Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

دعوت و تبلیغ کے مقاصد اور دائرے

تبلیغی جماعت کے دوستوں کا شکر گزار ہوں کہ ضلع شیخوپورہ کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد سے اجتماعی ملاقات کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالٰی ان حضرات کو جزائے خیر سے نوازیں اور ہماری اس ملاقات کو دارین کے لیے سعادت کا ذریعہ بنائیں، آمین۔ دعوت و تبلیغ کے اس ماحول میں علماء کرام کو تین چار اہم امور کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔
(۱) ایک یہ کہ اس وقت دنیا میں انسانی آبادی سات ارب کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک اخبار میں ایک نوزائیدہ بچے اور اس کی ماں کا فوٹو نظر سے گزرا جس کے نیچے لکھا تھا کہ سات اربواں بچہ اپنی ماں کے ساتھ ہسپتال میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں بسنے والے انسانوں کی تعداد سات ارب ہو گئی ہے۔ یہ سات ارب انسان جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امتِ دعوت ہیں اور ان سب تک اسلام کی دعوت اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف و پیغام پہنچانا ضروری ہے۔ جو ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے ہی پہنچانا ہے، آسمان سے فرشتے تو اس کام کے لیے نہیں آئیں گے اور نہ ہی کسی اور مخلوق کو یہ کام کرنا ہے یہ بہرحال ہمارا ہی فریضہ ہے اور امت میں سب سے زیادہ یہ ذمہ داری علماء کرام پر عائد ہوتی ہے۔
میں اس حوالے سے دنیا کے موجودہ معروضی تناظر کے صرف ایک پہلو کی طرف آپ حضرات کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان سات ارب انسانوں کو اپنے اپنے مذہب میں شامل کرنے کے لیے عالمی سطح پر دو بڑے مذاہب میں مقابلہ ہے۔ ایک طرف ہمارا یہ عزم ہے کہ پوری دنیا کو اسلام کے دائرے میں لانا ہے اور اس کے لیے مختلف افراد، طبقات اور حلقے سرگرم عمل ہیں۔ جبکہ دوسری طرف مسیحی مشینریاں یہی عزم لے کر مختلف ممالک میں کام کر رہی ہیں کہ ساری نسل انسانی کو مسیحیت کے دائرے میں لانا ان کی ذمہ داری ہے۔ دونوں کا فوکس سات ارب انسانوں پر ہے اور پوری نسل انسانی ان کی دعوت کا دائرہ ہے۔ ان دو کے علاوہ کسی اور مذہب کے حضرات اس مقصد کے لیے اس درجے میں متحرک نہیں ہیں اس لیے سات ارب انسانوں کو اپنے اپنے مذہب میں شامل کرنے کے لیے اصل مقابلہ اسلام اور مسیحیت میں جاری ہے۔
اس مقابلہ کی ایک تازہ جھلک یہ ہے کہ سوڈان جو مسلم اکثریت کا ملک چلا آرہا ہے اسے تقسیم کرنے اور اس کے ایک حصے کو مسیحیت کے نام پر الگ ملک بنانے کا آج سے پون صدی قبل منصوبہ بنایا گیا تھا جہاں مسیحیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بستی ہے مگر ان کی اس خطے میں اکثریت نہیں تھی۔ یہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے مسیحی مشنریوں نے اس علاقے میں آباد بت پرست قبائل کو مسیحی بنانے کا فیصلہ کیا اور مسیحی مشنریوں اور پادریوں نے کم و بیش نصف صدی کی مسلسل اور سخت محنت کے ساتھ ان بت پرست قبائل کو مسیحیت کے دائرے میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور اس طرح اس خطے میں مسیحی آبادی اکثریت میں تبدیل ہو گئی۔ جس کے بعد وہاں اقوام متحدہ کو درمیان میں لا کر ریفرنڈم کرایا گیا اور سوڈان کو تقسیم کر کے ایک الگ مسیحی ریاست قائم کر دی گئی۔ اس سے قبل انڈونیشیا میں بھی یہی عمل ہوا ہے اور مشرقی تیمور کے نام سے ایک الگ مسیحی ریاست قائم ہو چکی ہے۔
یہ ساری محنت مشنریوں اور پادریوں کی ہے، اس لیے میں علماء کرام سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں بھی سوچنا چاہیے اور اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے کہ کیا اس طرح کی کوئی محنت ہمارے دینی حلقوں اور علماء کرام کے طبقے میں بھی پائی جاتی ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو ہمیں اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری اور اس کے بارے میں مسئولیت کے پہلو پر ضرور سوچنا چاہیے۔
(۲) دوسری گزارش یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا دوسرا دائرہ امت مسلمہ کی اصلاح اور مسلمانوں کو دین کے ماحول کی طرف واپس لانے کا ہے۔ عام مسلمان کا دین کے ساتھ تعلق قائم ہو، مسجد کے ساتھ اس کی وابستگی ہو اور مسجد کی آبادی اور معاشرتی کردار ماضی کی طرح ہمارے اجتماعی ماحول کا حصہ بنے، یہ بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کہ عام مسلمان کا جب تک دین کے ساتھ عملی تعلق قائم نہیں ہوگا اور مسجد کی رونق اور آبادی کے ساتھ ساتھ اس کا حقیقی معاشرتی کردار بحال نہیں ہوگا اس وقت تک امت مسلمہ، مسلم ممالک اور ان کی سوسائیٹیوں کو موجودہ بحران سے نجات نہیں ملے گی۔ یہ صرف ہمارے ایمان اور جذبات کی بات نہیں ہے بلکہ دور زوال کے تلخ تجربات و مشاہدات بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص زبان سے تو کہہ رہا ہے کہ دین کی طرف واپسی کے بغیر مسلمانوں کی مشکلات دور نہیں ہوں گی اور ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے لیکن اسی سوچ کو دائرہ عمل میں لانے کے لیے عملی طور پر ہم کیا کر رہے ہیں؟
تبلیغی جماعت کے دعوت و تبلیغ کے اس عمل کو میں امتِ مسلمہ کی اصلاح، عام مسلمانوں کو دین کی طرف واپس لانے اور مسجد کی رونق و کردار کو بحال کرنے کی جدوجہد سے تعبیر کرتا ہوں۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں