Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

علامہ محمد اقبالؒ اور جدید سیاسی نظام

(گزشتہ سے پیوستہ)
جس میں ہمارے علماء کرام پوری طرح سرخرو ہوئے اور ایک ایسا دستور قوم کو فراہم کیا جس پر ملک کے تمام طبقوں کے ساتھ ساتھ روایتی دینی حلقوں کا اتفاق ہے اور جدید سیاسی نظاموں کے ناگزیر تقاضوں کی بھی نفی نہیں ہوتی۔ اسی طرح قادیانیت کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے بھی ملک کے روایتی دینی حلقوں نے اجتہاد سے کام لیا اور اپنے قدیم روایتی موقف پر اصرار کرنے کی بجائے علامہ اقبال کی تجویز کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دینے پر اکتفا کر لیا، اس لیے کہ جدید سیاسی نظام کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا تقاضا یہی تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں حکومتی ڈھانچے اور دستوری نظام کی تشکیل اور قادیانیوں کی حیثیت طے کرنے کے بارے میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر جو فیصلے کیے، وہ اسی رخ پر ہوئے ہیں جن کی طرف علامہ اقبال نے اشارہ کیا تھا، بلکہ ہم نے تو افغانستان میں طالبان کی امارت اسلامیہ قائم ہونے کے بعد وہاں بھی اس بات کے لیے کوشش کی ہے کہ کسی طرح وہاں دستوری حکومت کا کوئی راستہ نکل آئے۔ میں خود ایک دور میں قندھار گیا ہوں، امیر المومنین ملا محمد عمر سے ان کے دور اقتدار میں ملاقات کی ہے اور اگرچہ ان سے براہ راست اس مسئلہ پر بات نہیں ہو سکی، لیکن ان کی شوریٰ کے ذمہ دار حضرات سے میں نے بات کی۔ میں اپنے ساتھ قرارداد مقاصد، علماء کے ۲۲ دستوری نکات اور جمعیت علماء اسلام پاکستان کا ۱۹۷۰ء کا انتخابی منشور لے کر گیا تھا اور میں نے انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ وہ علماء پاکستان کی طرح قرآن و سنت کی بالادستی کی شرط کے ساتھ عوامی نمائندگی اور دستوری حکومت کا اہتمام کریں، کیونکہ آج کے دور میں کسی حکومت کے جواز کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے یہ ناگزیر تقاضے ہیں۔ اور چونکہ اس کا تعلق اجتہادی امور سے ہے اور حالات کے مطابق ایسے معاملات میں کوئی بھی مناسب فیصلہ کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے، اس لیے انہیں اس مشورہ پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ مگر یہ ہماری بدقسمتی تھی یا حالات کا جبر تھا کہ معاملات کو اس رخ پر لانے کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس ہمارے ایک اور پڑوسی ملک ایران میں جب مذہبی قیادت برسراقتدار آئی اور ابھی تک برسر اقتدار ہے، اس نے اپنے روایتی موقف کو جدید سیاسی تقاضوں کے سانچے میں ڈھالا، دستوری حکومت اور عوامی نمائندگی کا اہتمام کیا اور باوجودیکہ اہل تشیع کا امامت کا سسٹم اہل سنت کے خلافت کے سسٹم کی بہ نسبت زیادہ سخت اور تھیاکریسی کے زیادہ قریب ہے، انہوں نے اسے بھی ’’ولایت فقیہ‘‘ کے عنوان سے دستوری نظام کا حصہ بنا دیا، اس لیے وہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
دستور کی حد تک پاکستان میں ہم نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور اگر پاکستان اور ایران کے دساتیر کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو ایک اسلامی حکومت کے بارے میں اہل سنت کے نقطۂ نظر اور اہل تشیع کے نقطۂ نظر کا فرق جدید دستوری زبان اور آج کی سیاسی اصطلاحات میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ البتہ ایران میں چونکہ حکومتی طبقات اور حکومتی نظام چلانے والے افراد اس کے مطابق تعلیم و تربیت بھی رکھتے ہیں، اس لیے انہیں اس کے مطابق ملک کا نظام چلانے میں کوئی دقت پیش نہیں آرہی، مگر ہمارے ہاں مقتدر طبقات اور اسٹیبلشمنٹ پاکستان اور اس کے دستور کی نظریاتی بنیاد کے حوالے سے ابھی تک تذبذب اور گومگو کا شکار ہیں، بلکہ عوامی دباؤ کے تحت قبول کیے جانے والے اس دستور اور اس کی اسلامی دفعات سے کسی نہ کسی طرح پیچھا چھڑانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں، اس لیے پاکستان کا دستور اور اس کی اسلامی دفعات قومی زندگی میں عملی پیشرفت کے مواقع سے ابھی تک محروم ہیں۔
گفتگو کے اختتام سے قبل میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ جہاں تک جدید سیاسی نظام کے ناگزیر تقاضوں اور آج کے ورلڈ سسٹم کے تناظر کو سمجھنے اور اس سے ممکنہ طور پر ہم آہنگ ہونے کا تعلق ہے، اس کی اہمیت و ضرورت سے نہ تو انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی باشعور اہل علم نے کبھی اس سے گریز کیا ہے، لیکن اس کا مطلب اسلام کے اصولوں سے دستبرداری اور قرآن و سنت کی حدود سے تجاوز نہیں ہے۔ اس لیے اجتہاد کا جو تقاضا ہماری ملی اور قومی ضروریات سے تعلق رکھتا ہے اور قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں اس میں اجتہاد کی گنجائش پائی جاتی ہے، اس کے لیے ضرور کام ہونا چاہیے اور احکام و قوانین کے حوالے سے اس کا وسیع دائرہ موجود ہے۔ مجھے اس سلسلہ میں روایتی دینی حلقوں اور مراکز کی سست روی کا احساس ہے اور میں انہیں ان تقاضوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے گزشتہ ربع صدی سے بساط بھر کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن اجتہاد کے نام پر مغرب کی پیروی اور اس کے فلسفہ و فکر کو قبول کرنے سے ہمیں قطعی طور پر انکار ہے، اس لیے کہ سیاسی نظام کے حوالے سے ان کی آخری منزل بہرحال ریاست اور مذہب کی علیحدگی ہے جس کے لیے مغرب ہم پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے، مگر ہمارے لیے وہ کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور اقبالؒ نے بھی یہ کہہ کر ہمیں اسی بات کی تلقین کی ہے کہ:
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

یہ بھی پڑھیں