Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پاکستانی خواتین کیلئے علامہ اقبالؒ کا پیغام

(گزشتہ سے پیوستہ)
عورت کے تہذیبی کردار کا ذکر کیا جائے تو عورت کی شخصیت میں آفتابِ معرفت اور مہتابِ محبت یکساں جھلکتا ہے۔وہ گھر کی خاموش عبادت گاہ بھی ہے اور معاشرت کی روشن منڈیروں پر جلتا ہوا چراغ بھی۔ عورت قوم کی وہ آنکھ ہے۔ جو کھلی رہے تو قوم جاگتی رہتی ہے۔ اقبال کے نزدیک بھی عورت قوم کی بصیرت ہے اس کی تربیت، اس کا وقار، اس کا تہذیبی شعور، سب اسی سے وابستہ ہے۔اورجہاں تک شائستگی عورت کی ادبی شناخت کاتعلق ہے توعورت کی تحریر، اس کے کردار اور اس کی ادبی فطانت کا زمانہ معترف ہے۔ اور یہی باحیاعورت زبان کی پاکیزگی کی نگہبان ہے۔ اقبال اسی زبان کی لطافت میں عورت کو علمی اور تہذیبی وقار عطا کرتے ہیں۔ پاکستانی عورت کے لیے اقبال کا پیغام یہ بھی ہے کہ وہ اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے فکری ورثے کی محافظ ہو کہ یہی اس کی اصل طاقت ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں عورت خاندان کی امین اور معاشرتی توازن کی روح ہے۔ عورت اگر سنور جائے تو معاشرہ سنور جاتا ہے۔ اقبال کا بھی یہی زاویہ ہے لیکن وہ عورت کی شخصیت میں تحرک اور فعال کردار کا اضافہ کرتے ہیں۔یوں سمجھئے کہ عورت تہذیب کی روشنی،زبان کی پاکیزگی،اخلاقی مرکزیت کا درجہ رکھتی ہے اوراقبال تو عورت کو خودی کا آفتاب عطا کرتے ہیں۔یہ چاروں زاویے مل کر پاکستانی عورت کے مستقبل کا نقشہ کھینچتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آج کی بالعموم پاکستانی اوربالخصوص بلوچستان کی عورت اقبال سے کیسے رہنمائی لے؟
جب ہم افغانستان سے ملحق و سرزمینِ بلوچستان کی زمینی ٹھوس حقیقت کی طرف دیکھتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں عورت کے لیے فکری اور فزیکلی دونوں سطح پر چیلنجز کم نہیں ہیں۔ بلوچستان کم خواندگی کی شرح والے صوبوں میں ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق، صوبے میں خواتین کا خواندگی تناسب بہت کم ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ صوبے کی خواتین میں مجموعی خواندگی صرف کے قریب ہے اور دیہی علاقوں میں بہت سی خواتین تعلیم سے محروم ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق لڑکیاں اسکول چھوڑ دیتی ہیں۔ یہ وہ بنیاد ہے جہاں اقبال کا پیغام خودی اور باادبِ فکر اہمیت اختیار کرتا ہے کیونکہ فکری شعور اور خودی کی وہ قوت ہے جو تعلیم کے راستے کو نہ صرف کھول سکتی ہے بلکہ اس سے ایک مستقل پیمانہ قائم کر سکتی ہے ۔ اسی طرح بلوچستان میں ملک کے اورصوبوں کی طرح ماں، بچے جیسے سماجی مسائل بھی ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ بچوں کی ولادت کے موقع پر298 مائیں خالقِ حقیقی سے جاملتی ہیں۔اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کنٹرول برائے ولادت ضروریات کا حصہ پورا نہیں ہوا۔
سماجی ساخت میں اب بھی روایتی طاقتوں کا اثر ہے، اور عورتوں کو انصاف حاصل کرنے میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔ رپورٹ سییہ بھی پتہ چلاہے کہ گھریلو تشدد اور صنفی بنیاد پر تشدد کا مسئلہ نمایاں ہے۔یہ وہ حقیقتیں ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اقبال کی خودی صرف فکری نعرہ نہیں، بلکہ عملی شعور کی بنیاد ہے عورت کو خود ادراک اور خود وقار دیا جائے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کو تحفظ فراہم کرے۔
تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان میں عورتوں کی سیاسی شمولیت اورشرکت نہ صرف محدود ہے بلکہ بہت کم نمائندگی پائی جاتی ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ خواتین کی سرکاری ملازمت اور بااثر عہدوں پر نمائندگی بہت کم ہے۔
/bcsw.balochistan.gov.pkکی رپورٹ کے مطابق، بلوچستان میں خواتین کے ووٹر ٹرن آٹ نسبتا کم ہے اور ان کی سیاسی سرگرمی محدود ہے۔ تاہم، صوبائی حکومت کی جانب سے کچھ مثبت اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں حال ہی میں ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ ہنر مند خواتین کو قرضے دیے جائیں اور کاروبار کا موقع ملے۔
قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے لیگل ایڈ ڈیسک اور جینڈر ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔ یہ تمام پہلو یہ واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان کی عورت ترقی کی راہ میں ایک اہم ستون ہے، لیکن اسے رکاوٹوں کی زنجیروں سے آزاد ہونے کی راہ بھی درکار ہے۔
اگر ہم علامہ اقبال کے ادبی اسلوب کی بات کریں تو وہ ہمیں سبق ملتاہے کہ عورت کو وہ عزت اور مقام دینا چاہیے جس سے اس کی شخصیت نکھرے اور اس کی خودی مستحکم ہو۔ ان کے کلام میں ہمیں فکری تمکنت اور تہذیبی آہنگ ملتی ہے، جو تصورِ خودی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اگرمیں امتیازی لفاظی اور تمثیلات کاذکرکروں تو عورت کا مقام صرف مادی نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی ہے۔ اقبال عورت کی کردار سازی اور خدمات کو اسلامی اخلاق اور سماجی عدل کی رو سے دیکھنا چاہتے ہیں۔اقبال کے فکری امتزاج میں وہ روح ہے جو بلوچستان کی عورت کو نہ صرف ایک مقام دیتی ہے بلکہ اقبال عورت کوایک عظیم الشان ذمہ داری کاحق دیتاہے اورتہذیبی بیداری، خودی کی قوت، اور تعمیرِ ملت میں شرکت کی دعوت دیتاہے۔ان مشکلات کے حل کیلئے ضروری ہے کہ ہماری خواتین اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ تعلیم کو زیور نہیں، سرمایہ سمجھیں۔اپنی خودی کو پہچانیںوہی آپ کی اصل طاقت ہے۔ اپنی صلاحیتیں قوم کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں۔اپنی نسوانی عظمت کا تحفظ کریں، اسے کمزوری نہ سمجھیں۔ ٹیکنالوجی، سائنس اور نئی دنیا کے تقاضوں کو سمجھیں۔گھر، معاشرہ اور قوم تینوں محاذوں پر توازن قائم رکھیں۔
خواتین و حضرات! اقبال کا پیغام ہمیں صرف ماضی کی شاعری کا خوبصورت گوشہ نہیں دیتا، بلکہ آج کے بلوچستان کو روشنی کی راہ دکھاتا ہے۔ بلوچستان کی عورت، اگر وہ خودی کی روشنی کو سمجھ لے، تعلیم سے مزین ہو، اور پیش رفت کی آبیاری میں اپنا حصہ ڈالے، تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ پورے صوبے اور پورے پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
یہ ہمارا مشترکہ فریضہ ہے پالیسی سازوں، اہلِ علم، مذہبی رہنماں اور عوامِ عام کا کہ ہم اقبال کے اس پیغام کو حقیقت میں تبدیل کریں۔ بلوچ خواتین وہ نہ ختم ہونے والی روشنی ہیں جن کی خودی اور عزت ہمیں ایک بہتر، منصف اور ترقی پسند بلوچستان کی ضمانت دے سکتی ہے۔ پاکستان کا مستقبل صرف مردوں کے ہاتھ میں نہیں، یہ ماں کی گودوں میں، بیٹیوں کی امیدوں میں اور بہنوں کی دعاں میں بھی پوشیدہ ہے۔
اقبال کا پیغام یہ ہے کہ پاکستانی عورت باوقارہو،باشعورہو،بیدارہو اور تعمیرِ ملت کی راہ میں اپنا کردار نبھائے۔ قوموں کی تعمیر میں عورت کی شرکت محض ایک سماجی تقاضا نہیں یہ تاریخ کا اصول ہے۔اقبال نے کہا تھا:
اگر ہو عشق تو ہے کافر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
آج ہماری پاکستانی عورت کو اسی عشق عشقِ وطن، عشقِ دین، عشقِ کردار اور عشقِ خودی کی ضرورت ہے۔ تبھی پاکستان وہ بن سکے گا جو اقبال کا خواب تھا،روشن، مضبوط، وقار سے بھرپور، اور اپنی تہذیب کا امین۔
اللہ کرے کہ ہماری نسلِ نو کی خواتین اقبال کے پیغام کو سمجھیں، اسے اپنائیں، اور پاکستان کی پیشانی پر وہ روشن صبح لکھیں جس کا وعدہ تاریخِ امتِ مسلمہ نے کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس راہ پر اور مزید بیداری کی توفیق دے، تاکہ ہم نہ صرف خواب دیکھیں بلکہ انہیں حقیقت میں ڈھال سکیں۔
والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ۔

یہ بھی پڑھیں