Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

دعوت و تبلیغ کے مقاصد اور دائرے

(گزشتہ سے پیوستہ)
جو بہرحال اپنے دائرے میں دنیا بھر میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے اور اس کے اثرات و ثمرات بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ میری نظر میں تبلیغی جماعت کا بنیادی دائرہ کار یہی ہے کہ وہ ایک عام مسلمان کو، جس کا مسجد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، گھیرگھار کر مسجد میں لے آتی ہے۔ وہ عام مسلمان جو ’’مولوی‘‘ کے بارے میں اکثر بدگمانیوں کا شکار رہتا ہے اسے بہلا پھسلا کر مولوی کے پیچھے نماز کے لیے کھڑا کر دیتی ہے۔ اور وہ عام مسلمان جو دین کے بنیادی عقائد اور اعمال سے واقفیت نہیں رکھتا اسے سہ روزہ، چلہ اور سال لگوا کر کلمہ، نماز، حلال و حرام، اخلاقیات اور دیگر ضروریاتِ دین کی کچھ نہ کچھ تعلیم دے دیتی ہے۔ اس سے زیادہ میں تبلیغی جماعت سے اور کسی کام کا تقاضہ نہیں رکھتا اور نہ ہی دین کے کسی اور شعبے کا کام نہ کرنے پر تبلیغی دوستوں سے مجھے کوئی شکوہ ہے۔
اس سے اگلا کام ہمارا یعنی علماء کرام کا ہے لیکن یہ کام ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ فاصلہ قائم رکھ کر نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ہمیں تبلیغی جماعت کی صفوں میں شامل ہونا ہوگا اور باہمی محبت و تعاون کے ساتھ اگلے اصلاحی و تعلیمی مراحل کی صورت گری کرنا ہوگی۔ میری علماء کرام سے ہمیشہ گزارش ہوتی ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ تعلق قائم رکھیں، کچھ نہ کچھ وقت دیا کریں، میں خود سال میں ایک سہ روزہ پابندی کے ساتھ صرف اس غرض سے لگایا کرتا ہوں کہ اس سے تبلیغی جماعت کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے، اس کی سرگرمیوں سے آگاہی رہتی ہے اور دینی کاموں میں باہمی تعاون کے راستے کھلتے ہیں۔ فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام کو میں تلقین کیا کرتا ہوں کہ وہ فراغت کے بعد تبلیغی جماعت کے ساتھ سال لگائیں اور یا کسی کامل شیخ کے ساتھ روحانی و اصلاحی تربیت کا عملی تعلق قائم کریں۔ اس کے بغیر وہ اس علم کی خدمت اور قدر نہیں کر سکیں گے جو انہوں نے آٹھ دس سال میں محنت کر کے حاصل کیا ہے۔ تبلیغی جماعت کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے فضلائے درسِ نظامی کو ایک سال لگانا ہوتا ہے۔ میں اسے ان کا ’’ہاؤس جاب‘‘ کہا کرتا ہوں، جس طرح ڈاکٹر صاحبان تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد خالصتاً ہسپتال کے ماحول میں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ایک سال ہاؤس جاب کرتے ہیں اور پڑھے ہوئے علم کو عمل کے دائرے میں لانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح فارغ التحصیل علماء کرام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ تعلیمی اور اصلاحی ماحول میں کم از کم ایک سال تجربہ کار حضرات کی راہنمائی میں گزاریں۔ اور وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ سال لگانے کی صورت میں ہو تو بھی ٹھیک ہے اور اگر کسی کامل شیخ اور تجربہ کار استاذ کی نگرانی میں ہو تو بھی بات بن جائے گی۔
(۳) علماء کرام سے تیسری گزارش میں یہ کرنا چاہوں گا کہ ہمیں اپنے تعلیمی کام کے اہداف اور دائرے پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔ فقہاء کرام نے دینی تعلیم کے دو درجے قائم کیے ہیں۔ ایک فرض عین اور دوسرا فرض کفایہ۔ معاشرے کو علماء کرام، حفاظ، قراء، مفتیان، ائمہ، خطباء اور مدرسین فراہم کرنا فرضِ کفایہ کے دائرے کی چیز ہے جسے ہمارے دینی مدارس انتہائی احسن طریقے سے پورا کر رہے ہیں۔ بلکہ ایک مقتدر شخصیت نے کچھ عرصہ قبل کہا کہ ہم مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور دینی مدارس اس میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے، تو میں نے ایک مضمون میں لکھا کہ محترم! اس کا شکوہ ہم سے نہ کیجئے بلکہ یونیورسٹیوں اور کالجوں سے کیجئے، اس لیے کہ ہم نے کبھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اسے انتہائی ضروری سمجھتے ہیں لیکن ہم نے سوسائٹی کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، وکیل، ٹیکنوکریٹ اور بیوروکریٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری کبھی اپنے سر نہیں لی، یہ ذمہ داری جن اداروں نے سنبھالی اور اس کے لیے انہیں بھاری بجٹ ملتے رہے، اس کے بارے میں ان سے دریافت کیجئے۔
ہم نے یعنی دینی مدارس نے صرف یہ ذمہ داری اٹھائی تھی کہ سوسائٹی میں مسجد اور مدرسہ کا نظام قائم رہے گا اور ہم اس کے لیے رجال کار فراہم کرتے رہیں گے۔ چنانچہ سوسائٹی کو مولوی، امام، خطیب، قاری، حافظ، مدرس، مفتی اور مؤذن یہی مدارس فراہم کر رہے ہیں، اس میں اگر کسی جگہ کوتاہی ہے تو ہم سے پوچھیے اس کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔ اگر کسی جگہ مسجد بنی ہے اور خطیب و امام نہیں مل رہے، مدرسہ بنا ہے اور مدرس نہیں مل رہے، حافظ و قاری کی ضرورت ہے اور وہ میسر نہیں آرہے، دارالافتاء قائم ہوا اور مفتی نہیں مہیا ہو رہے تو اس کا شکوہ ہم سے کیجئے اور اس کا مورد الزام ہمیں ٹھہرائیے۔ اس حوالے سے تو ہم بحمد اللہ تعالٰی نہ صرف یہ کہ خودکفیل ہیں بلکہ بڑے ایکسپورٹر بھی ہیں کہ دنیا کے کسی حصے میں حافظ و قاری اور مدرس و مفتی کی ضرورت ہو ہم مہیا کرتے ہیں اور دنیا کے کم و بیش ہر علاقے میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے دینی مدارس کے پڑھے ہوئے افراد آپ کو دینی تعلیم کی خدمت سرانجام دیتے ہوئے ملیں گے۔ اس لیے اس حوالے سے تو بحمد اللہ تعالٰی دینی مدارس کا کردار بہت شاندار اور قابل فخر ہے لیکن میں اس کے دوسرے پہلو کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں۔
دینی تعلیم کا جو فرضِ عین کا درجہ ہے کہ ہر مسلمان ضروریاتِ دین سے واقف ہو اور اسے عقیدہ، عبادات، فرائض، معاملات، اخلاقیات اور حلال و حرام کی وہ ضروری تعلیم فراہم کی جائے جو اس کے لیے ہر صورت میں ضروری ہے، اس کے لیے ہمارا کردار کیا ہے اور ہم اس سلسلہ میں کیا کر رہے ہیں؟ ظاہر بات ہے کہ یہ ذمہ داری بھی علماء کرام ہی کی بنتی ہے کہ وہ عام مسلمانوں کے لیے ضروریات دین کی اس تعلیم کا، جو فرض عین کا درجہ رکھتی ہے۔ اہتمام کریں اور اس کا بھی اسی طرح کا کوئی مربوط نظم قائم کریں جیسا کہ ’’فرض کفایہ‘‘ کے دائرے کی تعلیم کے لیے قائم و موجود ہے۔ ہم نے دراصل اس بات کو کافی سمجھ رکھا ہے کہ جو لوگ مسجد میں ہمارے پاس آجاتے ہیں، جمعہ پڑھ لیتے ہیں، درس سن لیتے ہیں، مسئلہ پوچھ لیتے ہیں یا کسی دینی پروگرام میں شرکت کر لیتے ہیں، ان تک دینی بات اور تعلیم پہنچا کر ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ بات کافی نہیں ہے، وہ لوگ جو کسی بھی حوالے سے مسجد میں آجاتے ہیں، وہ ان لوگوں سے بہت کم ہیں جو مسجد میں کسی حوالے سے بھی نہیں آتے اور جن کا ہمارے ساتھ سرے سے کوئی جوڑ نہیں ہے۔ ان لوگوں کو اپنے دائرے سے باہر سمجھتے ہوئے ہم نے اپنی تمام تر سرگرمیوں کو مسجد میں خود آجانے والوں تک محدود کر رکھا ہے جو درست طرز عمل نہیں ہے اور میں اس کے بارے میں ایک حدیث نبوی کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں