(گزشتہ سے پیوستہ)
اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے اقبالؒ نے تین بنیادیں بیان کیں جو حقیقت میں سورہ العصر کی تشریح ہے۔
خودی کی بیداری،انسان اپنی ذات کو پہچانے عملِ صالح،ایمان کوحرکت میں بدلے،اجتماعی عدل،امت کے نظامِ حیات کو عدل پر استوار کرے،یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر مستقبل کا اسلامی معاشرہ قائم ہوسکتا ہے۔
اقبالؒ کا خواب صرف برصغیر تک محدود نہ تھا۔ اقبالؒ کا عالمی وژن ایران، افغانستان، اور عالمِ اسلام تک محوپروازتھا۔ان کی نگاہیں افغانستان کے پہاڑوں، ایران کے افکار،اور ترک و عرب کے میدانوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر مسلمان اپنی فکری خودی نہ پہچانیں تو وہ نہ صرف سیاسی بلکہ روحانی غلامی کے شکنجے میں جکڑ جائیں گے۔ اقبالؒ نے اپنی شاعری سے وطنیت کے بت توڑے اور امت کے تصور کو زندہ کیا۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
یہ محض شعر نہیں، ایک قرآنی صدا ہے کہ امت ایک جسم ہے، جس کا دکھ اور سکون ایک ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر مسلمان اپنی قومی خودی برقرار رکھیں ، تو کوئی طاقت انہیں محکوم نہیں بنا سکتی۔ اقبالؒ کے سیاسی نظریے کی بنیاد قرآن کی مساوات، عدل اور خودی کے اصولوں پر تھی۔1908ء سے 1938 ء تک وہ مسلسل قوم کی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کی فکر کا عروج 1930 ء کے الہ آباد خطبے میں ظاہر ہوا۔ یہ خطبہ محض سیاسی تقریر نہیں بلکہ وحیِ الہی کی تفسیر تھی کہ ایک ایسی ملت جو ایمان کی بنیاد پر بنی ہو، وہ کسی دوسری اکثریت کی مرہونِ منت نہیں، جہاں انہوں نے فرمایامیں چاہتا ہوں کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمان ایک آزاد ریاست میں اپنی زندگی قرآن کے مطابق بسر کریں۔ یہ اعلان دراصل ایک قرآنی تصورِ ت کی تجدید تھا۔اقبالؒ نے اسلام کو وحدتِ انسانی کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسلمان اپنے مابین تفرقے اور قومیت کے بت نہیں توڑیں گے،انہوں نے کہا کہ جب تک مسلمان اپنے مابین تفرقے اور قومیت کے بت نہیں توڑیں گے، تب تک نشاۃِ ثانیہ کا سورج طلوع نہیں ہوسکتا۔
اقبالؒ نے جب چاروں طرف سے مخالفت دیکھی، انگریز، ہندو، اور بعض نام نہاد مسلمان رہنما سب نے انہیں دبانے کی کوشش کی،تب بھی وہ اپنے نظریے سے پیچھے نہ ہٹے۔ مگر اقبالؒ قرآنی مردِ مومن کی تصویر بن گئے جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے:الذِین قال لھم الناس اِن الناس قدجمعو الکم فاخشوہم فزادھم اِیمانا وقالواحسبنا اللہ ونِعم الوکِیل: لوگوںنے کہا، سب تمہارے خلاف جمع ہو گئے ہیں، ان سے ڈرو۔مگران کاایمان اور بڑھ گیا اور کہا ہمیں اللہ کافی ہے، وہ بہترین کارساز ہے۔
اسی استقامت پر قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒنے کہا تھا: اقبالؒ میرے رہنما اور میرے فلسفی ہیں۔ وہ چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ علامہ اقبالؒ اتحاد و اتفاق کو امت کا اثاثہ سمجھتے تھے۔اقبالؒ کے خواب کو قائد اعظم ؒنے تعبیر دی۔ جب جناح لندن میں گوشہ نشین تھے، اقبالؒ کے خطوط ان کے دل میں ذمہ داری اور قیادت کا شعلہ دوبارہ روشن کرتے رہے۔ اقبالؒ نے جناح کو مخاطب کر کے لکھا، مسلمانوں کی نجات صرف اسی میں ہے کہ وہ اپنی سیاست کو دینی اصولوں پر قائم کریں۔یوں ایک مفکر اور ایک قائد دونوں مل کر امت کے دو بازو بنے۔ ایک نے خواب دیکھا، دوسرے نے حقیقت میں ڈھالا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ملت نے اپنی شناخت حاصل کی، اور برصغیر کے مسلمانوں نے قرآن کی روشنی میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آج جب ہم بلوچستان کے اس علمی و فکری اجتماع میں جمع ہیں، تو اقبالؒ کے اس پیغام کی گونج ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
