خدا کی نمائندگی کے نام پر کوئی پاپائی اختیارات نہیں رکھتا بلکہ رسول اللہ کے نمائندہ کے طور پر ان کی ہدایات اور تعلیمات کا پابند ہوں۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلے خطبہ میں صاف طور پر فرما دیا کہ میں اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسولؐ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت تم پر واجب ہے، اور اگر ایسا نہ کروں تو میری اطاعت تمہارے لیے ضروری نہیں ہے۔ اسے دوسرے الفاظ میں اس طرح بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ یہ تھیاکریسی کی نفی تھی اور شخصیت کی بجائے دلیل کی حکومت کے قیام کا اعلان تھا جس سے اسلام کے نظام خلافت آغاز ہوا۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اہل سنت کے موقف اور روایات کے مطابق) اپنا جانشین نامزد نہیں کیا تھا بلکہ خلیفہ کے انتخاب کو امت کی صوابدید اور اختیار پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے ایک موقع پر خلیفہ نامزد کرنے کا ارادہ فرمایا لیکن پھر یہ کہہ کر ارادہ ترک کر دیا کہ ’’یابی اللہ و المومنون الا ابابکر‘‘ ابوبکر کے سوا کسی اور کو خلیفہ بنانے سے اللہ تعالیٰ بھی انکار کرتا ہے اور مومنین بھی اس پر راضی نہیں ہوں گے۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ جناب نبی اکرمؐ کی طرف سے امت کی اجتماعی صوابدید پر اعتماد کا اظہار تھا اور حکمت کا تقاضا بھی یہی تھا کہ کسی کو نامزد کر کے نامزدگی کو ہمیشہ کے لیے قانون نہ بنا دیا جائے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر کی خلافت کا فیصلہ عوامی رائے بلکہ اچھے خاصے عوامی بحث و مباحثہ کے بعد ہوا اور اس طرح امت کو یہ اختیار حاصل ہو گیا کہ وہ اپنے حکمران کا خود انتخاب کرے۔
اس کے ساتھ اگر مسلم شریف کی ایک اور روایت کو بھی پیش نظر رکھ لیا جائے تو بات زیادہ واضح ہو جاتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’تمہارے اچھے حکمران وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم ان سے محبت کرو، اور تمہارے برے حکمران وہ ہیں جو تم سے نفرت کریں اور تم ان سے نفرت کرو‘‘۔ اس میں بھی اشارہ ہے کہ حاکم اور رعیت کے درمیان اعتماد کا رشتہ ضروری ہے، البتہ اس اعتماد کے اظہار کی عملی صورت ہر زمانہ کے حوالہ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
اس لیے قرآن پاک اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد و عمل کے حوالہ سے اسلامی حکومت کی تین بنیادیں نظر آتی ہیں:
(۱) حکومت کا قیام عوام کی مرضی سے ہوگا۔ (۲) خلیفہ کو استبدادی اختیارات حاصل نہیں ہوں گے بلکہ وہ قرآن و سنت کے احکام کا پابند ہوگا۔ (۳) قرآن و سنت کے صریح احکام کے مقابلہ میں عوامی رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔
اس کے ساتھ اگر حضرت ابوبکرؓ کے پہلے خطبہ کا یہ جملہ شامل کر لیا جائے کہ ’’اگر میں سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلنے لگوں تو مجھے سیدھا کر دو’’ تو اس سے ایک اور اصول بھی اخذ ہوتا ہے کہ:
حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہے، اور عوام کو حکومت کے احتساب کا حق حاصل ہے۔
ان اصولوں کی وضاحت کے بعد اب میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ خلیفہ کے انتخاب کے طریق کار، حکومتی ڈھانچہ اور عوام کے حق احتساب کو عملی شکل دینے کے تمام امور حالات پر چھوڑ دیے گئے ہیں اور اس کے لیے ہر دور میں اس وقت کے حالات اور ضروریات کے مطابق کوئی بھی طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے چودہ سو سالہ تعامل میں مختلف طرز ہائے حکومت کو عوامی اور علمی حلقوں کی طرف سے جواز کا درجہ اور سند حاصل ہوتی رہی ہے۔
اس کے بعد میں آج کے جدید سیاسی نظام کی طرف آتا ہوں جس کی بنیاد چار اہم اصولوں پر ہے:
(۱) مذہب اور ریاست کی علیحدگی،
(۲) عوامی رائے کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل،
(۳) پارلیمنٹ کی مطلق خودمختاری،
(۴) انسانی حقوق کی پاسداری۔
جہاں تک مذہب اور سیاست میں علیحدگی کی بات ہے، اسلام اس کو تسلیم نہیں کرتا اور قرآن کریم صراحت کے ساتھ یہ بات کہتا ہے کہ اللہ تعالی کے اتارے ہوئے فرامین کو بنیاد بنائے بغیر احکام دیے جائیں گے تو وہ گمراہی کا باعث اور جاہلیت کے مترادف ہوں گے۔ البتہ حکومت کے قیام کے لیے عوام کی رائے کا حق اسلام نے تسلیم کیا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں