Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

وطن کی سڑکوں پر رقص بہیمیت

اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا جانے والا ملک ہے ،وہ ملک جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا لہو ہے، ہم نے اس لہو کی حرمت کی کتنی قیمت چکائی ہے یہ ایک تاریخی المیہ ہے ۔یہ ملک جس کے لئے فقط مردوں ہی نے بلکہ عورتوں نے بھی برابر کی قربانیاں دیں۔فقط تحریک پاکستان ہی نہیں قیام پاکستان تک میں ہماری مائوں بہنوں اور اور بیٹیوں کی لہو رنگ قربانیوں کا ذکر تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جا سکتا مگر پاکستان کے معرض وجود میں آجانے کے اس کی جمہوری تقدیر کے لکھے جانے کے لئے ہمارے عورتوں نے بھی جمہوری آزادیوں کے لئے اتنی ہی قربانیاں دیں جتنی مردوں نے ،مگر ہماری تاریخ کا المناک باب یہ ہے اپنی عورت کو جتنا ظلم و بربریت اور بہیمیت کا شکار بنایا شائد ہی تاریخ کے کسی دور میں اس کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کیا ہو۔پاکستان کی سماجی تاریخ میں عورت پر تشدد ایک وقتی یا اچانک نمودار ہونے والا مسئلہ نہیں، بلکہ وہ ہمارے سیاسی نظم، قانونی ڈھانچے، معاشرتی نفسیات اور طاقت کے غیر متوازن ڈھانچوں میں پیوست ہے۔ گلی ہو یا چوک، گھر ہو یا ادارہعورت کی جسمانی و ذہنی سلامتی ہمیشہ سوال بنی رہی ہے۔ سڑکوں پر ہونے والے واقعات محض انفرادی جنون یا وقتی درندگی کے مظاہر نہیں، بلکہ ایک وسیع تر معاشرتی ذہنیت کا بیرونی اظہار ہیںوہ ذہنیت جس کی تشکیل میں صدیوں کا پدر سری نظام، ریاستی بے حسی، کمزور انصاف، سیاسی عدم استحکام اور مذہبی و ثقافتی تعبیرات کا غلط استعمال شامل ہے۔
تاریخ پاکستان کی شاہراہوں پر پھیلے ان بدنصیب مناظر کی بھی ایک درد ناک تاریخ ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے یہاں کی عورت ہر دور میں اپنی جدوجہد کی موجودگی کی قیمت ادا کرتی رہی کبھی ہجوم کے ہاتھوں، کبھی بااثر مجرموں کے ہاتھوں، کبھی ریاستی اداروں کی ناکامی کے نتیجے میں۔یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب ریاست شہری کی حرمت کی ضمانت نہ بن سکے، تو سڑکیں محض راستے نہیں رہتیں، کمزوروں کے لیے ممکنہ مقتل بن جاتی ہیں۔پاکستان کی سڑکوں پر خواتین پر پولیس کے ہاتھوں جس بہیمیت کا مظاہرے ہورہے ہیں وہ تاریخ عالم میں پاکستان ہی نہیں دین اسلام کے بنیادی اصول اور قواعد ضوابط کی نفی اور تضحیک کا شاخسانہ ثابت ہو رہے ہیں ۔وطن عزیز میں عورت پر ظلم تشدد کی روایت نئی نہیں ہے ۔قیام پاکستان کے بعد متعدد بار ایسا ہوا مگر میڈیا کی سرد مہری یا مجبوریوں کی بنا پر سڑکوں پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات رپورٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے یہی سمجھا جاتا رہا کہ ملک میں سماجی امن کا مسئلہ نہیں ہے مگر سماجی مفکرین و مورخین اس حوالے سے قوم کو اور متعلقہ اداروں کو مستقل آگاہ کرتے رہے کہ شہروں کی صورت حال ایسی نہیں کہ اوباش گروہوں کی کارروائیاں نہ ہوتی ہوں ،مقامی بسوں میں روزدہاڑے ہونے والیچھیڑ چھاڑ اور ہراسانی سے لیکر پسماندہ اور طبقات کی خواتین کے استحصال میں کبھی کمی نہیں رہی ۔آمر ضیا کے دور میں ملتان کے اہک نواحی قصبہ نواب پور میں ہونے والے اہک انتہائی شرمناکواقعے سے لیکر بیسیوں اخلاقی نوعیت کے حادثات و واقعات ظہور پذیر ہوئے لیکن مجرموں کے طاقتور ہونے کی وجہ سے ان پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکا۔اور سلسلہ 1988ء تک تسلسل کے ساتھ چلتا رہا۔۔پولیس تب بھی غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کئے رہی اور آج بھی وہی عالم ہے ۔1990 ء میں جب میڈیا کا کردار ابھر کر سامنے آیا تو بہت سارے واقعات سے پردہ اٹھا ۔پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے وہ سارے حقائق عیاں کرنا شروع کر دیئے جو عوام و خواص کی نظروں سے اوجھل رہتے تھے۔ ویمن ورکرز خاص طور پر سماجی سطح پر غیر محفوظ رہیں چھوٹے شہروں میں بااثر افراد کی جارحیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔نئی صدی کا آغاز ہوگیا، تہذیب و تمدن کے حوالے سے تبدیلیوں کے امکانات کی امید کے در وانیکی آس لگائی گئی مگر ربع صدی بیت جانے کے باوجود سماجی سطح پر کو انقلاب رونما نہیں ہوا۔وقت کے ساتھ ساتھ ریاست کمزور ہوتی گئی ،پولیس کی گرفت کمزور ہوئی تو اس کے نفسیاتی مسائل بڑھتے چلے یوں اس نے اپنی محرومیوں کا بدلہ عوام خصوصا عورتوں سے لیا گیا۔عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹتے اور چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی روش عام ہوئی۔
موبائل کیمروں نے اس بہیمیت اور درندگی کے واقعات کو سوشل میڈیا پر پیش کرکے عورت کے تففظ پر اور سوال اٹھائے مگر ریاست خاموشی کی چادر تانے رہی اور آج ریاست اور اس کے اوپر والے طاقتور طبقات ملکرسیاسی عدم اختلاف کرنے والے مردوں سے توجہ ہٹا کر فقط عورتوں پر تشدد کرنے کی روش پر تلے ہوئے ہیں انہیں ڈرا ،دھمکا اور لاٹھی گولی کا نشانہ بنا کر ان کے مردوں کو انہیں گھروں بند رکھنے پر آمادہ کر سکیں ۔مگر آج کی انتہائی پڑھی لکھی ،باشعور عورت ملکی سیاست میں اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لئے احتجاج کرنے کے ہر قسم کی قربانی کے تیار ہو ہے ریاست کی ساری مشینری استعمال کرکے بے دردی،بے رحمی اور بے مروتی کے ساتھ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے پر تلی ہے ۔اڈیالہ جیلکے باہر پی ٹی آئی کے سربراہ کی بہنوں پر کئے جانے والا ظلم و تشدد جسے بہیمیت سے بھی بڑھ کر کوئی نام دیا جاسکتا ہے اسے کیا سمجھنا چاہیئے ۔ایک خونی انقلاب کو دعوت دینا یا دنیا پر یہ ثابت کرنا جس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اس ملک کی ا پنے نظریئے سے مغائرت کہ ہمارے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ساری اسلامی جنگوں میں عورت کے تحفظ کو ملحوظ خاطر رکھنے کی تلقین کی تھی ۔ نیچے عہد بہ عہد جائزہ پیش ہے تاکہ مسئلے کا ارتقائی پس منظر سمجھ میں آئے:
1۔ ابتدائی دہائیاں (1947-1977) شرم و حیا ء کا معاشرہ، مگر محفوظ نہیںابتدائی پاکستان میں عورت کے خلاف گلی اور سڑک پر تشدد کے واقعات اخبارات میں کم رپورٹ ہوتے تھے، اس لیے یہ غلط فہمی پھیل گئی کہ سماج محفوظ تھا۔لیکن سماجی مرخین بتاتے ہیں کہ:شہروں میں اوباش گروہوں کی چھیڑ چھاڑلوکل بسوں میں ہراسانیکمزور طبقے کی خواتین کا استحصالاخبارات کم لکھتے تھے مگر واقعات موجود تھے۔ سماج ’’پردہ کلچر‘‘کی آڑ میں خاموش رہتا تھا۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں