(گزشتہ سے پیوستہ)
دوسرے بڑے استاذ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم ہیں جن سے میں نے مسلم شریف پڑھی ہے، وہ حضرت مدنیؒ اور حضرت مولانا ابراہیم بلیاویؒ کے شاگرد ہیں۔ تیسرے استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزاری دامت برکاتہم ہیں جن سے میں نے ابوداؤد شریف پڑھی ہے۔ چوتھے استاذ حضرت مولانا جمال احمد بنوی دامت برکاتہم ہیں جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کے شاگرد ہیں۔ صحاح ستہ کی ساری کتابیں میں نے انہی اساتذہ سے پڑھی ہیں اور ان کی وساطت سے مجھے ہندوستان کے تین بڑے مراکز علماء فرنگی محل، دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم سہارنپور سے بالواسطہ تلمذ کا شرف حاصل ہے۔
جبکہ ان کے علاوہ میرے حدیث کے شیوخ میں درج ذیل اکابر بھی شامل ہیں۔ (۱) مکہ مکرمہ میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے شافعی المذہب محدث گزرے ہیں جو اپنے دور کے مسند العصر تھے الشیخ المحدث محمد یاسین الفادانیؒ ان کی خدمت میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاذ مولانا سیف الرحمن مکی کے ہمراہ مجھے حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت شیخؒ نے ہمیں متعدد سلسلات سنائیں جن میں وہ مسلسل بالأولیۃ بھی ہے جو ابھی میں آپ کے سامنے پڑھوں گا، حضرت شیخؒ نے ہمیں زبانی اور تحریری طور پر اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت دی۔ (۲) شام کے معروف محقق اور حنفی محدث الشیخ المحدث عبد الفتاح ابو غدۃؒ کی خدمت میں مجھے لندن میں مولانا عیسٰی منصوری اور مولانا محمد اکرم ندوی کے ہمراہ حاضری کا شرف حاصل ہوا،۔ انہوں نے امام بخاریؒ کی ’’الأدب المفرد‘‘ کی ابتدائی چند روایات مجھ سے سنیں اور اپنی تمام اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔ (۳) جبکہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مجھے تحریری طور پر اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی ہے، اس کے بعد میں آپ کے سامنے مسلسل بالأولیۃ روایت پڑھتا ہوں جس میں مجھ سے لے کر حضرت سفیان بن عیینہؒ تک یہ تسلسل موجود ہے کہ ہر شاگرد نے اپنے استاذ سے پہلی روایت یہی سنی ہے، یہ روایت حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’الراحمون یرحمھم الرحمٰن تبارک و تعالیٰ ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء‘‘ رحم کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ رحم فرماتے ہیں، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
یہ روایت پڑھے جانے کے بعد ایک طالب علم نے بخاری شریف کی پہلی روایت پڑھی جس پر کہا کہ آپ نے بخاری شریف کی پہلی روایت پڑھی ہے اس پر بہت سی باتیں تو آپ کے استاذ محترم آپ کو بتائیں گے اور یہ انہی کا حق ہے البتہ دو باتیں بطور اشارہ میں بھی آپ سے عرض کر دیتا ہوں۔
ایک یہ کہ امام بخاریؒ نے ’’بدء الوحی‘‘ سے کتاب کا آغاز کیا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ ہمارے تمام معاملات کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے، اس کے بعد کتاب الایمان ہو گی، پھر کتاب العلم ہو گی، پھر عبادات، معاملات، اخلاق اور دیگر امور کے ابواب ہوں گے۔ امام بخاریؒ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایمان و عقیدہ سے لے کر اخلاق و عادات تک ہمارے سارے معاملات وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں۔ آج کے عالمی ماحول میں یہ بات بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اس لیے کہ آج کی دنیا میں سب سے بڑا جھگڑا ہی یہ ہے کہ کیا انسانی سوسائٹی اپنے فیصلے خود کرنے میں آزاد ہے یا اس کے لیے آسمانی تعلیمات کی پابندی ضروری ہے؟ اس تنازعہ میں دنیا کی اکثر قومیں ایک طرف ہیں جنہوں نے آسمانی تعلیمات کو عملی اور اجتماعی زندگی سے بے دخل کر دیا ہے، جبکہ ہم مسلمان دوسری طرف ہیں جن کا موقف یہ ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں میں آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کے پابند ہیں۔ اس پس منظر میں امام بخاریؒ کا یہ اشارہ بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے ایمان، علم اور عبادت و معاملات کے ابواب سے پہلے بدء الوحی کا باب قائم کر کے بتا دیا ہے کہ ہم مسلمان عقیدہ و علم سمیت ہر معاملہ میں وحی الٰہی سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور اسی کو پوری نسل انسانی کے لیے راہِ نجات سمجھتے ہیں۔
دوسرا اشارہ امام بخاریؒ نے ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ کو پہلی روایت کے طور پر بیان کر کے کیا ہے کہ ایمان و عمل کے ہر معاملہ میں اصل دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ انسان کی نیت کے مطابق مرتب ہوگا۔ نیت کی مثال یوں سمجھ لیجئے جیسے بیج ہوتا ہے، جس چیز کا بیج آپ زمین میں ڈالیں گے پھل بھی اسی کا حاصل کریں گے اور جیسا بیج ہوگا پھل بھی ویسا ہی ہوگا۔ اس طرح امام بخاریؒ ہمیں یہ بات سمجھا رہے ہیں کہ بخاری شریف کے سبق کے آغاز سے قبل اپنی نیتوں کو ٹٹول لو اور ان کی اصلاح کر لو کیونکہ نیت صحیح ہو گی اور اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہو گی تو ثمرہ اس کے مطابق حاصل ہوگا اور اگر خدانخواستہ نیت میں کوئی خرابی ہے تو اچھے سے اچھا عمل بھی بیکار ہو جائے گا۔