Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

بخاری شریف کے چند امتیازات

(گزشتہ سے پیوستہ)
شاعر کا مطلب یہ ہے کہ شہد کی مکھی باغ میں جائے گی، پھولوں کا رس چوسے گی، اس سے شہد بنائے گی، پھر چھتہ بنا کر شہد اس میں نکالے گی، چھتے سے موم نکلے گی، اس سے موم بتی بنے گی، یہ موم بتی جلے گی تو پروانے آئیں گے اور اس کی آگ میں جل جائیں گے۔ اس لیے پروانے کو جلنے سے بچانے کے لیے بہتر ہے کہ مکھی کو باغ میں جانے ہی نہ دو تاکہ نہ وہ پھولوں کا رس چوسے، نہ شہد بنائے، نہ چھتہ بنے، نہ موم نکلے، نہ موم بتی بنے، نہ جلے اور نہ پروانے کی موت ہو۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ بسا اوقات امتحان اور آزمائش کے لیے بھی دور دراز کی مناسبت والا عنوان کسی روایت پر قائم فرما دیتے ہیں تاکہ پڑھنے والوں کی ذہانت اور قابلیت کا اندازہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ہی چونکہ امام بخاریؒ کا ذوق ہے کہ وہ ایک ایک حدیث سے کئی کئی مسائل مستنبط کرتے ہیں اور پھر مختلف ابواب میں ان کی مناسبت والے جملے نقل کرتے ہیں، اس لیے بسا اوقات بخاری شریف کی بعض روایات کو یکجا تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ایک روایت کو جمع کرنے کے لیے کئی ابواب کی ورق گردانی کرنا پڑتی ہے۔ بہرحال یہی بخاری شریف کا کمال اور اس کا حسن ہے اور اس عظیم کتاب کے پڑھنے پڑھانے والوں کو اس کے امتیازات اور خصوصیات کو ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہیے۔
اس کے بعد اب آتے ہیں بخاری شریف کے سبق کے آغاز کی طرف جس کا عام طور پر طریقہ یہ ہے کہ اس کی ابتدائی حدیث پڑھی جاتی ہے اور اس کے بارے میں دو چار ضروری باتوں کے بعد دعا ہوتی ہے۔ میں اس کے مطابق آپ طلبہ میں سے کسی سے یہ روایت سنوں گا لیکن اس سے قبل یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حدیث کی روایت کے دو طریقے محدثین کے ہاں مروج چلے آرہے ہیں، (۱) ایک یہ کہ شاگرد حدیث پڑھتا ہے اور استاذ سنتا ہے، ہمارے ہاں عام طور پر یہی طریقہ رائج ہے، (۲) لیکن دوسرا طریقہ یہ ہے کہ استاذ حدیث پڑھتا ہے اور شاگرد سنتے ہیں، یہ طریقہ بھی محدثین میں رائج رہا ہے۔
اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام مالکؒ کا طریقہ یہ تھا کہ ان کے سامنے سینکڑوں تلامذہ کی مجلس میں ایک شاگرد روایت پڑھتا تھا اور امام صاحبؒ کے ساتھ دیگر تلامذہ بھی سنتے تھے مگر قاضی عیاضؒ نے ’’ترتیب المدارک‘‘ میں لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے ایک شاگرد ہشام بن عمارؒ کو ایک دن شوق ہوا کہ حضرت استاذ سے احادیث سنیں جس کی انہوں نے استاد محترم سے فرمائش کر دی، امام صاحبؒ نے انکار کیا تو اس نے پھر فرمائش کی جس پر امام مالکؒ نے ہشام بن عمارؒ کو دوسرے شاگرد سے سزا کے طور پر پندرہ چھڑیاں لگوا دیں۔ بعد میں امام صاحبؒ کو خیال آیا کہ چھڑیوں کی یہ سزا نہیں دینی چاہیے تھی تو ہشام بن عمارؒ سے معذرت خواہی کی مگر ہشامؒ نے معذرت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ امام مالکؒ نے دوبارہ بات کی تو ہشام بن عمارؒ نے شرط لگا دی کہ اگر آپ پندرہ چھڑیوں کے عوض مجھے پندرہ احادیث سنا دیں تو میں آپ کو پندرہ چھڑیوں کی یہ سزا معاف کر دوں گا۔ چنانچہ امام مالکؒ نے ہشام بن عمارؒ کو پندرہ حدیثیں سنائیں، اس پر ہشام بن عمارؒ نے گزارش کی کہ میں نے یہ طریق کار آپ سے حدیثیں سننے کے لیے اختیار کیا ہے، اس لیے میں اس بات کے لیے تیار ہوں کہ آپ مجھے چھڑیاں مارتے جائیں اور ہر چھڑی کے عوض ایک حدیث سناتے جائیں۔
قاضی عیاضؒ نے ایک اور دلچسپ واقعہ بھی لکھا ہے کہ امام مالکؒ جب اپنی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تھے تو آپ کے پہلو میں پردے کے پیچھے ایک خاتون محدثہ بیٹھتی تھی جس کا کام یہ ہوتا تھا کہ اگر سبق کے دوران حدیث پڑھنے والے نے کوئی غلطی کر دی ہے اور امام مالکؒ کی اس طرف توجہ نہیں ہوئی تو وہ خاتون محدثہ تپائی پر ہاتھ مار کر خبردار کرتی تھی کہ غلطی ہو گئی ہے۔ اس پر امام مالکؒ شاگرد سے وہ حدیث دوبارہ پڑھواتے اور غلطی چیک ہو جاتی۔ یہ خاتون محدثہ جو استاذ اور شاگرد دنوں کو چیک کرنے کے لیے پردے کے پیچھے بیٹھا کرتی تھی امام مالکؒ کی اپنی بیٹی تھیں، جو اس درجہ کی محدثہ تھیں کہ استاذ اور شاگرد دونوں کو چیک کیا کرتی تھیں۔ قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں کہ امام مالکؒ کا بیٹا پڑھ نہیں سکا تھا اس لیے جب کبھی ان کا بیٹا مجلس کے سامنے سے گزرتا تو امام مالکؒ اس کی طرف اشارہ کر کے حسرت سے کہا کرتے تھے کہ دیکھو وہ میرا بیٹا ہے اور یہ میری بیٹی ہے۔
علم حدیث میں عورتوں نے بھی بہت کمال حاصل کیا ہے اور بے شمار خواتین نے علم حدیث کی خدمت کی ہے، آکسفورڈ میں ہمارے ایک فاضل دوست مولانا ڈاکٹر محمد اکرم ندوی امت کی محدثات کے حالات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اب تک چھ ہزار کے لگ بھگ محدثات کے حالات جمع کر چکے ہیں جو متعدد ضخیم جلدوں کی صورت میں شائع ہوں گے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حدیث کی روایت کے دونوں طریقے ہیں اور میں آج دونوں طریقوں پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔ ایک روایت آپ کو سناؤں گا اور ایک روایت آپ سے سنوں گا تاکہ دونوں طریقوں پر ہمارا عمل ہو جائے۔ سنانے کے لیے میں نے جس حدیث کا انتخاب کیا ہے وہ ’’مسلسل بالأولیۃ‘‘ کے عنوان سے معروف ہے مگر اس سے قبل اپنی حدیث کی سند کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں، بحمد اللہ تعالیٰ مجھے مختلف شیوخ سے روایت حدیث کی اجازت حاصل ہے۔
میرے حدیث کے سب سے بڑے استاذ میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم ہیں جن سے میں نے بخاری شریف پڑھی ہے، وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد ہیں۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں