(گزشتہ سے پیوستہ)
گویا اس بات پر تو ہمارا اُن کا اتفاق ہے۔ میں یہ بالکل سنجیدگی کے ساتھ، گویا اس بات پر ہمارا ان کا اتفاق ہے کہ سستا اور فوری انصاف اگر مل سکتا ہے تو شرعی عدالتوں کے ذریعے مل سکتا ہے۔ آگے اختلاف یہ ہے کہ یہ صرف سوات والوں کا حق نہیں ہے، لاہور والوں کا بھی ہے، کراچی والوں کا بھی ہے، حیدرآباد والوں کا بھی ہے، کوئٹے والوں کا بھی ہے۔ اگر سستے اور فوری انصاف کا ذریعہ ان کے نزدیک بھی شرعی عدالتیں ہی ہیں تو پھر لاہور کا کیا قصور ہے؟ یہ پورے ملک میں؛ میں نے ’’کیوں‘‘ کی تیسری بات کی ہے۔
میں نے پہلی بات یہ عرض کی کہ ہم مسلمان ہیں، بحیثیت مسلمان اللہ رسول کے احکام کے پابند ہیں۔ ہم پاکستانی ہیں، ہم نے پاکستان کے قیام کے وقت کمٹمنٹ دے رکھی ہے، اللہ کو بھی اور عوام کو بھی، کہ یہاں شریعت نافذ کریں گے۔ اور یہ ہماری ضرورت ہے کہ ہماری موجودہ صورتحال شرعی قوانین کے نفاذ کے بغیر کنٹرول میں آنے والی نہیں ہے۔
(۳) اور آخری نکتے کی طرف آؤں گا، کیسے؟ ’’کیسے‘‘ کے بارے میں بھی صاف طور پر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا، ہم نے پاکستان بننے کے بعد اجتماعی طور پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے یہ بات طے کی تھی کہ ہم یہاں نفاذِ شریعت کریں گے لیکن جمہوری طریقے سے، سیاسی طریقے سے، رائے عامہ کے ذریعے سے، پبلک کے ساتھ مل کر۔ اور اِس ملک میں ہتھیار اسلام کے لیے نہیں اٹھائے جائیں گے۔ اسلام کے لیے، نفاذِ اسلام کے لیے ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہ ہم نے پہلے دی ہے، نہ آج دیتے ہیں، نہ آئندہ دیں گے۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، مسلم ریاست ہے، اسلامی ریاست ہے اپنے قراردادِ مقاصد کی بنیاد پر۔ اور ایک اسلامی ریاست کے اندر کسی بھی مقصد کے لیے داخلی نظام کو چیلنج کرنا اور ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد، نہ کل ٹھیک تھی، نہ آج ٹھیک ہے، نہ آئندہ ٹھیک ہو گی۔
یہ ہمارا راستہ جمہوری راستہ ہے، ووٹ کا راستہ ہے، رائے عامہ کا راستہ ہے، اور پبلک قوت کے ذریعے۔ اس کی مثال موجود ہے، ہمارے پڑوس ایران کی مثال موجود ہے اور ہمارے ملک میں وکلاء کی مثال موجود ہے، کہ ہم نے پبلک قوت کے ذریعے، رائے عامہ کی قوت کے ذریعے، جمہوری قوت کے ذریعے یہ راستہ اختیار کیا تھا۔
لیکن اس کے ساتھ میں یہ بات کہنا چاہوں گا کہ ساٹھ سال سے پاکستان میں نفاذِ شریعت کی بات سیاسی راستے سے آ رہی تھی۔ یہ تشدد کہاں سے آیا ہے؟ اس تشدد کا ذمہ دار کون ہے؟ اس تشدد کی ذمہ دار وہ اسٹیبلشمنٹ ہے جس نے ساٹھ سال سے شریعت کا راستہ روکا ہوا ہے۔ میں تشدد کو درست نہیں کہتا، جائز نہیں کہتا، اس کی حمایت نہیں کرتا، اس کی تائید نہیں کرتا، لیکن اس تشدد کا ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہے جس نے ساٹھ سال سے شریعت کا راستہ روکا ہوا ہے۔ اور اس کا ری ایکشن ہے یہ۔ یہ ہماری بیوروکریسی، ملٹری بیوروکریسی ہو، یا سول بیوروکریسی ہو، یا جاگیردار ہو، جو ہماری رولنگ کلاس ہے، اس رولنگ کلاس نے اسلام کے ساتھ، شریعت کے ساتھ، قرآن کے ساتھ، سنت کے ساتھ، ساٹھ سال سے جو منفی اور مضحکہ خیز طرزعمل اختیار کیا ہوا ہے، اس کا ری ایکشن ہے یہ تشدد۔ تشدد کرنے والے اگر مجرم ہیں تو تشدد کا راستہ دینے والے ان سے بڑے مجرم ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ میں آخری جملہ وہی کہوں گا، ہم پُر امن ذریعے سے، دستوری ذریعے سے، سیاسی ذریعے سے، رائے عامہ کی قوت سے، پبلک قوت سے، اس ملک میں اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں اور ان شاء اللہ حاصل کریں گے۔ ان شاء اللہ یہ منزل ہم حاصل کریں گے۔ ہماری کمزوریاں ہیں، بہت سی کمزوریاں ہیں، میں اس طرف جاؤں گا تو لمبی بات ہو جائے گی، لیکن میں اسٹیبلشمنٹ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں، آپ کے آج کے اس فورم کی مناسبت سے، اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرو، پہلے بھی تمہاری وجہ سے یہ خرابیاں پیدا ہوئی ہیں، اور آئندہ مزید ضد کرو گے تو یہ خرابیاں کم نہیں ہوں گی، زیادہ ہوں گی، اور ذمہ دار تم ہو گے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