بلوچستان کی سرزمین، جس نے ہمیشہ علم، غیرت اور اخوت کو سینے سے لگائے رکھا، آج اسی پیغامِ اتحاد کی محتاج ہے۔ فرقہ واریت، لسانی تقسیم، اور سیاسی انتشار اسی وقت مٹ سکتا ہے جب ہم اقبالؒ کے اس اصول کو سینے سے لگائیں۔
تو رازِ کن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
اے مرد مسلماں ! تیری حیثیت اس عالم رنگ و بو میں قدرت کے ایک راز کی سی ہے ۔ تیرے لیے یہ امر لازم ہے کہ اپنی حقیقت و تشخص سے آگہی حاصل کر لے اور خدائے ذوالجلال کے احکامات کی ترجمانی کرتے ہوئے خودی کی حکمت سے آشنائی حاصل کر لے۔
آج جب ہم بلوچستان کی سرزمین پر یہ کانفرنس منعقد کر رہے ہیں وہ خطہ جہاں غیرت، علم اور ایثار کی روایات ایک دوسرے سے ہم آغوش ہیں ہمیں اقبالؒ کی تعلیمات کو اپنے موجودہ حالات پر منطبق کرنا ہوگا۔ بلوچستان کے سیاسی اور سماجی مسائل کا حل کسی بیرونی طاقت کے ایجنڈے میں نہیں، بلکہ اقبالؒ کی اس تعلیم میں ہے جو قرآن سے پھوٹی ہے۔ اگرہم قرآن اور اقبالؒ کی فکر کو اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کریں تو بکھرے ہوئے دل جڑ سکتے ہیں، محرومی خوشحالی میں بدل سکتی ہے، اور بلوچستان علم و عمل کا محور بن سکتا ہے۔ یہ اقبالؒ کا ہی پیغام ہے کہ سیاسی اختلاف کو فکری وحدت میں ڈھالا جائے، اور ملت کے رشتے کو جغرافیے کے نہیں بلکہ ایمان اور قرآن کے رشتے سے جوڑا جائے۔
آج جب ہم بلوچستان کی طرف دیکھتے ہیں جہاں سیاسی بے چینی، سماجی اضطراب، اور محرومی کی فضا چھائی ہوئی ہے تو اقبالؒ کی آواز ایک نئی تازگی کے ساتھ سنائی دیتی ہے۔ اقبالؒ کا پیغام ہمیں بتاتا ہے کہ اصلاح قوم کے اندر سے شروع ہوتی ہے،نہ کہ بیرونی نظاموں سے۔ جب تک دلوں میں خودی کی شمع نہیں جلتی،تب تک سیاست میں استقامت پیدا نہیں ہوتی۔ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے اقبالؒ کا پیغام یہ ہے کہ تعلیم کو ہتھیار بنا، عمل کو عادت بنا، اور وحدت کو شعار بنا۔اقبالؒ کے نزدیک انقلاب بندوق سے نہیں، بلکہ فکر، علم اور کردار سے آتا ہے۔
اگر بلوچستان کے فرزند اپنی ذات میں خودی کی آگ روشن کر لیں، تو یہی خاک زرخیز نئی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز بن سکتی ہے۔اقبالؒ کی فکر محض ماضی کا سرمایہ نہیں، بلکہ حال کی راہ اور مستقبل کا نقشہ ہے۔ان کی تعلیمات میں امت کے اتحاد کا پیغام ہے، ان کے فلسفے میں انسان کی آزادی کا جلال ہے،اور ان کے خواب میں اسلامی تہذیب کی تجدید کا جمال ہے۔ آج جب ہم اپنے گرد فکری زوال،سماجی انحطاط اور اخلاقی انتشار دیکھتے ہیں،تو محسوس ہوتا ہے کہ اقبالؒ کی نشاِۃ ثانیہ اب بھی ہم سے عمل، عزم، اور ایمان کی التجا کر رہی ہے۔
اے خالقِ ارض و سما، اے ربِ محمدِ مصطفی ﷺ،ہم تیرے شکر گزار ہیں کہ تو نے ہمیں اقبالؒ کی فکر سے فیضیاب کیا، جس نے ہمیں خودی کی پہچان اور امت کی وحدت کا درس دیا۔
ہمیں وہ نگاہ عطا کر جو اقبالؒ کو عطا فرمائی تھی، ہمیں وہ دل دے جو ایمان سے روشن ہو، اور وہ ہاتھ دے جو عملِ صالح سے معمور ہو۔اے ربِ کائنات بلوچستان اور پاکستان کے ہر گوشے کوامن، علم، عدل اور وحدت کا گہوارہ بنا دے۔ ہمیں اختلاف کی بجائے اتحاد کی راہ دکھا،اور ہمیں اپنے دین کی سربلندی کے لیے فکرِ اقبالؒ اور عملِ مصطفی ﷺ کی پیروی کی توفیق دے۔آمین۔