Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

حرفِ اقبالؒ اور حِسِ بلوچستان

(گزشتہ سے پیوستہ)
آج کی اس عالمی کانفرنس سے ہمیں یہ صدا بلند کرنی ہے کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہیں، بلکہ اسلامی تمدن کا دفاعی مورچہ ہے۔ ہم اگر بیدار رہے، تو کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔ قرآن کہتا ہے:یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اور اقبالؒ نے اسی کی تفسیر کی
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کر دے
پس، آج اس عالمی کانفرنس سے ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان محض ایک ملک نہیں بلکہ عصرِ حاضر میں اسلام کی عزت و وقار کی علامت ہے جس کا دفاع تلوار سے پہلے تدبر، اتحاد، ایمان اور علم سے ہوتا ہے۔
اقبالؒ کا آفاقی پیغام تو افغان بھائیوں کے لئےبھی ہے، پاکستان اور افغانستان دو جسم نہیں، ایک ہی روح کے دو سانچے ہیں۔ یہ دونوں خطے اسلامی غیرت،جہاد اور عزتِ ایمان کے محور ہیں۔یاد کریں جب داؤد کا تختہ الٹ کر چند افغان وطن فروشوں نےاپنی مدد کے لئے سوویت یونین کو افغانستان پر یلغار کی دعوت دی تو پاکستان نے چالیس برس تک افغان بھائیوں کو اپنےدل میں جگہ دی۔ لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، ان کے زخموں پر مرہم رکھا۔یہ سب صرف ہمسائیگی نہیں تھی، یہ ایمان کا رشتہ تھا۔ذرا وہ زمانہ بھی یاد کریں کہ جب امریکا نے نائن الیون کے موقع پر افغانستان میں جارحیت کی تو امریکا نے جواب میں پاکستان کو پتھر کے دور میں بھیجنے کی دھمکی دیکر مجبور کیا کہ وہ اس کا ساتھ دے لیکن پاکستان نے اگر دشمن کی زبان میں امریکا کا ہماری سرزمین استعمال کرنے کا طعنہ دیا جا رہا ہے تو کیا وہ ہمارے مسلم برادر ملک قطر کا کردار بھی فراموش کر دیں گے جہاں باقاعدہ طور پر ان کو دفتر بنانے کی اجازت فراہم کی گئی اور امریکی انخلا کا معاہدہ بھی دوحہ قطر میں ہوا جہاں امریکا کا سب سے بڑا فضائی اڈہ العدید ہےجہاں سے افغانستان پر خطرناک فضائی حملے بھی کئے گئے۔افغانستان سے امریکی انخلا میں پاکستان کا تاریخی کردار تو آپ فرامو ش کر ہی رہے ہیں لیکن افغان دوستوں کو قطر سے کوئی شکائت نہیں اور آج ایک مرتبہ پھر انہوں نے دوحہ قطر کو ہی پاکستان کے ساتھ مصالحتی اور امن مذاکرات کے لئے منتخب کیا اور افغانستان میں نیٹو فورسز میں ترک افوج بھی شامل تھی لیکن ترکی سے بھی ان کو کوئی گلہ نہیں۔۔۔۔۔کیا وجہ ہےکہ لاکھوں افغان افراد کی میزبانی کے ساتھ ساتھ کئی عسکری رازدانی کے باوجود پاکستان سے ان کو گلہ ہے؟
اور آج لندن میں کئی میرے افغان دوستوں کو جب پتہ چلا کہ مجھے اقبالؒ کی اس عالمی کانفرنس میں شمولیت کی سعادت مل رہی ہے تو انہوں نے بڑی دلسوزی کے ساتھ یہ پیغام دیا اور گواہی دی کہ گزشتہ 40 برس سے پاکستان اپنے افغان بھائیوں کی میزبانی کر رہا ہے، ہم کیسے بھول جائیں کہ پاکستانی قوم نےاپنا رزق بانٹا، اپنے دروازے کھولے، اپنے شہروں کو پناہ گاہ بنایا۔ یہ صرف انسانی خدمت نہیں بلکہ اسلامی اخوت کا وہ مظہر ہے جس کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
کیا وہ بھول گئے جب ملا عمر نے کہا تھا کہ ہم قیامت تک پاکستان کے احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتے،پاکستان کا جہاں پسینہ گرے گا ،وہاں ہم اپنا خون بہائیں گے۔ اور مجھے بطور کشمیری ملا عمر کا وہ وجدانی خطبہ یاد ہےجب انہوں نےمظلوم، مجبوراور مقہور کشمیریوں کو پیغام دیا تھا کہ ہم جلد آپ کو ہندوستان کی ظالم قابض فورسز سے آزادی دلوانے کے لئے آئیں گے۔ملا عمرکے تو یہ الفاظ تاریخ میں ایک عہد بن کر ثبت ہوگئے ہیں۔اس وقت افغانستان کے موجودہ رہنما ملاہیبت 20 سال کے نوجوان اور افغانستان کا وزیردفاع ملا یعقوب ان کا بیٹا پانچ سال کاان کے پہلو میں بیٹھے یہ خطاب سن رہے تھے۔ مجھے یہ بتایاجائے کہ ملا متقی کےحالیہ دورہ ہند کے موقع پر ان کے پاکستان اور کشمیر کے بارے میں بیانات پر پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دلوں پرجوگزری، سو گزری، ملا عمر کی روح تو عالم بالا میں تڑپ گئی ہوگی۔
مگر افسوس آج وہی سرزمین جس نےکبھی روس کےمقابلے میں جب جہادکیا تویہی پاکستان ان کےساتھ ان کی پشت پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح قربانیاں دے رہا تھا ، لاکھوں افغانوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دے رکھی تھی، ان کی عصمتوں کا اپنی جانوں پر کھیل کر پہرہ دے رہا تھا اور امریکی جارحیت کے دوران بھی پاکستانی قوم نے میزبانی اور قربانیوں سے دریغ نہیں کیا مگر آج وہی سرزمین جو کبھی جہاد کی علامت تھی، ٹی ٹی پی کی پناہ گاہ بن چکی ہے۔ یہ زخم صرف سیاسی نہیں،اخلاقی اور ایمانی زوال کی علامت ہے یعنی جب دین کو قوم پر قربان کیا جائے، تو ایمان کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے۔ اے افغان مسلمان،اقبالؒ تم سے کہتا ہے:تمہارے کوہِ ہندوکش کے نیچے جو لہو بہہ رہا ہے، وہ اسلامی اخوت کا نہیں بلکہ امت کی تقسیم کا لہو ہے۔ آج یہی میزبان بڑی دلسوزی کے ساتھ سوال کر رہےہیں کہ کیوں آپ کی سرزمین اب دشمنانِ اسلام کے لیے پناہ گاہ بن چکی ہے؟ٹی ٹی پی فتنہ الخوارج اور بلوچستان میں فتنہ الہندجیسے گروہ جو دراصل اسلام دشمن قوتوں کے آلہ کار ہیں،افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔ اقبالؒ اگر آج زندہ ہوتے، تو شاید یہی کہتے:
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
یہ شعر کوئی طعنہ نہیں بلکہ دردِ امت کی صدائے بازگشت ہے۔ اقبالؒ نے افغانوں میں اسلامی حریت کی روح دیکھی تھی۔وہ کہتا تھا کہ افغان اگر بیدار ہوں تو پوری امت بیدار ہو سکتی ہےلیکن اگر وہ دشمن کے فریب میں آ جائیں،تو ان کی تلوار اسلام کے بجائے اپنے ہی بھائی کے خون میں تر ہو جائے گی۔
بلوچستان سے،اس سرزمینِ وفا سے،افغان بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان تمہارا دشمن نہیں، تمہارا محافظ ہے۔ہم تمہارے ایمان کے ساتھی ہیں، لیکن اگر تم نے اپنی زمین دشمنوں کے ہاتھ بیچ دی،تو تمہاری نسلیں تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ تمہاری غیرت اگر بیدار ہو جائے تو تمہارے پاس سب کچھ ہے، لیکن اگر تم نے خودی کھو دی، تو سب کچھ خاک ہو جائے گا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں