Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

بخاری شریف کے چند امتیازات

بخاری شریف علم حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے جسے ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کہا جاتا ہے، حدیث نبویؐ کا علم بہت مہتم بالشان علم ہے، جسے حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے تمام علوم دینیہ کی اصل اور اساس کہا ہے، اس لیے کہ تمام علوم دینیہ کے چشمے اسی سے پھوٹتے ہیں حتٰی کہ قرآن کریم بھی ہمیں حدیث نبویؐ کے ذریعے ملا ہے۔ قرآن کریم کا معنٰی و مفہوم تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں مگر ہمیں تو قرآن کریم کے الفاظ بھی آنحضرتؐ کے ارشادات کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں، اور جناب رسول اللہ کے ارشادات و فرمودات پر ایمان لائے بغیر ہمارا قرآن کریم کے الفاظ تک پہنچنا ہی ممکن نہیں ہے۔ اس لیے حدیث نبویؐ تمام علوم دینیہ کی اساس اور سرچشمہ ہے اور اسے پورے اہتمام توجہ اور دلجمعی کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
اس کے بعد بخاری شریف کے بارے میں چند باتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ بخاری شریف کی وہ خصوصیات اور امتیازات کیا ہیں جنہوں نے اسے حدیث کی تمام کتابوں سے ممتاز کر دیا ہے اور اسے علمی حلقوں میں اس قدر قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں اساتذہ اور طلبہ سے میری گزارش ہوتی ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بخاری شریف کے تراجم ابواب پر مستقل رسالہ لکھا ہے جو ہمارے ہاں بخاری شریف کے متداول نسخوں میں موجود ہے۔ اس کی ابتدا میں حضرت شاہ صاحبؒ کا ایک صفحہ کا مقدمہ ہے جس کے بارے میں ان کا ارشاد ہے کہ بخاری شریف کو جو لوگ سمجھ کر پڑھنا چاہتے ہیں انہیں یہ مقدمہ حفظ کر لینا چاہیے۔ چنانچہ اساتذہ سے میری گزارش ہے کہ اگر حفظ نہ بھی ہو سکے تو کم از کم یہ مقدمہ بخاری شریف کے طلبہ کو سبقًا سبقًا ضرور پڑھا دینا چاہیے، اس میں حضرت شاہ صاحبؒ نے بخاری شریف کے بہت سے امتیازات کا ذکر کیا ہے جن میں سے تین چار کا تذکرہ میں اس وقت مناسب سمجھتا ہوں۔
ایک یہ کہ بخاری شریف سے قبل محدثین کا طریق کار عام طور پر یہ تھا کہ وہ کسی ایک شعبہ کے بارے میں احادیث جمع کرتے تھے، مثلاً حضرت امام مالکؒ نے احکام کے حوالہ سے احادیث جمع کی ہیں، محمد بن اسحاقؒ نے سیرت و مغازی کی روایات کو مرتب کیا ہے، حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ نے زہد و رقائق کے بارے میں روایات منضبط فرمائی ہیں اور ابن جریجؒ نے تفسیری روایات اکٹھی کی ہیں۔ مگر امام بخاریؒ نے تمام فنون کی روایات کو یکجا کر دیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ’’الجامع‘‘ کہا جاتا ہے کہ اس میں تفسیر، سیرت، عقائد، مغازی، احکام، تاریخ، اخلاق، معاملات اور دیگر تمام شعبوں کے بارے میں روایات انہوں نے مرتب کر دی ہیں جس سے زندگی کے کم و بیش ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی روایات بخاری شریف میں مل جاتی ہیں۔
بخاری شریف کا دوسرا امتیاز یہ ہے کہ اس سے قبل پیشتر محدثین روایات بیان کرنے میں صحت کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے تھے اور سند کے بیان کے ساتھ ہر طرح کی روایات بیان کر دیتے تھے، جس سے روایت کی جانچ پڑتال کی ذمہ داری قاری پر آ جاتی تھی کہ وہ سند کو دیکھ کر روایات کا درجہ خود طے کر لے۔ یہ بات اہل علم کے حلقہ میں تو ٹھیک ہے مگر عوام کے لیے موزوں نہیں ہے، اس لیے امام بخاریؒ نے روایت کی صحت کا کڑا معیار اور اس کے لیے مضبوط اصول طے کر کے اس بات کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ وہ جو روایت اس کتاب میں نقل کریں گے وہ ان کے بیان کردہ اصول کے مطابق بالکل صحیح ہو گی اور اسے بلا تامل قبول کیا جا سکتا ہے۔
تیسرا امتیاز اس کتاب کا یہ ہے کہ اس سے قبل عام محدثین کا اسلوب یہ رہا ہے کہ وہ اپنی کتابوں میں مرفوع، موقوف، مسند، منقطع ہر قسم کی روایات اور ان کے ساتھ آثار صحابہؓ و تابعینؒ کو یکجا بیان کر دیتے تھے، مگر امام بخاریؒ نے ان میں سے مسند اور مرفوع روایات کو چھانٹ کر الگ پیش کر دیا ہے اور ان کے ساتھ اگر کسی جگہ موقوف روایات یا آثار کا ذکر کیا ہے تو شاہد اور تابع کے طور پر اسے نقل کیا ہے، اصل روایات مسند اور مرفوع ہی پیش کی ہیں۔ اور اسی مناسبت سے اس کا نام الجامع المسند الصحیح رکھا گیا ہے۔
بخاری شریف کا چوتھا اور سب سے اہم امتیاز حضرت امام بخاریؒ کا اجتہاد و استنباط ہے جو ان کے تراجم ابواب کی صورت میں ہے اور ان سے امام بخاریؒ کی اجتہادی شان جھلکتی ہے۔ امام بخاریؒ کے فقہی مذہب کے بارے میں زیادہ قرین قیاس قول یہ ہے کہ وہ خود مجتہد مطلق تھے، اگرچہ دیگر بہت سے مجتہدین مطلق کی طرح ان کی فقہ کی ترویج نہیں ہوئی مگر ان کا اجتہادی مرتبہ و مقام یہی ہے، اور انہوں نے ایک ایک حدیث سے کئی کئی مسائل مستنبط کر کے ان پر جو عنوانات قائم کیے ہیں ان سے ان کے اجتہادی مقام کی بلندی معلوم ہوتی ہے۔ بخاری شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں پڑھنے اور سمجھنے کی اصل بات حدیث سے ترجمۃ الباب کی مناسبت ہے کیونکہ یہ مناسبت بعض اوقات اتنی دور کی ہوتی ہے کہ اس کے لیے اچھی خاصی ذہنی ورزش کرنا پڑ جاتی ہے۔ ہمارے استاذ محترم اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے جو شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد ہیں، ایک بار حضرت مدنیؒ کے حوالہ سے ذکر فرمایا کہ بعض اوقات امام بخاریؒ کے بیان کردہ ترجمۃ الباب اور اس کے تحت لائی گئی حدیث میں مناسبت اس طرز کی ہوتی ہے جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے کہ
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں