Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

دعوت و تبلیغ کے مقاصد اور دائرے

(گزشتہ سے پیوستہ)
امام بخاریؒ نے اپنے رسالہ ’’الوحدان‘‘ میں ان صحابہ کرامؓ کا تذکرہ کیا ہے جن سے صرف ایک روایت منقول ہے۔ ان میں حضرت ابزٰی خزرعیؓ کا یہ واقعہ مذکور ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار خطبۂ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے پڑوسیوں سے دین کی سمجھ حاصل نہیں کرتے، علم نہیں سیکھتے اور دین کا فہم حاصل نہیں کرتے۔ اور ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے پڑوسیوں کو دین کی تعلیم نہیں دیتے، مسائل و احکام نہیں سمجھاتے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کرتے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں طبقے اپنا رویہ درست کر لیں ورنہ میں اس دنیا میں انہیں سزا دوں گا۔ اس جملے سے بعض فقہاء کرام نے یہ استدلال کیا ہے کہ حکومت کو جبری تعلیم کا حق حاصل ہے۔ آنحضرتؐ کا یہ ارشاد سن کر مدینہ منورہ کے عوامی حلقوں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ حضورؐ نے یہ بات عمومی طور پر کی ہے یا کسی خاص گروہ کو اس کا ہدف بنایا ہے۔ چنانچہ لوگوں نے محسوس کیا کہ اشعریوں کے محلے میں یہ کیفیت دکھائی دیتی ہے کہ حضرت ابو موسٰی اشعریؓ اور ان کا خاندان اپنا ایک الگ محلہ بسا کر اس میں قیام پذیر ہے جبکہ ان کے اردگرد کاشتکاروں اور باغبانوں کی آبادی ہے جن کا تعلیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اشعریوں کا خاندان قراء اور فقہاء کا خاندان کہلاتا تھا جبکہ اردگرد کے عام لوگ دینی تعلیمات سے بے خبر تھے اور ان کا آپس میں تعلیم و تعلم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ بات مدینہ منورہ میں عام ہونے لگی کہ جناب رسول اکرمؐ نے یہ بات اشعریوں کے بارے میں فرمائی ہے۔ یہ بات اشعریوں تک پہنچی تو انہیں تشویش ہوئی اور ان کا ایک وفد تصدیق کے لیے آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپؐ نے ان کی بات سن کر نہ صرف اس عوامی تاثر کی تصدیق فرمائی بلکہ اشعریوں کے وفد کے سامنے وہ جمعہ والی بات ایک بار پھر دہرا دی۔ اس پر اشعریوں نے پوچھا ’’انعاقب بتقصیر غیرنا؟‘‘ کیا دوسروں کے قصور پر ہمارا مواخذہ کیا جائے گا؟ جناب نبی اکرمؐ نے اس پر ’’نعم‘‘ ہاں فرما کر اس کی توثیق کر دی۔ جس سے فقہاء کرام نے یہ اصول اخذ کیا کہ پڑھنا اور پڑھانا مشترک ذمہ داری ہے، جس طرح اَن پڑھ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پڑھے لکھے لوگوں کو تلاش کر کے ان سے تعلیم حاصل کریں، اسی طرح پڑھے لکھے لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اَن پڑھوں سے رابطہ کر کے انہیں دینی تعلیم سے آراستہ کریں اور علمِ دین کو عام کرنے میں کردار ادا کریں۔ اس پر اشعریوں نے عرض کیا کہ ’’فامھلنا سنۃ‘‘ جس پر آنحضرتؐ نے انہیں ایک سال کی مہلت دی اور اشعریوں نے پورا سال لگا کر اس کوتاہی کی تلافی کر دی۔
(۴) اس کے ساتھ ہی ایک اور واقعہ بھی اس سلسلہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ غالباً ۱۹۸۸ء میں امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں بیپٹسٹ فرقہ کے ایک پادری صاحب سے میری گفتگو ہوئی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کے معاشرے میں زنا، سود، شراب، عریانی اور ہم جنس پرستی کا جو ماحول بنا ہوا ہے، آپ اسے کیا سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ گناہ ہے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ اس سلسلہ میں کیا کر رہے ہیں؟ کہنے لگے کہ اتوار کو چرچ میں بائبل کا درس دیتا ہوں اور لوگوں کو سمجھاتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ درس میں کتنے لوگ آتے ہیں؟ کہا کہ ڈیڑھ دو سو افراد ہوتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اٹلانٹا کی ایک ملین آبادی میں ہفتے میں ایک بار سو دو سو افراد کے سامنے درس دے کر کیا آپ اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں اور کیا آپ قیامت کے روز حضرت عیسٰی علیہ السلام کے سامنے پیش ہونے پر اپنی اس کارکردگی سے انہیں مطمئن کر سکیں گے؟ پادری صاحب نے فرمایا کہ نہیں لیکن میں اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتا ہوں؟
یہ واقعہ آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پادری صاحب سے تو میں نے سوال کر دیا لیکن بعد میں مجھے خیال آیا کہ یہی سوال اگر مجھ سے کیا جائے تو اس کا میرے پاس کیا جواب ہوگا؟ اس لیے یہ سوال اب آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں کہ ہم سب کو مل جل کر اس نازک سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے۔
پادری صاحب کی بات چلی ہے تو ایک اور پادری صاحب سے ملاقات کا قصہ بھی عرض کر دیتا ہوں ۔چودہ پندرہ سال قبل کی بات ہے کہ برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں مولانا محمد عیسٰی منصوری، مولانا رضاء الحق اور حاجی عبد الرحمان (آئرش نو مسلم) کے ساتھ پروگرام بن گیا اور ہم نے نوٹنگھم کے ایک پادری صاحب سے ملاقات کی۔ میرا سوال ان سے بھی یہی تھا کہ مغربی معاشرے میں زنا، شراب، سود، فحاشی اور عریانی کی جو یلغار ہے اس کو کہیں بریک لگنے کا کوئی امکان ہے؟ ان کا جواب نفی میں تھا۔ میں نے عرض کیا کہ آپ لوگ اس سلسلہ میں کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر سکتے بلکہ ہم آپ لوگوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اس لیے کہ اس کو روکنے کے لیے جس روشنی کی ضرورت ہے اس کی چمک ہمیں آپ لوگوں کی آنکھوں میں نظر آرہی ہے۔ تب سے میں اس سوچ میں ہوں کہ لوگوں کی ہم سے کیا توقعات ہیں اور ہم کن کاموں میں پڑے ہوئے ہیں۔
زندگی کا ایک اور تجربہ اور مشاہدہ عرض کرنے میں بھی شاید کوئی حرج نہ ہو کہ ایک دفعہ لندن میں مولانا محمد عیسٰی منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ اور راقم الحروف کا یہ پروگرام بن گیا کہ مختلف مسلم ممالک کی اسلامی تحریکات کے جو نمائندے لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں ان سے ایک اجتماعی ملاقات کر لی جائے۔ ان دنوں میں ورلڈ اسلامک فورم کا چیئرمین تھا، چنانچہ ہم نے مسلسل ورک کر کے کم و بیش تیرہ ممالک کی اسلامی تحریکات کے نمائندوں کو جمع کر لیا جن کا اجلاس راقم الحروف کی صدارت میں ہوا۔ میں نے ان دوستوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ قیامِ خلافت اور نفاذِ شریعت کے لیے الگ الگ کام کرنے اور متفرق طور پر اپنی توانائیاں خرچ کرنے کی بجائے کسی ایک ملک کو فوکس کر لیا جائے اور سب مل کر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں وہاں خرچ کریں۔ اگر کسی ایک جگہ ہم اسلامی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو باقی ممالک میں کام کو آگے بڑھانا آسان ہو جائے گا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب ابھی افغانستان کی امارت اسلامی اور طالبان کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ میری اس رائے سے سب نے اتفاق کیا اور کم و بیش ہر تحریک کے نمائندے نے رائے دی کہ اس کے لیے پاکستان ہی سب سے زیادہ موزوں ہے اور پاکستان کے دینی حلقے اور علماء کرام ہی اس سلسلہ میں سب سے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان کی باتیں سن کر میں خوش تو ہو رہا تھا لیکن اس سے کہیں زیادہ اندر ہی اندر میں پریشان بھی ہو رہا تھا کہ ’’اندر کی بات‘‘ تو میں ہی جانتا تھا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں